ٹرمپ کی حوثیوں کو سخت وارننگ، بحیرہ احمر کی ناکہ بندی برداشت نہیں کریں گے: امریکا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کے حوثی باغیوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بحیرہ احمر کی ناکہ بندی کی دھمکی پر عمل کیا گیا تو امریکا بھرپور جواب دے گا اور صورتحال سے خود نمٹے گا۔

لبنانی صدر جوزف عون کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں مشترکہ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حوثیوں نے اپنے اعلانات پر عمل کیا تو امریکا مناسب اور مؤثر کارروائی کرے گا۔

ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ تہران دوبارہ مذاکرات کا خواہاں ہے اور امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم واشنگٹن کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا تو امریکا کے پاس دیگر تمام آپشنز موجود ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ایک حساس علاقے کو ممکنہ ہدف بنایا جا سکتا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق جس علاقے کا صدر ٹرمپ نے ذکر کیا، وہ ایران کی جوہری تنصیب نطنز کے قریب واقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مقام پر زیرِ زمین انتہائی محفوظ سرنگی کمپلیکس موجود ہیں، جنہیں ایران کے حساس جوہری انفراسٹرکچر کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

لبنان کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ یہ ملک کئی دہائیوں سے سیاسی اور معاشی مشکلات کا شکار رہا ہے، تاہم امریکا لبنان کی بحالی اور استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں لبنان کے ساتھ مناسب رویہ نہیں رکھا گیا، لیکن اب امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ لبنان کو وہ احترام اور تعاون ملے جس کا وہ حق دار ہے۔

صدر ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدوں کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں مزید ممالک بھی ان معاہدوں کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں دیرپا امن کا قیام امریکا کی ترجیح ہے اور اگر ضرورت پڑی تو لبنان کے صدر کی خواہش پر حزب اللہ سے بھی بات چیت پر غور کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ لبنان اور پورے خطے میں کشیدگی کے بجائے امن، استحکام اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں