جرمن۔افغان اداکارہ کا نیا تھیٹر شو افغانستان میں خواتین کے حقوق کے بحران کو اجاگر کرے گا

جرمن۔افغان اداکارہ ماریان یار ایڈنبرا فرنج 2026 میں اپنے نئے تھیٹر شو “LANDSFRAU: ہم وطن” کے ذریعے افغانستان میں خواتین کے حقوق، شناخت اور جلاوطنی کے کرب کو منفرد انداز میں پیش کریں گی۔

یہ شو ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ حال ہی میں برطانوی پارلیمنٹ میں بھی افغانستان کے انسانی بحران اور خواتین کے حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شواہد سنے گئے، جہاں بتایا گیا کہ 11 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی برقرار ہے جبکہ خواتین کو مرد سرپرست کے بغیر صحت اور دیگر عوامی خدمات تک رسائی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

“LANDSFRAU: ہم وطن” موسیقی، رقص، شاعری اور مکالمے کا امتزاج ہے، جس میں ماریان یار ایک ایسے افغانستان کی یادوں اور تصور کو اسٹیج پر زندہ کرتی ہیں جہاں وہ خود کبھی جا نہیں سکیں۔ یہ پرفارمنس دور بیٹھ کر اپنے آبائی وطن کو بدلتے دیکھنے کے احساس، یورپ میں محفوظ زندگی گزارنے کے احساسِ جرم اور اپنی شناخت کی تلاش کو موضوع بناتی ہے۔

شو میں خودنوشت انداز اختیار کرتے ہوئے اداکارہ افغان تارکینِ وطن (ڈائسپورا) کی زندگی، خاندانی تاریخ، یادوں، خواہشات اور اندرونی کشمکش کو فنکارانہ انداز میں پیش کرتی ہیں۔ کہانی میں 2021 میں کابل سے مغربی افواج کے انخلا اور طالبان کی واپسی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو بھی نمایاں کیا گیا ہے، جس نے لاکھوں افغان خاندانوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔

ماریان یار اپنی پیشکش میں اس سوال کو بھی اٹھاتی ہیں کہ بیرونِ ملک افغان والدین کی اولاد ہونے کا کیا مطلب ہے، اور ایک ایسے وطن سے تعلق کا احساس کیسے برقرار رکھا جائے جہاں واپسی ممکن نہ ہو۔
اسٹیج پر افغان لوک موسیقی کو جدید الیکٹرانک دھنوں کے ساتھ جوڑا گیا ہے جبکہ روایتی اتن رقص کو ہم عصر رقص کے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ہارمونیم کی دھنوں، شاعری اور بصری اظہار کے امتزاج سے یہ شو ثقافتی ورثے، شناخت اور انسانی جذبات کی ایک منفرد تصویر پیش کرتا ہے۔

ایڈنبرا فرنج 2026 میں پیش کیے جانے والے اس شو کو افغانستان میں خواتین کے حقوق، جنگ، جلاوطنی اور شناخت جیسے اہم موضوعات پر ایک طاقتور فنکارانہ اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

تحریر: آصف رضا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں