سائنسی تجربات میں ہونیوالے حادثات جو دریافتوں کا سبب بنے

لاہور: سیب کے درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے نیوٹن کے سَر پر پھل گرنا ایک اتفاق تھا جس نے اسے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کوئی بھی وزنی شے تیزی سے زمین کی طرف ہی کیوں آتی ہے اور یوں‌ کششِ ثقل کا نظریہ اور ایک اہم ترین دریافت سامنے آئی۔

اسی طرح‌ سائنس کی دنیا میں‌ کئی ایجادات اور دریافتیں ایسی جن کی بنیاد کوئی حادثہ تھا۔ انیسویں صدی میں‌ مختلف سائنسی تجربات کے دوران ایسے اتفاقی اور حادثاتی واقعات پیش آئے جنھوں‌ نے دریافتوں‌ اور انکشافات کا راستہ ہموار کیا۔ انیسویں صدی تک نائٹرو گلیسرین کا استعمال عام تھا۔ یہ 1833 کی بات ہے جب الفریڈ نوبل اُن ممکنہ طریقوں‌ پر غور کررہا تھا جن کی مدد سے نائٹرو گلیسرین کو حادثاتی طور پر پھٹنے سے روکا جاسکے۔

مشہور ہے کہ اس سے متعلق سوچ بچار اور تجربات کے دوران ہی ایک روز نائٹرو گلیسرین کا ایک کنستر لیک ہو گیا اور اس سے خارج ہونے والا مادّہ بغیر جلے لکڑی کے برادے میں جذب ہونے لگا۔ جب برادہ خشک ہو گیا تو الفریڈ نوبیل نے اسے آگ دکھائی اور وہ اپنی خاصیت کے مطابق پھٹ گیا۔ یہ معمولی حادثہ نائٹرو گلیسرین کی جگہ مقامی اداروں‌ اور فوجی ضرورت کے لیے محفوظ اور کنٹرولڈ ڈائنا مائیٹ ایجاد کرنے کا سبب بنا۔

1839 کی بات ہے جب کیمسٹ چارلس گڈ ائیر نے تجربہ گاہ میں ربڑ، سلفر اور سیسے کا آمیزہ تیار کیا اور وہ اچانک ان کے ہاتھ سے پھسل کر فائر اسٹوو پر جا گرا۔ اس معمولی حادثے نے دریافت اور ایجاد کا نیا راستہ کھول دیا۔ کیمسٹ چارلس گڈ ائیر نے مشاہدہ کیا کہ آمیزہ پگھلنے کے بجائے ٹھوس شکل اختیار کر گیا ہے جس کی بیرونی سطح سخت اور اندرونی سطح نرم تھی۔ یوں حادثاتی طور پر دنیا کا پہلا ویلنکنائزنگ ٹائر بنا اور یہ آٹو موبائل کی صنعت کے لیے نہایت کارآمد اور مفید ثابت ہوا۔

الیگزینڈر فلیمنگ نے 1928 میں انفلوئنزا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے کام شروع کیا اور اس دوران اسے دو ہفتے کی رخصت پر جانا پڑا۔ وہ چھٹیوں‌ کے بعد واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ لیبارٹری کی جس ٹرے میں اس نے بیکٹیریا کلچر کیے تھے، اس پر پھپوند جم گئی ہے اور اس کا مطالعہ کرنے پر معلوم ہوا کہ پھپوند نے بیکٹیریا کی افزائش روک دی تھی۔

الیگزینڈر فلیمنگ نے اس مشاہدے اور تجربے کے بعد پھپوند کی ماہیت پر مزید کام کیا اور پنسلین جیسی دریافت ہوئی اور اینٹی بائیوٹک کا دور شروع ہوا۔

پُرانے ماڈلز کی گاڑیاں‌ پھرمارکیٹ‌ میں آنے کو تیار

لندن : مہنگی ترین گاڑیاں بنانے والی برطانوی کمپنی رولز رائس نے پرانی گاڑیوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مارکیٹ میں لانچ کرنے کا اعلان کردیاہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی مشہور آٹو موبائل کمپنی رولز رائس نے اپنی قدیم ماڈلز کی گاڑیاں ایک مرتبہ پھر لانچ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے لیکن اس مرتبہ 1960 ماڈلز کی رولز رائس گاڑیوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ تیار کیا جائیگا۔

رولز رائس کمپنی نے 1960 ماڈلز کی طرز پر الیکٹرک کار تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اصل گاڑی کی قیمت سے 6 گنا زیادہ قیمت والی یہ گاڑیاں 120 کلو واٹ بیٹریوں کی حامل ہوں گی اور مکمل چارج ہونے پر تقریباً 500 کلومیٹر تک سفرکر سکیں گی۔

دنیا کا سب سے قدیم “مگرمچھ” کی باقیات دریافت

آیووا: مگرمچھ کے کروڑوں سال پرانے رکازات (فوسلز) کا ایک بار پھر جائزہ لینے کے بعد سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ مگرمچھ اتنا خطرناک تھا کہ ڈائنوسار تک کا شکارکرتا تھا۔

اس مگرمچھ کی قدیم ترین باقیات 8 کروڑ 20 لاکھ سال پرانی ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ ڈائنوسار کے ساتھ یہ بھی موجود تھا۔ اس کے نوک دار دانت بڑے کیلے جتنے لمبے تھے، یہ ڈھائی ٹن سے پانچ ٹن تک وزنی ہوا کرتا تھا جبکہ اس کی لمبائی تقریباً 33 فٹ یعنی ایک عام تین منزلہ عمارت جتنی ہوتی تھی۔

اپنی ان ہی خصوصیات کی بنا پر اس قدیم مگرمچھ کو ’’ڈینوسوکس‘‘ (Deinosuchus) یعنی ’’دہشت گرد مگرمچھ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے اوّلین رکاز 1850 کے عشرے میں امریکا سے دریافت ہوئے تھے۔ ڈینوسوکس کو ڈائنوسار کے زمانے میں نیم آبی (سیمی ایکویٹک) ماحول بشمول جوہڑ اور تالاب وغیرہ کے سب سے دیوقامت جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ مگرمچھ کی طرح یہ بھی شکاری جانور تھا، لیکن یہ بات صرف خیالی ہی رہی۔ حالیہ تحقیق میں یونیورسٹی آف آیووا کے سائنسدانوں نے ڈینوسوکس قسم سے تعلق رکھنے والے مختلف مگرمچھوں کے رکازات کا ایک بار پھر جائزہ لیا جبکہ ساتھ ہی ساتھ ان ڈائنوساروں کے رکازات بھی کھنگالے گئے جو دریافت ہوئے تھے اور انہی رکازات جتنے قدیم تھے۔

ان ڈائنوساروں کے رکازات میں ٹانگوں اور دموں پر بالکل ویسے ہی نشانات تھے جیسے ڈینوسوکس کے دانت گاڑنے سے بنے ہوں۔ ڈائنوساروں کے جسموں پر مخصوص مقامات پر یہ نشانات دیکھنے اور ان کا موازنہ ڈینوسوکس کے دانتوں سے کرنے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ دیوقامت اور قدیم مگرمچھ ڈائنوسار کا شکار کیا کرتے۔

اس کا ایک ممکنہ منظرنامہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جیسے ہی کوئی ڈائنوسار اس مگرمچھ کے تالاب کے قریب آتا ہوگا، پانی میں چھپا ہوا مگرمچھ فوری طور پر باہر نکل کر اسے دبوچ لیتا ہوگا۔ ’’ڈینوسوکس بہت دیوقامت تھے اور وہ یقیناً کسی تالاب یا جوہڑ کے کنارے پانی پینے آنے والے ڈائنوساروں کےلیے خوف کا باعث بھی رہے ہوں گے۔‘‘

پہلا ٹرانسپیرنٹ ٹیلی ویژن فروخت کے لیے پیش

بیجنگ: دنیا کا پہلا مکمل طور ٹرانسپیرنٹ ٹیلی ویژن فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا جسے شیاؤمی کمپنی نے بنایا ہے اور اسے “مائی ٹی وی لکس” کا نام دیا گیا ہے۔

بند ہونے کی صورت میں یہ شفاف شیشہ بن جاتا ہے اور کسی سائنس فلم کی کوئی ایجاد دکھائی دیتا ہے۔ اگر ٹیلی ویژن نہ چل رہا ہو تو اس کے آرپار دیکھا جاسکتا ہے۔ قبل ازیں سام سنگ اور ایل جی نے شفاف ٹیلی ویژن پیش کیے لیکن شیاؤمی کے مطابق یہ پہلا شیشہ ٹیلی ویژن ہے جو بڑے پیمانے پر تیار کیا جارہا ہے اور اس کی فروخت اگلے چند دنوں میں متوقع ہے۔

ٹیلی ویژن کی لمبائی 55 انچ ہے اور اس کا پورا پینل او ایل ای ڈی پر مشتمل ہے۔ ٹی وی اسکرین کی موٹائی صرف 5.7 ملی میٹر ہے۔ ٹیلی ویژن بند ہوتے ہی کھڑی کا شیشہ بن جاتا ہے۔ شیاؤمی کے مطابق اس کا سیاہ رنگ واضح اور اسکرین بہت روشن ہے۔ ٹیلی ویژن اسکرین ایک ارب سے زائد رنگ دکھاتا ہے۔ اس کا ریفریش ریٹ 120 یرٹز ہے اور ایک ملی سیکنڈ میں ٹیلی ویژن اسکرین ریفریش ہوجاتا ہے۔

اس کا دس بٹ پینل مجموعی طور پر ہموار اور خوبصورت تصویر ظاہر کرتا ہے ۔ اس طرح کے ٹیلی ویژن اسکرین میں متحرک منظر دھندلا جاتے ہیں لیکن شیاؤمی کے ٹیلی ویژن میں یہ نقص موجود نہیں جس کی وجہ سے ٹیلی ویژن گیم کھیلنے کے لیے بھی بہترین ہے۔

ناسا چاند پر جانے کےلئے ایک بار پھر تیار

کیلیفورنیا: دنیا کے دیگر ممالک کے طرح خود امریکا نے بھی چاند کی دوبارہ تسخیر میں گہری دلچسپی لینا شروع کردی ہے اور اس کے تحت آرتیمس نامی پروجیکٹ شروع کیا ہے۔ اب تازہ خبر یہ ہے کہ ناسا نے تین خلائی گاڑیوں کی حتمی منظوری دیدی ہے جو انسان کو چاند تک لے جائیں گے۔

ناسا کے اعلامئے کے مطابق بلیو اوریجن، ڈائنیٹکس اور اسپیس ایکس کمپنیاں یہ سواریاں بنائیں گی اور اس کے لیے مجموعی طور پر 967 ملین ڈالر کی خطیر رقم دی جائے گی ۔ اس رقم سے یہ تینوں کمپنیاں قمری لینڈر بنائیں گی۔

اس موقع پر ناسا کے سربراہ جِم برائڈنسٹائن نے 30 اپریل کی پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکا 1972 کے بعد سے اب تک دوبارہ چاند پر نہیں گیا اور یہ آخری کاوش ہے جس کی بدولت ہم چاند پر جانا چاہتے ہیں۔

اس کے بعد ہر کمپنی اپنی سواری خود تیار کرے گی۔ بلیو اوریجن کمپنی یا تو اپنے نیوگلین راکٹ سے اسے چاند پر بھیجے گی یا پھر یونائیٹڈ الائنس ولکن راکٹ پر رکھ کر لینڈر کو قمر پر اتارے گی۔

تاہم ڈائناٹیکس کمپنی اپنے لینڈر کو ولکن راکٹ کے ذریعے چاند پر پہنچائے گی۔ اسپیس ایکس کمپنی معاہدے کے تحت اسٹارشپ خلائی جہاز بنا کر اسے اپنی ہی کمپنی کے سپر ہیوی راکٹ کے ذریعے چاند پر پہنچا ئے گی۔

ناسا کی ماہر لیزا واٹسن مورگن نے بتایا کہ ہم امریکی صنعتوں کی افادیت دیکھنا چاہتے ہیں کہ آخر وہ کس طرح اس مقصد کو ممکمن بناتی ہیں۔

تاہم یاد رہے کہ تینوں کمپنیوں کی ٹیکنالوجی اور اختراعات بھی مختلف ہیں۔ بلیو اوریجن کے لینڈر کے تین حصے ہیں۔ اس میں چاند کے نچلے مدار سے لینڈر کو نیچے اتارا جائے گا۔ اس کے بعد مزید دو مراحل ہیں جن سے یہ مشن واپس آئے گا۔ لیکن ڈائناٹیکس اور اسپیس ایکس کی ٹیکنالوجی میں ایک ہی جست میں خلائی گاڑی کو چاند پر اتارنے، واپس اڑانے اور زمین تک لانے کا مکمل انتظام کیا گیا ہے۔ لیکن اب بھی ان ساری ٹیکنالوجی کو اپنی افادیت ثابت کرنا ہوگی۔

ناسا نے چاند تک رسائی کے اس مشن کو آرتیمس کا نام دیا ہے جس کے تحت پہلا مسافر 2024 تک چاند پر اتارا جائے گا۔ اس مںصوبے میں ایک گاڑی یا لینڈر کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی جبکہ دو لینڈر اضافی مشن انجام دیں گے۔

دنیا بھرمیں لاک ڈاؤن،اوزون کی چادرتیزی سے بھرنے لگی

کولاراڈو: سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اب سے 20 برس قبل پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کرنے والی اوزون کی سطح اب تیزی سے مندمل ہورہی ہے۔ اب اسی کی بدولت پوری زمین پر ہوائیں ایک نئی ترتیب سے چلنے لگی ہیں۔

سیٹلائٹ ڈیٹا اور آب و ہوا میں تبدیلیوں کی کمپیوٹر نقول (سیمولیشن) سے معلوم ہوا ہے کہ انٹارکٹیکا کے اوپر اوزون کی ہلکی ہونے والی چادر اب تیزی سے بھررہی ہے اور اس نے فضائی اور ہوائی نظام پر گہرا اثر مرتب کیا ہے۔

یونیورسٹی آف کولاراڈو بولڈر کی ماہر انتارا بینرجی اور ان کے ساتھیوں نے ایک ماڈل تیار کیا ہے جو 1987 میں اوزون کی پرت کو متاثر کرنے والے کیمیکل پر پابندی کے بعد کے مثبت اثرات کو ظاہر کررہا ہے۔ زمین پر بالخصوص مضر الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بچانے والی یہ تہہ اب تیزی سے ٹھیک ہورہی ہے۔

لیکن اس عمل کے ساتھ ساتھ عالمی ہواؤں اور فضائی کیفیت میں بھی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ 2000 سے قبل وسط طول البلد (مڈ لیٹی ٹیوڈ) نامی ہوائی پٹی جنوبی نصف کرے کے اوپر تیررہا تھا جو اب دھیرے دھیرے کھسک کر قطبِ جنوبی تک جاپہنچا ہے۔ یہ نظام پوری دنیا میں ہواؤں کی سمت اور شدت کو کنٹرول کرتا ہے۔ دوسری جانب ہیڈلے سیل نامی ایک اور جیٹ اسٹریم مزید پھیل رہا ہے جو منطقہ حارہ کے علاقوں میں ہوائیں چلانے، بارش برسانے اور سمندری طوفان کی وجہ بنتا ہے۔

انتارا بینرجی نے بتایا کہ یہ دونوں عوامل سال 2000 کے بعد یکدم رک گئے اور ان میں معمولی الٹاؤ شروع ہوگیا۔ اگرچہ اس کی وجہ کلائمٹ چینج بھی ہوسکتی ہے لیکن بینرجی کے مطابق اوزون بحال ہونے سے یہ تبدیلی واقع ہوئی ہے۔

دیگر ماہرین نے کہا ہے کہ اگرچہ اوزون کی سطح میں بہتری کے کئی شواہد سامنے آئے ہیں لیکن اس تحقیق سے اگلے اثرات ظاہر ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تحقیق انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سے پوری دنیا میں ہوائیں چلنے کے نظام پر اوزون کے اثرات سامنے آئے ہیں۔

موبائل فون کو کورونا وائرس سے کس طرح محفوظ رکھا جائے؟

کراچی: کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار موبائل فون بھی ہوسکتا ہے جس کے لیے موبائل فون کو اس مہلک وائرس سے محفوظ رکھنے کیلیے چند احتیاطیی تدابیر کو اختیار کرنا بے حد ضروری ہے۔

دنیا بھر میں 3 لاکھ کے لگ بھگ افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے اور 10 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی وجہ بننے والا کورونا وائرس، موبائل فون کے ذریعے بآسانی انسانی جلد تک پہنچ سکتا ہے اور کان ، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔

موبائل فون کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جائیں تو اس وائرس سے بچا سکتا ہے۔ موبائل فون کو صاف کرنے کے لیے ہمیشہ جراثیم کُش وائپس استعمال کیے جائیں جو مارکیٹ میں بآسانی اور ارزاں قیمت پر دستیاب ہیں۔

معروف موبائل کمپنی بھی اپنے صارفین کو موبائل کی صفائی کیلیے نرم اور مائیکرو فائبر سے تیار کپڑے کا ٹکڑا استعمال
کرنے کی تجویز کرتی ہے۔ لینن کا کپڑا کبھی استعمال نہ کریں۔

موبائل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ موبائل اسکرین اور باڈی کی صفائی کے لیے سینی ٹائزر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور کئی موبائل سینی ٹائزرز مارکیٹ میں دستیاب ہیں جب کہ حالیہ وبا کے بعد سینی ٹائزر کے ساتھ کٹ بھی دستیاب ہے جس میں صفائی کیلیے خصوصی کپڑا بھی موجود ہے۔

ہر بار موبائل فون استعمال کرنے کے بعد ٹشو پیپر سے فون کو اچھی طرح صاف کرلیا جائے اور ٹشو کو پھینک دیا جائے۔ اس کے علاوہ موبائل فون کو مشتبہ مریضوں کے حوالے نہ کیا جائے۔

گوگل بھی کرونا وائرس سے بچاؤ کی آگہی کے لئے میدان میں آگیا

نیویارک : دنیا بھر میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، معروف سرچ انجن گوگل نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے ڈوڈل کے ذریعے ہاتھ دھونے کا صحیح طریقہ بتادیا۔

تفصیلات کے مطابق عالمی شہرت یافتہ سرچ انجن گوگل بھی کرونا وائرس سے بچاؤ کی آگہی کے لئے میدان میں آگیا، اپنے ڈوڈل کے ذریعے سب کو پیغام دیا کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ہاتھ لازمی دھوئیں۔ گوگل نے اپنے نئے ڈوڈل میں ہنگری کے معالج Ignaz Semmelweis کو اعزاز دیتے ہوئے ہاتھ دھونے کی ویڈیو شئیر کی ،جس میں ہاتھ دھونے کا صحیح طریقہ بتایا۔

اس سے قبل ٹوئٹرنےبھی کرونا سے آگاہی کیلئے لوگوں کو ’’ہاتھ دھونے کاطریقہ بتانےکاایموجی متعارف کروایا تھا۔ خیال رہے مہلک کرونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے ، اب تک وائرس سے 248,683 لوگ متاثر ہو چکے ہیں جب کہ 88,563 لوگ وائرس سے صحت یاب ہوئے۔

وائرس نے 182 ممالک کو لپیٹ میں لے لیا ہے، اٹلی میں وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد چین سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، اب تک کرونا میں مبتلا ہو کر 3,405 اطالوی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ وائرس کے شکار افراد کی تعداد 41,035 ہو چکی ہے۔ چین میں ہلاکتوں کی تعداد 3,248 جب کہ متاثرین کی تعداد 80,967 ہے جبکہ نئے مریضوں کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

واٹس ایپ نے کورونا وائرس انفارمیشن ہب قائم کردیا

کراچی: واٹس ایپ نے مصدقہ اطلاعات کی فراہمی کے لیے کورونا وائرس انفارمیشن ہب قائم کردیا وائرس سے متعلق حقائق کی فراہمی کے لیے 10 لاکھ ڈالر عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران فیک نیوز اور غلط اطلاعات ذہنی دباؤ اور انتشار کا باعث بن رہی ہیں۔ اس کے پیش نظر کمپنی نے صارفین کو مصدقہ اطلاعات اور معلومات کی فراہمی کے لیے کورونا وائرس انفارمیشن ہب قائم کردیا ہے۔

واٹس ایپ نے انٹر نیشنل فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک کورونا فیکٹ الائنس کے لیے 10 لاکھ ڈالر عطیہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ وہاٹس ایپ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صارفین کو درست اور مصدقہ اطلاعات کی فراہمی ہے۔

منظر پہچاننے والی ’مصنوعی آنکھ‘ تیار

آسٹریا: دنیا بھر میں کمپیوٹر کو حقیقی مناظر دیکھنے کے قابل بنایا جارہا ہے جسے ’کمپیوٹروژن‘ کہا جاتا ہے۔ اسی ضمن میں جدید ترین مصنوعی آنکھ تیار کی گئ ہے جو ایک سیکنڈ کے اربویں حصے میں کسی بھی منظر کو پہچان سکتی ہے۔

اس کی تیاری کا طریقہ بھی بہت دلچسپ ہے جس کے لیے ایک ہی چپ پر روشنی محسوس کرنے والی الیکٹرونکس اور نیورل نیٹ ورک کو ایک ساتھ رکھا گیا ہے۔ اس طرح دنیا میں موجود تمام سینسر سے بھی تیز رفتار اور مؤثر برقی آنکھ تیار کی گئی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ایسی چِپ کیوں ضروری ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر مصنوعی طور پر دیکھنے والے نظاموں کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ ان میں صنعتی روبوٹ، ڈرون اور ڈرائیور کے بغیر چلنے والی کاریں شامل ہیں جنہیں کمپیوٹر وژن کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اگرتمام نظام فوری طور پر کوئی منظر دیکھ کر اسے پہچان سکے تو اس سے ان کے کام کرنے کی صلاحیت کو چار چاند لگ سکتے ہیں اور ڈرون سے لے کر روبوٹ تک کو بہت مؤثراور تیزرفتار بنایا جاسکتا ہے۔
لیکن ہم جانتے ہیں کہ مشین کو کسی منظر دیکھنے کے قابل بنانا کتنا مشکل ہے اور اس کے لیے کس قدر کمپیوٹر قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصنوعی بصارت کے چھوٹی چپ بنانا ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے کیونکہ ایک وقت میں بہت زیادہ بصری ڈیٹا جمع کیا جاتا ہے اور اسے پروسیس کرنے میں بہت وقت لگتا ہے۔

اس چپ کے ذریعے سارا ڈیٹا فوری طور پر پروسیس ہوتا رہتا ہے اور کم خرچ میں بہت تیزی سے اپنا عمل انجام دیتا ہے۔ یہ کام ویانا مٰیں واقع انسٹی ٹیوٹ آف فوٹونکس میں انجام دیا گیا ہے۔ مصنوعی آنکھ بنانے کے لیے جانور کی آنکھ کی نقل کی گئی ہے جو ساری معلومات کو دماغ تک بھیجنے سے پہلے ہی پروسیس کرلیتے ہیں۔

سائنسدانوں کی ٹیم نے ٹنگسٹن ڈی سیلینائیڈ کے چند ایٹم موٹی تہہ پر پوری چِپ ڈیزائن کی ہے۔ پھر اس پر روشنی محسوس کرنے والی ڈائیوڈ لگائی گئی ہے۔ پھر ان ڈائیوڈ کو ایک نیورل نیٹ ورک سے جوڑا گیا ۔ اس طرح پوری چپ نیورل نیٹ ورک سے یوں جڑتی ہے کہ آپ اسے حسبِ ضرورت تبدیل کرسکتے ہیں۔ اسی بنا پر اب تک چپ کو انگریزی کے بعض حروف یعنی N V اور Z کی شناخت کے قابل بنایا گیا ہے۔ تاہم اس پر مزید تحقیقات جاری ہے۔