پودے خلا میں بھی پہنچ گئے، سائنسدانوں نے افزائش سے متعلق تحقیق شروع کر دی

ہرے بھرے پودے بھی خلا میں پہنچ گئے، جہاں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر سائنسدان پودوں کی افزائش اور بیجوں کی قابلِ کاشت صلاحیت سے متعلق تحقیق کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر مہم 75 کی کمانڈ ناسا کی خلاباز جیسیکا میئر کر رہی ہیں، جنہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر خلا میں اگائے جانے والے پودوں کی تصاویر شیئر کی ہیں۔

جیسیکا میئر نے بتایا کہ مہم 75 کے عملے میں ایک نیا اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ کوئی انسان نہیں بلکہ روسی نسل کے پودے ہیں۔

ان کے مطابق خلائی اسٹیشن پر ریڈ رشین کیل اور وسابی مسٹرڈ کے پودے اگائے جا رہے ہیں، جبکہ خلاباز اپنے فارغ وقت میں ان کی دیکھ بھال بھی کر رہے ہیں۔

خلاباز نے بتایا کہ اس تجربے کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ پودے زمین کے قدرتی ماحول کے بجائے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے کیبن میں موجود منفرد ماحول میں کس طرح نشوونما پاتے ہیں۔

تحقیق کے دوران اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ خلا میں مدار کے اندر طویل عرصے تک ذخیرہ کیے جانے کے بعد بیجوں کی قابلِ کاشت صلاحیت پر کیا اثر پڑتا ہے۔

جیسیکا میئر کا کہنا تھا کہ خلائی اسٹیشن پر پودوں کی موجودگی فطرت سے جڑے رہنے کا احساس دلاتی ہے اور عملے کے لیے کسی حد تک نیچر تھراپی جیسا تجربہ بھی ثابت ہو رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں