ہیومنائیڈ روبوٹس: کیا انسان نما روبوٹس اب ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بننے والے ہیں؟

تحریر: سلیم رمضان

کبھی انسان نما روبوٹس صرف ہالی ووڈ فلموں اور سائنس فکشن ناولوں کی دنیا تک محدود تھے، لیکن آج یہ تصور حقیقت کے قریب پہنچ چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) میں تیزی سے ہونے والی ترقی نے ایسے روبوٹس کو جنم دیا ہے جو نہ صرف انسانوں کی طرح چل پھر سکتے ہیں بلکہ بات چیت، چیزوں کو اٹھانے، فیصلے کرنے اور مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہیومنائیڈ روبوٹس اب دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کا سب سے دلچسپ موضوع بن چکے ہیں۔

امریکہ، چین، جاپان اور یورپ کی کئی بڑی کمپنیاں ایسے روبوٹس پر کام کر رہی ہیں جو مستقبل میں گھروں، دفاتر، ہسپتالوں اور فیکٹریوں میں انسانوں کے معاون بن سکیں۔ کچھ روبوٹس پہلے ہی گوداموں میں سامان منتقل کر رہے ہیں، بعض مریضوں اور بزرگ افراد کی دیکھ بھال میں مدد دے رہے ہیں، جبکہ کئی ادارے انہیں خطرناک صنعتی ماحول میں آزما رہے ہیں جہاں انسانی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

اس تیز رفتار ترقی نے ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ کیا آنے والے برسوں میں انسان نما روبوٹس واقعی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں گے؟ اگر ایسا ہوا تو ہماری زندگی کتنی بدل جائے گی؟

ماہرین کا خیال ہے کہ ہیومنائیڈ روبوٹس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ انسانوں کے مشکل، خطرناک اور بار بار دہرائے جانے والے کام سنبھال لیں گے۔ مثال کے طور پر بھاری سامان اٹھانا، فیکٹریوں میں مسلسل کام کرنا، آتش زدہ یا زہریلے علاقوں میں ریسکیو آپریشن کرنا، یا ہسپتالوں میں طبی عملے کی مدد کرنا ایسے شعبے ہیں جہاں یہ روبوٹس اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف انسانی محنت کم ہوگی بلکہ کئی خطرناک کام زیادہ محفوظ انداز میں انجام دیے جا سکیں گے۔

گھریلو زندگی میں بھی ان کا کردار دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے۔ تصور کریں کہ ایک روبوٹ صبح ناشتے کی تیاری میں مدد دے، گھر کی صفائی کرے، ادویات وقت پر یاد دلائے یا بزرگ والدین کی نگرانی کرے۔ اگرچہ یہ منظر ابھی ہر گھر میں نظر نہیں آتا، لیکن ٹیکنالوجی کی رفتار کو دیکھتے ہوئے یہ مستقبل اتنا دور بھی محسوس نہیں ہوتا۔

تاہم ہر نئی ٹیکنالوجی کی طرح اس کے ساتھ کچھ خدشات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ بہت سے ماہرین کو فکر ہے کہ اگر روبوٹس نے بڑی تعداد میں مختلف شعبوں میں کام سنبھال لیا تو بعض روایتی ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ رازداری، ڈیٹا سکیورٹی اور اخلاقی حدود جیسے سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ آخر اگر ایک روبوٹ ہمارے گھر میں موجود ہوگا تو وہ کتنی معلومات جمع کرے گا اور ان کا استعمال کیسے ہوگا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے واضح جواب ابھی تلاش کیے جا رہے ہیں۔

اسی لیے دنیا بھر کی حکومتیں اور ٹیکنالوجی کمپنیاں اس بات پر بھی غور کر رہی ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور ہیومنائیڈ روبوٹس کے استعمال کے لیے واضح قوانین اور اخلاقی اصول وضع کیے جائیں تاکہ یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے فائدے کے لیے استعمال ہو، نہ کہ ان کے لیے مشکلات پیدا کرے۔

حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی نے ہمیشہ انسان کی زندگی کو بدلا ہے۔ کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز بھی ایک وقت میں صرف خواب معلوم ہوتے تھے، لیکن آج ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ ہیومنائیڈ روبوٹس بھی شاید اسی سفر کا اگلا مرحلہ ہوں۔

سوال یہ نہیں کہ روبوٹس آئیں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ان کے ساتھ رہنے کے لیے کتنے تیار ہیں۔ اگر انسان اپنی تخلیقی صلاحیت، جذبات اور فیصلہ سازی کو برقرار رکھتے ہوئے اس نئی ٹیکنالوجی کو مثبت انداز میں استعمال کرے تو آنے والا دور انسان اور مشین کے درمیان مقابلے کا نہیں بلکہ تعاون کا دور ثابت ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں