امریکی استاد کے عطیے سے چینی خاتون نے صحرا کو جنگل میں بدل دیا، 26 سال بعد دوبارہ ملاقات

چین کے ایک بنجر صحرا کو شجرکاری کے ذریعے سرسبز جنگل میں تبدیل کرنے والی چینی خاتون ین یوزین اور امریکی استاد رونالڈ ساکولسکی کی 26 سال بعد دوبارہ ملاقات نے انسان دوستی اور عزم کی ایک متاثر کن داستان رقم کردی۔

1999 میں امریکی شہری اور ریٹائرڈ استاد رونالڈ ساکولسکی چین کے صوبہ ہینان میں شہریوں کو انگریزی پڑھا رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے چینی خاتون ین یوزین کے بارے میں ایک رپورٹ دیکھی اور ان کی جدوجہد سے متاثر ہوکر انہیں 5 ہزار ڈالر کا عطیہ دیا۔

اس وقت ین یوزین کا تعلق چین کے صوبہ شانشی کے ایک غریب گھرانے سے تھا اور ان کی شادی اندرونی منگولیا کے صحرائے ماؤوسے میں مقیم ایک شخص سے ہوئی تھی۔ یہ صحرا چین کے چار بڑے صحراؤں میں شمار ہوتا ہے۔

ین یوزین اور ان کے شوہر نے کئی دہائیاں قبل صحرا میں درخت لگانے کا سلسلہ شروع کیا تاکہ علاقے کو خشک سالی اور صحرائی پھیلاؤ سے بچایا جاسکے۔

1999 میں چینی سرکاری میڈیا ادارے سی سی ٹی وی نے ین یوزین کی جدوجہد پر ایک رپورٹ نشر کی۔ رپورٹ دیکھ کر رونالڈ ساکولسکی متاثر ہوئے اور انہوں نے خاتون کو 5 ہزار ڈالر کا عطیہ دیا، جسے ین یوزین نے مزید بیج خریدنے اور درخت لگانے کے لیے استعمال کیا۔

ین یوزین کے مطابق اس وقت انہوں نے زندگی میں اتنی بڑی رقم کبھی نہیں دیکھی تھی۔ انہوں نے عطیے سے بڑی تعداد میں بیج خریدے اور شجرکاری کا سلسلہ جاری رکھا۔
ان کے بقول جب رونالڈ ساکولسکی پہلی مرتبہ وہاں آئے تو انہوں نے صحرا کی زرد ریت دیکھی اور صورتحال کو دیکھ کر ’ناممکن، ناممکن‘ کہا تھا۔

تاہم 26 برس بعد وہی بیج 50 ہزار سے زائد بڑے درختوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ ین یوزین نے اپنی مسلسل محنت اور شجرکاری کے ذریعے صحرا کے بڑے حصے کو سرسبز علاقے میں تبدیل کردیا۔

رپورٹس کے مطابق آج صحرائے ماؤوسے کا 80 فیصد سے زائد حصہ سبزے سے ڈھک چکا ہے۔

23 اگست کو رونالڈ ساکولسکی چین کے اورڈوس ایئرپورٹ پہنچے، جہاں ین یوزین نے ان کا استقبال کیا۔ 26 سال بعد ملاقات کے موقع پر امریکی استاد جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔

رونالڈ ساکولسکی نے کہا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ دوبارہ ین یوزین سے مل سکیں گے، یہ کسی کرشمے سے کم نہیں۔ ان کے مطابق اس ملاقات نے یہ بھی ثابت کیا کہ مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے سے کیے گئے وعدے پورے کرسکتے ہیں۔

اگلے روز رونالڈ ساکولسکی نے ین یوزین کے تیار کردہ جنگل کا دورہ کیا اور وہاں اگائے جانے والے پھل اور سبزیاں بھی چکھیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر انسان زمین کا خیال رکھے تو زمین بھی اسے انعام دیتی ہے۔ ان کے مطابق چار دہائیوں سے زائد عرصے تک صحرا کے خلاف جدوجہد کرنے والی ین یوزین بالآخر کامیاب ہوگئی ہیں۔

ین یوزین کی خدمات کے اعتراف میں مقامی حکام نے جنگل کا نام ’ساکولسکی فارسٹ‘ رکھا ہے۔ رونالڈ ساکولسکی نے بھی ین یوزین کے ساتھ وہاں ایک درخت لگایا۔
تاہم ین یوزین کا کہنا ہے کہ صحرا کو سرسبز بنانے کے سفر کی انہیں ذاتی قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔ ان کے بقول وہ جنگل کی تو ماں بن گئیں، لیکن اپنے خاندان کے لیے وہ وہ وقت نہیں دے سکیں جو ایک ماں کو دینا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں