شہد کی مکھیاں صرف شہد ہی نہیں بناتیں بلکہ دنیا کی زرعی پیداوار اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں
تحریر: سلیم رمضان
ہر سال 20 مئی کو دنیا بھر میں عالمی یوم شہد کی مکھیاں (World Bee Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد شہد کی مکھیوں اور دیگر جرگ بردار حشرات (Pollinators) کی اہمیت کو اجاگر کرنا، ان کے تحفظ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا اور ماحول دوست اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق شہد کی مکھیاں نہ صرف شہد پیدا کرتی ہیں بلکہ دنیا کی غذائی سلامتی، زرعی پیداوار اور قدرتی ماحولیاتی نظام کے استحکام میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ نے اس دن کو عالمی سطح پر منانے کی منظوری دی تاکہ اس اہم مخلوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کو فروغ دیا جا سکے۔
شہد کی مکھیاں کیوں اہم ہیں؟
شہد کی مکھیاں پھولوں سے رس جمع کرنے کے دوران جرگ ایک پودے سے دوسرے پودے تک منتقل کرتی ہیں، جسے پولینیشن (Pollination) کہا جاتا ہے۔ یہی عمل پھلوں، سبزیوں، دالوں اور تیل دار فصلوں سمیت متعدد زرعی اجناس کی پیداوار کے لیے ضروری ہے۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی تقریباً تین چوتھائی غذائی فصلیں کسی نہ کسی حد تک جرگ بردار حشرات پر انحصار کرتی ہیں، جن میں شہد کی مکھیاں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
غذائی تحفظ میں شہد کی مکھیوں کا کردار
ماہرین کے مطابق اگر شہد کی مکھیوں کی تعداد میں مسلسل کمی آتی رہی تو اس کے اثرات عالمی خوراک کی پیداوار، غذائی تنوع اور زرعی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
سیب، آم، کینو، تربوز، سورج مکھی، بادام اور کئی دیگر پھل و سبزیاں شہد کی مکھیوں کی پولینیشن سے بہتر پیداوار دیتی ہیں، جس سے کسانوں کی آمدنی اور غذائی تحفظ دونوں مضبوط ہوتے ہیں۔
شہد کی مکھیاں کن خطرات سے دوچار ہیں؟
حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں شہد کی مکھیوں کی آبادی میں کمی ایک تشویشناک مسئلہ بن چکی ہے۔
ماہرین اس کی بڑی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلی، زرعی ادویات کا غیر محتاط استعمال، جنگلات کی کٹائی، قدرتی مسکن کی تباہی، فضائی آلودگی اور بیماریوں کو شامل کرتے ہیں۔
ان عوامل کی وجہ سے نہ صرف شہد کی مکھیوں کی افزائش متاثر ہو رہی ہے بلکہ قدرتی ماحولیاتی توازن بھی خطرے میں پڑ رہا ہے۔
پاکستان میں شہد کی پیداوار
پاکستان میں خیبر پختونخوا، پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان شہد کی پیداوار کے اہم علاقے سمجھے جاتے ہیں۔
ملک میں ببول، بیری، سرسوں، سورج مکھی، لیچی، سدر اور دیگر پودوں سے اعلیٰ معیار کا قدرتی شہد حاصل کیا جاتا ہے، جس کی ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں طلب موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جدید مکھی بانی (Beekeeping) کو فروغ دیا جائے تو پاکستان نہ صرف شہد کی پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ زرعی شعبے کو بھی نمایاں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ماحولیات کے لیے کیوں ضروری ہیں؟
شہد کی مکھیاں حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
یہ قدرتی پودوں کی افزائش میں مدد دیتی ہیں، جس سے جنگلات، چراگاہوں اور قدرتی ماحولیاتی نظام کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔ اگر جرگ بردار حشرات کی تعداد کم ہو جائے تو بہت سے پودوں اور ان پر انحصار کرنے والی جنگلی حیات کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ہم کیا کر سکتے ہیں؟
ماہرین ماحولیات کے مطابق ہر فرد شہد کی مکھیوں کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
گھروں اور باغات میں پھولدار پودے لگائیں۔
زرعی زہریلی ادویات کا غیر ضروری استعمال کم کریں۔
جنگلات اور قدرتی سبزہ زاروں کے تحفظ میں حصہ لیں۔
مقامی شہد اور مکھی بانی کے شعبے کی حوصلہ افزائی کریں۔
ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائیں۔
عالمی برادری کی کوششیں
اقوام متحدہ، خوراک و زراعت کی تنظیم (FAO) اور مختلف بین الاقوامی ادارے شہد کی مکھیوں اور دیگر جرگ بردار حشرات کے تحفظ کے لیے آگاہی مہمات، تحقیقی منصوبے اور ماحول دوست زرعی پالیسیوں کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔




