کاکروچ جنتا پارٹی نے حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا

رپورٹ: فیصل علی

بھارت میں نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے مرکزی حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ملک گیر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

بھارتی یونین منسٹر جے پی نڈا اور مرکزی وزیر جتیندر سنگھ کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ حکومت نے تنظیم کے بنیادی مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، جس کے بعد احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ترجمان نے ملک بھر میں موجود کارکنوں اور مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر پرامن انداز میں اپنے دھرنے، ریلیاں اور احتجاج ختم کر دیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

سی جے پی کے مطابق مذاکرات کے دوران حکومت نے امتحانی نظام میں شفافیت لانے، پرچہ لیک کی روک تھام، ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی، اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جامع اصلاحات پر اتفاق کیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تنظیم کے پانچ نکاتی تعلیمی اصلاحاتی ایجنڈے پر بھی اصولی اتفاق کیا ہے، جس کے تحت قومی سطح پر امتحانی نظام کی نگرانی، جدید سکیورٹی نظام، آزاد انکوائری کمیشن، طلبہ کے تحفظ کے لیے خصوصی قانون سازی اور امتحانی عمل کو مکمل طور پر شفاف بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی، ان کے خلاف درج مقدمات پر نظرثانی اور غیر ضروری مقدمات واپس لینے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ تنظیم کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی اور آئندہ منگل تک اس حوالے سے تحریری یقین دہانی بھی فراہم کی جائے گی۔

ترجمان کے مطابق حکومت نے امتحانی پرچہ لیک ہونے کے واقعات سے متاثرہ طلبہ اور ان کے اہل خانہ کے لیے خصوصی امدادی پیکج، نفسیاتی معاونت اور متاثرہ امیدواروں کے لیے شفاف طریقہ کار کے تحت دوبارہ امتحانات کے انعقاد پر بھی غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

واضح رہے کہ سی جے پی نے مئی 2026 میں امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے خلاف نئی دہلی میں احتجاجی تحریک کا آغاز کیا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے بھارت کی مختلف ریاستوں تک پھیل گئی۔ اس دوران ہزاروں طلبہ، نوجوانوں، اساتذہ اور سماجی کارکنوں نے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی۔

احتجاج کے دوران معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 26 روزہ بھوک ہڑتال بھی کی، جبکہ متعدد تعلیمی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی احتجاجی تحریک کی حمایت کی۔

20 جولائی کو سی جے پی کی جانب سے نئی دہلی کے جنتر منتر میں ملک گیر احتجاج کی کال دی گئی، جس پر ہزاروں نوجوان جمع ہوئے۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی، پولیس نے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا جبکہ متعدد مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا۔ ان واقعات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وسیع پیمانے پر زیرِ گردش رہیں۔

احتجاج کے دوران بھارتی وزیر اعظم نے قوم سے ویڈیو پیغام میں نوجوانوں سے پرامن رہنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی اپیل کی تھی، تاہم مظاہرین اپنے مطالبات پر قائم رہے اور حکومت کی ابتدائی تجاویز کو ناکافی قرار دیا تھا۔

بالآخر کئی ادوار پر مشتمل مذاکرات کے بعد حکومت اور سی جے پی کے درمیان اتفاقِ رائے قائم ہوا، جس کے بعد تنظیم نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

سی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ اگر حکومت نے طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد نہ کیا تو تنظیم آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے، تاہم فی الحال تمام کارکنوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پرامن طور پر اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں اور حکومت کو اپنے وعدوں پر عمل درآمد کے لیے مناسب وقت دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں