وزیر دفاع خواجہ آصف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کا جشن اس شدید خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ کسی طرح اس کے نااہل قائد کو جیل سے نکالا جائے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ تحریک انصاف کی اپنے قائد کے لیے این آر او حاصل کرنے کی خواہش اب نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بے شمار ’’بانیوں‘‘ میں سے ایک کو معزز عدلیہ سے غیر معمولی ریلیف ملا ہے، جس پر تحریک انصاف کی جانب سے جشن منایا جارہا ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا جشن اس شدید خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ کسی طرح اس کے نااہل قائد کو جیل سے نکالا جائے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ماضی میں دیگر سیاست دانوں کی جیل میں زندگی مزید سخت بنانے کے مطالبات کیا کرتے تھے۔ ان کے مطابق اس سے بڑا ستم ظریفی کا یوٹرن شاید ممکن نہیں کہ جس شخص کو ناقابل شکست اور خود ساختہ ’’مردِ آہن‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا، آج اسی شخص کی پوری جماعت اسے جیل سے اسپتال منتقل کرانے کے لیے فریاد کرتی نظر آرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر خوشیاں منانے سے پہلے پی ٹی آئی کو اپنے بیانیے میں موجود واضح تضادات کا جواب دینا چاہیے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اگلی سماعت تک شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے عمران خان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور انہیں سخت سکیورٹی میں اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ اسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے۔




