نیدرلینڈز نے اربوں ڈالر مالیت کا سونا امریکا سے لندن منتقل کردیا

عالمی سیاسی بے یقینی اور ممکنہ بحرانوں سے نمٹنے کی تیاری کے تحت نیدرلینڈز کے مرکزی بینک نے اپنے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ نیویارک اور اوٹاوا سے لندن منتقل کردیا۔

ایمسٹرڈیم: نیدرلینڈز کے مرکزی بینک نے عالمی سیاسی بے یقینی اور ممکنہ بحرانوں سے نمٹنے کی تیاری کے تحت اپنے سونے کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ شمالی امریکا سے لندن منتقل کردیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ڈچ مرکزی بینک نے بتایا کہ مارچ سے اگست کے دوران تقریباً 86 میٹرک ٹن سونا نیویارک اور کینیڈا کے شہر اوٹاوا سے لندن منتقل کیا گیا۔

اس سے قبل نیدرلینڈز کے تقریباً 313 میٹرک ٹن سونے کے ذخائر نیویارک اور اوٹاوا میں موجود تھے، جن میں 31.3 فیصد نیویارک اور 19.7 فیصد اوٹاوا میں رکھا گیا تھا۔ منتقلی کے بعد دونوں مقامات پر ڈچ سونے کا حصہ کم ہوکر تقریباً 18.5، 18.5 فیصد رہ گیا ہے۔

نیدرلینڈز کے پاس 612 ٹن سے زائد سونا

نیدرلینڈز کے مرکزی بینک کے پاس مجموعی طور پر 612.4 میٹرک ٹن سونا موجود ہے، جس کی مالیت 2025 کے اختتام پر تقریباً 72.2 ارب یورو، یعنی 83.6 ارب ڈالر تھی۔

ڈچ مرکزی بینک کے گورنر اولاف سلیپن نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ سونے کی منتقلی سے ذخائر کو زیادہ آسانی سے قابلِ تجارت بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بینک کو امید ہے کہ کبھی ان ذخائر کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، تاہم موجودہ حالات میں مضبوطی اور ممکنہ بحران سے نمٹنے کی تیاری کو بہتر بنانا ضروری ہے۔

سونا زیسٹ سے لندن منتقل

مرکزی بینک کے مطابق 27 میٹرک ٹن سے زائد سونا امریکا اور کینیڈا سے جسمانی طور پر نیدرلینڈز منتقل کیا گیا، جہاں اسے وسطی شہر زیسٹ کے قریب ایک فوجی اڈے پر قائم انتہائی محفوظ خزانے میں رکھا گیا۔

تاہم ڈچ مرکزی بینک نے یہ تفصیل ظاہر نہیں کی کہ سونے کی بھاری مقدار کو بحرِ اوقیانوس کے پار کس طریقے سے منتقل کیا گیا۔

اسی دوران تقریباً اتنی ہی مقدار میں سونا زیسٹ سے لندن منتقل کیا گیا، جبکہ منتقلی کا باقی حصہ نیویارک میں تقریباً 59 میٹرک ٹن سونا فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم سے لندن میں اتنی ہی مقدار میں سونا خرید کر مکمل کیا گیا۔

لندن میں سونا زیادہ آسانی سے استعمال ہوسکے گا

ڈچ مرکزی بینک کے مطابق بینک آف انگلینڈ کے پاس لندن میں رکھا جانے والا سونا جدید عالمی تجارتی معیار پر پورا اترتا ہے اور دنیا میں آسانی سے خرید و فروخت کیے جانے والے سونے میں شمار ہوتا ہے۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ کسی ہنگامی یا بحرانی صورتِ حال میں لندن میں موجود سونا زیادہ تیزی اور براہِ راست استعمال کیا جاسکتا ہے، جبکہ نیویارک اور اوٹاوا میں موجود ذخائر کو اسی رفتار اور آسانی سے استعمال کرنا ممکن نہیں۔

بینک نے واضح کیا ہے کہ سونے کی منتقلی کسی فوری مالی بحران کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ اس کا مقصد عالمی سیاسی حالات میں ممکنہ بحران کے لیے پہلے سے تیاری اور مالی مضبوطی کو بہتر بنانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں