حکومت نے عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کے عدالتی حکم کو قانونی اختیار سے تجاوز قرار دے دیا

وفاقی حکومت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے عبوری حکم کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کردی۔

حکومت نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ جیل میں قیدی کے علاج کے لیے پاکستان پریزن رولز 1978 میں واضح طریقہ کار موجود ہے، جس کے تحت ضرورت پڑنے پر قیدی کو سرکاری سول یا ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے، تاہم نجی اسپتال منتقلی کی گنجائش موجود نہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ جیل قوانین یا پریزنز ایکٹ کے تحت قیدی کو اپنی پسند کے نجی ڈاکٹر سے علاج کرانے کا حق بھی حاصل نہیں۔

وفاقی حکومت کے مطابق عمران خان کی درخواست پہلی مرتبہ سماعت کے لیے مقرر ہوئی تھی اور فریقین کو نوٹس بھی جاری نہیں کیے گئے تھے، اس کے باوجود عدالت نے عبوری حکم جاری کردیا۔

حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت نے طبی رپورٹ کی بنیاد پر عمران خان کی صحت بگڑنے کا تاثر لیا، حالانکہ رپورٹ میں ایسی کوئی واضح بات موجود نہیں تھی۔ درخواست کے مطابق میڈیکل بورڈ عمران خان کا متعدد مرتبہ معائنہ بھی کرچکا ہے۔

نظرثانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایسے طبی معاملے میں ماہرین کی رائے لینا ضروری تھا، جبکہ حکومت نے دفعہ 561 اے ضابطۂ فوجداری کے استعمال پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس اختیار کو جیل انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

حکومت کا مزید کہنا ہے کہ عبوری مرحلے پر عمران خان کی چاروں درخواستیں منظور کرکے انہیں عملاً حتمی ریلیف دے دیا گیا۔ ان درخواستوں میں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی، ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی، اہل خانہ سے ملاقات اور طبی رپورٹس وکیل کو فراہم کرنے کی اجازت شامل تھی۔

درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی خصوصی سہولت دیگر قیدیوں کے لیے بھی مثال بن سکتی ہے اور جیل قوانین کے تحت اسی نوعیت کے مطالبات میں اضافہ ہوگا، جو مساوی سلوک کے اصول کے منافی ہوگا۔

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے 18 اگست کا عبوری حکم واپس لینے یا اس پر نظرثانی کرنے کی استدعا کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں