جب کمپیوٹر خود دشمن بن جائے: مصنوعی ذہانت کے دور میں سائبر سکیورٹی کی نئی جنگ

تحریر: سلیم رمضان

جون 2024 میں برطانیہ کے کئی NHS اسپتال ایک بڑے سائبر حملے کی زد میں آ گئے۔ رینسم ویئر کے باعث متعدد طبی خدمات متاثر ہوئیں، آپریشن ملتوی کرنا پڑے اور ہزاروں مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی تھا کہ ڈیجیٹل دور میں سائبر حملے صرف کمپیوٹر سسٹمز ہی نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ بینکنگ، خریداری، تعلیم، صحت اور سرکاری خدمات اب چند کلکس کی دوری پر ہیں۔ لیکن جتنا ہمارا انحصار ڈیجیٹل نظام پر بڑھا ہے، اتنے ہی سائبر حملوں کے خطرات بھی سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ آج جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ کمپیوٹر اسکرینوں کے پیچھے بھی لڑی جا رہی ہیں۔

AI: سہولت بھی، خطرہ بھی

مصنوعی ذہانت نے دنیا کو نئی رفتار دی ہے۔ یہی ٹیکنالوجی ڈاکٹر کی تشخیص بہتر بناتی ہے، کاروبار کو مؤثر بناتی ہے اور صحافیوں کو بڑی مقدار میں موجود ڈیٹا کا تجزیہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مگر دوسری جانب سائبر مجرم بھی اسی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

آج AI کی مدد سے ایسے فشنگ ای میلز، جعلی ویب سائٹس اور ڈیپ فیک ویڈیوز تیار کی جا رہی ہیں جو عام صارف کے لیے پہچاننا مشکل ہو گیا ہے۔ ایک غلط کلک کسی فرد یا ادارے کے لیے بڑے مالی اور سکیورٹی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔

ڈیٹا نئی طاقت بن چکا ہے

آج کے دور میں ڈیٹا سونے اور تیل سے کم قیمتی نہیں۔ بینکنگ معلومات، طبی ریکارڈ، کاروباری منصوبے اور ذاتی معلومات سب کچھ ڈیجیٹل شکل میں محفوظ ہے۔ اسی لیے ہیکرز اب عمارتوں پر نہیں بلکہ ڈیٹا پر حملہ کرتے ہیں۔

رینسم ویئر ایسے ہی حملوں کی ایک مثال ہے، جس میں ہیکرز کسی ادارے کا پورا نظام لاک کر کے اسے بحال کرنے کے بدلے بھاری رقم طلب کرتے ہیں۔

پاکستان کے لیے چیلنج

پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ، ای کامرس اور آن لائن سرکاری خدمات تیزی سے فروغ پا رہی ہیں، لیکن اس کے ساتھ سائبر فراڈ، شناخت کی چوری اور آن لائن دھوکہ دہی کے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مضبوط پاس ورڈ، دو مرحلہ جاتی تصدیق (Two-Factor Authentication)، باقاعدہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹس اور مشکوک لنکس سے اجتناب جیسے معمولی اقدامات بھی بڑے سائبر حملوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

صحافت بھی محفوظ نہیں

ڈیجیٹل صحافت کے دور میں میڈیا ادارے بھی سائبر حملوں کا ہدف بن رہے ہیں۔ ایک صحافی کی ای میل، ذرائع یا حساس دستاویزات ہیک ہونے کی صورت میں صرف ایک خبر نہیں بلکہ کئی افراد کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسی لیے جدید صحافت میں ڈیجیٹل سکیورٹی اب بنیادی مہارت بن چکی ہے۔

مستقبل کی سمت

مصنوعی ذہانت نہ صرف سائبر حملوں کو زیادہ پیچیدہ بنا رہی ہے بلکہ انہی خطرات سے نمٹنے کے لیے نئے دفاعی نظام بھی تیار کر رہی ہے۔ جدید سکیورٹی سسٹمز AI کی مدد سے مشکوک سرگرمیوں کی فوری نشاندہی کر سکتے ہیں، مگر ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانی احتیاط اور تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں