امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں، جبکہ امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاہدے کا باضابطہ اعلان آج متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق علاقائی ذرائع اور ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات کے بعد طے پانے والا یہ معاہدہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور جوہری مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت 60 روز کے عبوری انتظام پر اتفاق کیا گیا ہے، جس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ اس عرصے کے دوران خلیج کی جانب جانے والے بحری جہاز ایران کے زیر نگرانی شمالی بحری راستہ استعمال کریں گے، جبکہ بحیرہ عرب کی جانب آنے والی ٹریفک عمان کے جنوبی بحری راستے سے ایران کی مشاورت کے ساتھ گزرے گی۔
ایگزیوس کے مطابق اس عبوری مدت میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے کسی قسم کا ٹول یا فیس وصول نہیں کی جائے گی، جبکہ فریقین 30 دن کے اندر درمیانی بحری گزرگاہ سے بارودی سرنگیں صاف کرنے پر بھی کام کریں گے۔ بعد ازاں اس درمیانی راستے کو مستقل انتظامات کے تحت دونوں سمتوں کی بحری آمدورفت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مذاکرات میں عمان اور ایران کے علاوہ قطر، پاکستان اور سعودی عرب نے بھی ثالثی کا کردار ادا کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس بھی اس عمل میں سرگرم رہا۔ اس دوران امریکی صدر کے ایلچی اسٹیو وٹکوف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے درمیان متعدد ٹیلی فونک رابطے بھی ہوئے۔
ایگزیوس کے مطابق عباس عراقچی نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر معاہدے پر اصولی اتفاق کیا تھا، تاہم اسے ایرانی قیادت اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری درکار تھی، جو امریکی اور علاقائی ذرائع کے مطابق منگل کے روز مکمل کر دی گئی۔




