امریکا، پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی: نیٹلی بیکر

پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت 2025 میں 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے 11 اور 12 اگست کو لاہور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، مشیر علی ڈار، کاروباری رہنماؤں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین سے ملاقاتیں کیں۔

امریکی سفارتخانے کے مطابق ملاقاتوں کے دوران مصنوعی ذہانت (AI)، اعلیٰ تعلیم، اختراع، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں پاک امریکا تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

نیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکا پاکستان کے نجی شعبے، جامعات، اختراع کاروں اور حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے شعبے کو دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کے لیے اہم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔ سافٹ ویئر، ڈیجیٹل سروسز اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں بھی باہمی تعاون کے نمایاں مواقع موجود ہیں۔

امریکی ناظم الامور نے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت 2025 میں 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔

نیٹلی بیکر کا کہنا تھا کہ امریکی تعلیمی شعبے کی مہارت اور تجربہ پاکستانی طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور تعلیمی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم اور اختراع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں