امریکی ڈرون کمپنی پاورس کے پاک فوج سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط، ابتدائی آرڈر بھی حاصل

امریکی ڈرون ساز کمپنی پاورس (Powerus) نے پاک فوج کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں، جس میں ڈرونز سے متعلق ابتدائی آرڈر بھی شامل ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاورس کے شریک بانی بریٹ ویلکووچ نے سکیورٹی وجوہات کے باعث معاہدے کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ مفاہمت کی یادداشت بغیر پائلٹ فضائی نظام (Unmanned Aerial Systems) سے متعلق ہے۔

رائٹرز کے مطابق فوجی اور صنعتی استعمال کے لیے فضائی اور بحری ڈرونز فراہم کرنے والی امریکی کمپنی پاورس جلد ہی ایک پبلک ٹریڈڈ کمپنی اوریئس گرین وے ہولڈنگز کے ساتھ ضم ہونے والی ہے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو بیٹوں کی حمایت حاصل ہے۔

دونوں کمپنیوں کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ انضمام کا عمل اکتوبر کے اوائل میں مکمل ہوجائے گا۔

ٹرمپ کے بیٹوں کی اوریئس میں سرمایہ کاری

امریکی ریگولیٹری دستاویزات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ، ’امریکن وینچرز‘ نامی سرمایہ کاری فنڈ کے ذریعے اوریئس گرین وے ہولڈنگز میں حصہ داری رکھتے ہیں۔

پاورس کے بانی اور چیف ایگزیکٹو اینڈریو فاکس نے کہا کہ پاکستان کا نجی دفاعی شعبہ ابھر رہا ہے، تاہم ابھی یہ مکمل طور پر پختہ نہیں ہوا، جس کے باعث امریکی کمپنیوں کے لیے پاکستانی مارکیٹ میں تیزی سے پیش رفت کرنے کے مواقع موجود ہیں۔

کمپنی کے شریک بانی بریٹ ویلکووچ نے کہا کہ پاورس کا مقصد امریکا کی جدید ٹیکنالوجی کو پاکستان کی ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کمپنی پاکستان میں ممکنہ طور پر ٹیکنالوجی کی تیاری کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

ٹرمپ خاندان کے اثر و رسوخ کی قیاس آرائیاں مسترد

اینڈریو فاکس نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ پاورس کی ترقی یا کاروباری مواقع کا تعلق ٹرمپ خاندان کے ساتھ کمپنی کے روابط سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی کو ملنے والے تمام ٹھیکے خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر دیے گئے ہیں اور ٹرمپ خاندان کا پاورس کے کاروباری معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں