تحریر: سلیم رمضان
ایک زمانہ تھا جب خلا کا ذکر آتے ہی ذہن میں صرف راکٹ، خلا باز اور چاند پر اترنے کی تاریخی تصاویر آتی تھیں۔ یہ میدان صرف طاقتور حکومتوں اور خلائی اداروں تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ مگر آج منظر نامہ یکسر بدل چکا ہے۔ اب خلا صرف سائنسی تحقیق یا قومی وقار کی علامت نہیں رہا، بلکہ ایک ایسی صنعت میں تبدیل ہو رہا ہے جس پر دنیا کی بڑی کمپنیاں، سرمایہ کار اور حکومتیں اربوں ڈالر لگا رہی ہیں۔
چند برس پہلے تک یہ تصور کرنا مشکل تھا کہ نجی کمپنیاں راکٹ لانچ کریں گی، سیٹلائٹس کی بڑی تعداد خلا میں بھیجیں گی یا عام شہریوں کے لیے خلائی سفر کی بات کریں گی۔ لیکن آج یہ سب حقیقت کا حصہ ہے۔ خلائی معیشت، جسے Space Economy کہا جاتا ہے، تیزی سے پھیل رہی ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والی دہائیوں میں یہ عالمی معیشت کا ایک اہم ستون بن سکتی ہے۔
خلا کی معیشت آخر ہے کیا؟
سادہ لفظوں میں، خلا سے جڑی ہر وہ معاشی سرگرمی جو کسی نہ کسی شکل میں زمین پر انسانوں کو فائدہ پہنچاتی ہے، خلائی معیشت کا حصہ ہے۔ اس میں صرف راکٹ یا سیٹلائٹس شامل نہیں بلکہ انٹرنیٹ، موسمی پیش گوئی، جی پی ایس، زرعی نگرانی، قدرتی آفات کی پیشگی اطلاع، ٹیلی کمیونیکیشن، دفاعی نظام اور زمین کے مشاہدے کی جدید ٹیکنالوجیز بھی شامل ہیں
آج اگر کوئی کسان موسم کی درست پیش گوئی دیکھ کر فصل کا فیصلہ کرتا ہے، کوئی جہاز محفوظ راستہ اختیار کرتا ہے یا موبائل فون پر نقشے کی مدد سے منزل تلاش کی جاتی ہے، تو ان تمام سہولتوں کے پیچھے کہیں نہ کہیں خلائی ٹیکنالوجی کام کر رہی ہوتی ہے۔
نجی کمپنیاں بدل رہی ہیں کھیل
ماضی میں خلائی مشن تقریباً مکمل طور پر حکومتی اداروں کے ہاتھ میں تھے، لیکن اب نجی شعبہ اس میدان میں غیرمعمولی کردار ادا کر رہا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی نے راکٹ لانچ کرنے کی لاگت کم کی ہے، سیٹلائٹس پہلے سے زیادہ چھوٹے اور مؤثر ہو گئے ہیں، جبکہ سرمایہ کار اس شعبے میں طویل المدتی مواقع دیکھ رہے ہیں۔
اسی تبدیلی نے خلا کو ایک نئی کاروباری منڈی میں بدل دیا ہے، جہاں صرف سائنس دان ہی نہیں بلکہ انجینئرز، سافٹ ویئر ڈویلپرز، ڈیٹا اینالسٹس، سرمایہ کار اور اسٹارٹ اپس بھی اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت نے رفتار مزید بڑھا دی
خلائی شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہزاروں سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ اب AI کی مدد سے چند لمحوں میں ممکن ہو رہا ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے، سیلاب، برفانی تودوں، سمندری تبدیلیوں اور زرعی زمینوں کی نگرانی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ہو چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت خلائی مشنز کو زیادہ خودکار، محفوظ اور کم خرچ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
پاکستان کے لیے اس میں کیا سبق ہے؟
پاکستان اگرچہ خلائی دوڑ میں بڑی طاقتوں کے برابر نہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس شعبے میں ہمارے لیے مواقع موجود نہیں۔ ملک میں ریموٹ سینسنگ، موسمیاتی نگرانی، زرعی ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ ڈیٹا اینالیسس اور خلائی تحقیق سے وابستہ کئی شعبے ترقی کر سکتے ہیں۔
خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیٹلائٹ ڈیٹا انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ سیلاب، خشک سالی، جنگلات اور پانی کے ذخائر کی نگرانی میں جدید خلائی ٹیکنالوجی حکومتوں کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی نوجوان بھی سافٹ ویئر، مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ ڈیٹا سے متعلق عالمی منصوبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ آج خلائی معیشت میں حصہ لینے کے لیے ضروری نہیں کہ ہر ملک اپنا راکٹ ہی بنائے؛ جدید سافٹ ویئر، ڈیٹا اینالیسس اور انجینئرنگ بھی اس صنعت کا اہم حصہ ہیں۔
چاند اور مریخ… اگلی منڈی؟
ایک وقت تھا جب چاند پر جانا صرف سائنسی کامیابی سمجھی جاتی تھی، لیکن اب کئی ممالک اور کمپنیاں چاند کو مستقبل کے تحقیقی اور تجارتی مرکز کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ چاند پر مستقل مشنز، خلائی اسٹیشنز، معدنی وسائل کی تلاش اور مستقبل کے مریخ مشنز پر تحقیق جاری ہے۔
اگرچہ ان منصوبوں کو عملی شکل اختیار کرنے میں ابھی وقت لگے گا، لیکن یہ واضح ہے کہ خلائی تحقیق اب صرف سائنس دانوں کی دلچسپی کا موضوع نہیں رہی بلکہ عالمی سرمایہ کاری اور اقتصادی منصوبہ بندی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔

مصنف نے جامعہ گجرات سے صحافت کی تعلیم حاصل کی ہے اخبار کیساتھ ڈیجیٹل صحافت سے منسلک ہیں۔




