رپورٹ: فیصل علی
پاکستان میں جاری مون سون سیزن نے ایک بار پھر ملک کو سیلابوں، فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈز کے شدید چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ جون 2026 کے آخر سے شروع ہونے والے اس موسمیاتی نظام نے اب تک سینکڑوں جانیں لے لی ہیں، ہزاروں لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے اور زرعی زمینوں، گھروں اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ 30 جولائی 2026 تک کی صورتحال کے مطابق، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مون سون سے متعلقہ واقعات میں تقریباً 110 سے 113 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بچوں کی تعداد نمایاں ہے۔ زخمیوں کی تعداد تقریباً 360 ہے، جبکہ تقریباً 800 مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور سینکڑوں مویشی ہلاک ہو گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئیں (تقریباً 55)، اس کے بعد پنجاب (تقریباً 36) ہے۔ بیشتر اموات چھت گرنے، ڈوبنے یا بجلی کے حادثات سے ہوئی ہیں۔ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان میں بھی لینڈ سلائیڈز اور فلیش فلڈز نے سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (PMD) کے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن (FFD) لاہور کے 30 جولائی 2026 کے روزانہ بلیٹن کے مطابق:
دریائے سندھ: گڈو پر درمیانی (Medium) سیلابی سطح پر بہہ رہا ہے۔ کالا باغ اور سکھر پر کم (Low) سیلابی سطح ہے۔ اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں گڈو پر درمیانی سطح برقرار رہے گی، جبکہ سکھر بھی درمیانی سطح پر آ سکتا ہے۔
دیگر اہم دریا (کابل، جہلم، چناب، راوی اور ستلج): زیادہ تر نارمل یا لو لیول پر ہیں۔ راوی پر بالوکی پر کم سیلابی سطح دیکھی گئی۔
تربیلا اور منگلا ڈیم کی سطحیں قابلِ انتظام ہیں، مگر مزید بارشوں سے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔
پنجاب سب سے زیادہ متاثر صوبہ ہے۔ مریدکے (لاہور کے مضافات) میں کئی دیہات اب بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، جہاں رضاکار کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو خوراک، پانی اور ادویات پہنچا رہے ہیں۔ ملتان کی تحصیل جلال پور پیروالا میں دریائے چناب کے پانی نے 22 سے زائد بستیاں متاثر کیں، جس سے ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور فصلیں تباہ ہو گئیں۔
لاہور ڈویژن میں 11 ریلیف کیمپ اور 19 ریسکیو کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جہاں سیکڑوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ فیلڈ ہسپتال بھی فعال ہیں۔ حکومت پنجاب اور مقامی انتظامیہ نکاسی آب اور ریلیف آپریشنز تیز کر رہی ہے۔
مزید برآں، بھارت میں ڈیپریشن کے اثر سے جنوبی پنجاب، جنوب مشرقی سندھ اور مشرقی بلوچستان میں 1 سے 4 اگست تک شدید بارشیں متوقع ہیں، جس سے شہری علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کا خطرہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت جائزہ اجلاسوں میں NDMA، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو مکمل تیاری اور بروقت ریلیف کی ہدایات دی گئی ہیں۔ NDMA تمام صوبوں کو معاونت فراہم کر رہا ہے، جبکہ پی ڈی ایم اے پنجاب نے اربن فلڈنگ اور فلیش فلڈز کے لیے الرٹ جاری کیا ہے۔
موجودہ سیلابی صورتحال پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔ کمزور انفراسٹرکچر، ناقص نکاسی آب اور گلیشیئرز کے تیز پگھلاؤ نے صورتحال کو مزید خراب کیا ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ سرکاری انتباہات پر عمل کریں، نشیبی علاقوں سے دور رہیں، اور غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں۔ حکومت کو طویل مدتی منصوبہ بندی، ڈیمز کی صلاحیت بڑھانے اور آب و ہوا سے متعلقہ تیاریوں پر توجہ دینی چاہیے۔یہ آرٹیکل PMD، NDMA اور مستند میڈیا ذرائع کی 30 جولائی 2026 تک کی تازہ ترین رپورٹس پر مبنی ہے۔ صورتحال بدلتی رہتی ہے، اس لیے سرکاری اپڈیٹس پر نظر رکھیں۔





