ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال کے دوران صارفین کے ذاتی ڈیٹا اور پرائیویسی سے متعلق اہم سوالات سامنے آگئے۔
ایک حالیہ ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیس بک اور گوگل سمیت بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز صارفین کی آن لائن سرگرمیوں اور ڈیوائسز سے مختلف نوعیت کا ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں، جس میں براؤزنگ ہسٹری، لوکیشن، کانٹیکٹس اور دیگر معلومات شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق مختلف ایپس صارفین سے لوکیشن، کانٹیکٹس، میڈیا فائلز اور مائیکروفون سمیت دیگر سہولیات تک رسائی کی اجازت لیتی ہیں، جو عموماً صارفین ’Accept‘ یا ’Allow‘ کے ذریعے فراہم کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض ڈیجیٹل پلیٹ فارمز صارفین کی سرچ ہسٹری، لوکیشن اور ایپ استعمال کرنے کے طریقوں سے متعلق معلومات محفوظ کرسکتے ہیں، جنہیں الگورتھمز کے ذریعے صارفین کی مختلف ترجیحات کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں صارفین کا ڈیٹا ایک اہم اثاثہ بن چکا ہے، جس کے باعث ذاتی معلومات کے تحفظ اور پرائیویسی کے حقوق سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔




