کراچی: کراچی پولیس نے منشیات اسمگلنگ کے مقدمے میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف ضمنی چالان عدالت میں جمع کرا دیا، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمہ نے دورانِ تفتیش منشیات کا نیٹ ورک چلانے کا اعتراف کیا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں 2018 میں درج منشیات برآمدگی کیس کی سماعت کے دوران پولیس نے ضمنی چالان پیش کیا۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمہ کا بھائی 26 فروری 2026 کو بری ہو چکا ہے، جبکہ انمول عرف پنکی 2018 سے مفرور تھی۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ بغدادی تھانے میں درج قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار ہو کر جیل میں موجود ہے، جس کے بعد عدالت سے اجازت لے کر جیل میں اس سے تفتیش کی گئی۔
پولیس کی جانب سے جمع کرائے گئے ضمنی چالان میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمہ نے دورانِ تفتیش خود کو منشیات کے مبینہ نیٹ ورک کی سرغنہ قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ 2018 میں میسر علی، ناصر علی اور عین اللہ منشیات لے کر جا رہے تھے، جنہیں اختر کالونی کے علاقے سے پولیس نے گرفتار کیا تھا۔
چالان کے مطابق ملزمہ کا کرمنل ریکارڈ حاصل کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کے خلاف شہر کے مختلف تھانوں میں 21 مقدمات درج ہیں۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں نامزد دو ملزمان میسر علی اور عین اللہ تاحال مفرور ہیں، جبکہ یہ مقدمہ 2018 میں سی ٹی ڈی تھانے میں منشیات برآمدگی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔
عدالت نے ضمنی چالان ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے کیس کی مزید کارروائی آئندہ سماعت تک ملتوی کر دی۔
نوٹ: پولیس نے ضمنی چالان میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ملزمہ نے اعتراف کیا، تاہم عدالت کی جانب سے مقدمے کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں آیا، اس لیے الزامات کا فیصلہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔




