سیکیورٹی میں سنگین غفلت پر ڈیوٹی پر تعینات پولیس اے ایس آئی عمران احمد اور کانسٹیبل قمر علی کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی غفلت کے ساتھ ساتھ ملزم کے ساتھ ممکنہ معاونت (ملی بھگت) کے پہلوؤں کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ملزم جمیل کے خلاف گزشتہ سال کاؤنٹر نارکوٹکس فورس (CNF) پنجاب میں منشیات اسمگلنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت میں جرم ثابت ہونے پر ملزم کو 9 سال قید اور ایک لاکھ 80 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی اور وہ اڈیالہ جیل میں اپنی سزا کاٹ رہا تھا جہاں سے اسے طبی بنیادوں پر اسپتال لایا گیا تھا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے سزایافتہ ملزم جمیل، اس کے بیٹے عدنان اور نامعلوم سہولت کار کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور انہیں جلد ہی دوبارہ قانون کی گرفت میں لے لیا جائے گا۔
بڑی غفلت یا ملی بھگت؟ منشیات کیس کا مجرم وہیل چیئر پر بیٹھ کر اسپتال سے رفو چکر، سیکیورٹی اہلکار دھر لیے گئے
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل




