بحرالکاہل میں تیزی سے شدت اختیار کرنے والا موسمیاتی نظام ’ایل نینو‘ آنے والے مہینوں میں انتہائی طاقتور شکل اختیار کرسکتا ہے، جس کے باعث دنیا کے مختلف حصوں میں شدید گرمی، خشک سالی اور غیر معمولی بارشوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کے مطابق ایل نینو مضبوط ہو رہا ہے اور 2026 کے آخر میں اپنی شدت کی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتا ہے، جبکہ اس کے موسمی اثرات 2027 تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ WMO نے فروری 2027 تک ایل نینو برقرار رہنے کا امکان تقریباً 100 فیصد قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ بحرالکاہل کے پانیوں کا غیر معمولی طور پر گرم ہونا ایل نینو کی شدت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں میں موسم کے معمول کے انداز متاثر ہوسکتے ہیں۔
انتہائی طاقتور ایل نینو سے شدید موسمی واقعات کا خطرہ
WMO کے مطابق انتہائی طاقتور ایل نینو دنیا کے مختلف حصوں میں بارش اور درجہ حرارت کے معمول کے پیٹرن کو نمایاں طور پر تبدیل کرسکتا ہے، جس سے سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی کے واقعات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
امریکی موسمیاتی اداروں کے ماڈلز بھی 2026 کے آخر اور 2027 کے ابتدائی مہینوں میں طاقتور ایل نینو کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ بعض ماڈلز کے مطابق یہ تاریخی طور پر انتہائی طاقتور ایل نینو واقعات میں شامل ہوسکتا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق ایل نینو کی شدت سے کسی مخصوص ملک یا خطے میں ہونے والے اثرات کا درست اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، کیونکہ اس کے اثرات جغرافیہ، موسم اور دیگر سمندری و فضائی عوامل کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔
پاکستان اور جنوبی ایشیا میں بارشوں پر ممکنہ اثرات
WMO کے مطابق ایل نینو کے دوران دنیا کے مختلف خطوں میں بارشوں کے معمول میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔ رواں سال جولائی سے ستمبر کے دوران بھارتی برصغیر کے بعض علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کا امکان پہلے ہی ظاہر کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں ایل نینو کے اثرات مون سون بارشوں، درجہ حرارت اور زرعی پیداوار پر پڑ سکتے ہیں، تاہم کسی ایک ملک کے لیے مخصوص موسمی صورتحال کا تعین دیگر علاقائی عوامل کو مدنظر رکھے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔
2027 کے گرم ترین سال بننے کا خدشہ
موسمیاتی ماہرین کے مطابق ایل نینو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بننے والے عوامل میں سے ایک ہے۔ WMO نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ طاقتور ایل نینو کے اثرات 2027 تک جاری رہ سکتے ہیں، جس سے عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
امریکی جی ایف ڈی ایل کے ستمبر 2026 کے تجرباتی ماڈلز بھی رواں ایل نینو کو تاریخی طور پر مضبوط قرار دے رہے ہیں، تاہم ماڈلز میں 2027 کے موسم بہار کے بعد غیر یقینی صورتحال بڑھ جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل نینو کے اثرات ہر مرتبہ یکساں نہیں ہوتے، اس لیے کسی مخصوص خطے میں شدید بارش، خشک سالی یا گرمی کی شدت کے بارے میں حتمی پیشگوئی کے لیے تازہ ترین موسمیاتی ڈیٹا اور علاقائی پیشگوئیوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

مصنف نے جامعہ گجرات سے صحافت کی تعلیم حاصل کی ہے اخبار کیساتھ ڈیجیٹل صحافت سے منسلک ہیں۔




