امریکی سفارتخانے نے پاکستان کے زرعی شعبے میں امریکی سرمایہ کاری اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کے امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔
امریکی مشن پاکستان کی جانب سے “خوشحالی” کے موضوع پر منعقدہ ایک ڈائریکٹ لائن ویبینار میں امریکی کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں، پاکستانی حکام اور زرعی شعبے سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔
ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفارتخانے کی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جو مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے اور لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی کمپنیوں کے پاس جدید زرعی مشینری، آبپاشی کے جدید نظام، ڈیجیٹل فارم مینجمنٹ، کولڈ چین لاجسٹکس اور جدید زرعی مہارت موجود ہے، جس سے پاکستان میں زرعی پیداوار بڑھانے اور وسائل کے مؤثر استعمال میں مدد مل سکتی ہے۔
نیٹلی بیکر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امریکی زرعی اور متعلقہ مصنوعات کی برآمدات ڈیڑھ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارت میں مزید اضافے کے روشن امکانات موجود ہیں۔
ویبینار میں شریک پاکستانی نمائندوں نے سویابین، کپاس، بیج اور دیگر زرعی مصنوعات کی درآمدات میں اضافے کے لیے ریگولیٹری اور پالیسی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ زرعی مشینری، کنٹرولڈ ماحول والے گوداموں، فوڈ پروسیسنگ، بیج سازی اور بایو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔
اس موقع پر شرکاء کو پاکستان کے لیے امریکی محکمہ تجارت کے سرٹیفائیڈ ایگریکلچرل ٹیکنالوجیز ٹریڈ مشن کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جو 26 سے 30 اکتوبر تک منعقد ہوگا۔ امریکی ناظم الامور نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کی زرعی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت بھی دی۔
ویبینار کا انعقاد بزنس کونسل فار انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ (BCIU) نے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے، امریکی محکمہ تجارت اور حکومت پاکستان کے اشتراک سے کیا۔

مصنف نے جامعہ گجرات سے صحافت کی تعلیم حاصل کی ہے اخبار کیساتھ ڈیجیٹل صحافت سے منسلک ہیں۔




