’جعلی ثبوت دکھائے اور دوست کے ساتھ انٹرویو کیا‘، مومنہ اقبال نے ثاقب چدھڑ کے الزامات مسترد کردیے

اداکارہ مومنہ اقبال نے مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کی جانب سے خود اور اپنی بہن سے متعلق عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹا قرار دیا ہے۔

ثاقب چدھڑ کا انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مومنہ اقبال نے انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کیا اور انٹرویو لینے والی میزبان کے ولیمے کی ویڈیو بھی شیئر کی۔

مومنہ اقبال نے دعویٰ کیا کہ پوڈکاسٹ ان کی میزبان کی دوست کے ساتھ کیا گیا اور مبینہ طور پر جعلی ثبوت بھی اسی دوست کو دکھائے گئے، حتیٰ کہ ان ثبوتوں کی تصدیق بھی اسی سے کروائی گئی۔

اداکارہ نے ثاقب چدھڑ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ یہ معاملہ عوامی سطح پر اٹھا رہے ہیں تو انہیں مبینہ ثبوت بھی کیمرے کے سامنے پیش کرنے چاہئیں تاکہ عوام خود فیصلہ کرسکے کہ دعوے درست ہیں یا غلط۔

مومنہ اقبال نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے اس معاملے پر پابند کیا گیا ہے، ورنہ وہ ثاقب چدھڑ کے مبینہ وائس نوٹس اور ان کی اہلیہ کی جانب سے کی گئی مبینہ ریکارڈڈ فون کالز بھی منظرعام پر لے آتیں۔

اداکارہ نے کہا کہ ایک مختصر وائس نوٹ بھی ان کے بقول ثاقب چدھڑ کے دعوؤں کی حقیقت واضح کرنے کے لیے کافی تھا۔

مومنہ اقبال نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں مزید لکھا کہ ثاقب چدھڑ جو کرنا چاہتے ہیں کررہے ہیں، تاہم انہیں اللہ پر بھروسا ہے۔

مومنہ اقبال کے شوہر کا بھی الزام

دوسری جانب مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب نے بھی ثاقب چدھڑ پر سنگین الزام عائد کیا ہے۔

حمزہ حبیب نے انسٹاگرام اسٹوری میں دعویٰ کیا کہ لوگوں کو اپنے حق میں کرنے کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد اب انہیں مبینہ طور پر جان سے مارنے کے لیے شوٹرز کا انتظام کیا جارہا ہے۔

تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں