امریکہ میں اژدھے کی خاتون کے دروازے پر دستک

واشنگٹن: امریکا میں اژدھے نے خاتون کے دروازے پر دستک دی، چار فٹ کے اژدھے کو دیکھ کر خاتون خوفزدہ ہوگئی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست شکاگو میں ایک اژدھا خاتون کے دروازے پر دیکھا گیا خاتون اژدھے کو دیکھ کر خوف میں مبتلا ہوگئیں۔ خاتون کے شوہر نے کہا کہ وہ صبح اس وقت حیرت میں مبتلا ہوگئے جب ووڈلوان کے پڑوس میں اس کے گھر کے سامنے کے دروازے پر اژدھا دکھائی دیا۔

برائنٹ کا کہنا تھا کہ میں اژدھے کو دیکھ کر کنارے پر ہی جمی رہ گئی اور ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا۔ برائنٹ کی اہلیہ نے مدد کے لیے 311 پر فون کیا اور ان کے گھر پر کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار نے دو گھنٹے بعد شکاگو کے اینیمل کیئر اینڈ کنٹرول افسر کے پہنچنے سے پہلے سانپ پر بالٹی رکھی۔

برائنٹ نے بتایا کہ ایک ہمسایہ نے جانوروں کے کنٹرول افسر کی مدد کرنے کے لیے اس اژدھے کو دوگرے پر رکھ دیا تھا۔ بعدازاں محکمہ اینیمیل کیئر کے افسر نے اژدھے کو اپنے قبضے میں لے لیا۔

سست اور کاہل لوگوں کو گھر بیٹھے رقم ملے گی

برلن : جرمن یونیورسٹی نے ایسے لوگوں کو وظائف دینے کا فیصلہ کیا ہے جو کچھ نہیں کرنا چاہتے یعنی یا وہ سُستی اور کاہلی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

تفصیلات کے مطابق جرمنی یونیورسٹی کی انتظامیہ ایسے لوگوں کو وظائف دے رہی ہے اور ان لوگوں کو بھی پیسہ دینے کو تیار ہے جو کم سے کم کام کرتے ہونگے۔ ہیمبرگ میں یونیورسٹی آف فائن آرٹس ایک انوکھے پروجیکٹ میں حصہ لینے کے لئے ایسے لوگوں کی تلاش کر رہی ہے جو سست ہوں اور جن میں اولوالعزمی کی کمی ہو۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق درخواست دہندگان کو یونیورسٹی کے اکیڈمکس کو یہ بھروسہ دلانا ہو گا کہ1600 یورو کے تین وظائف میں سے ایک کو جیتنے کے لئے دلچسپ طریقہ سے کس طرح غیرفعال ہوں گے۔ درخواست فارم میں درخواست دہندگان سے دو سوال پوچھے گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ آپ کیا نہیں کرنا چاہتے ہیں اور جو آپ کرنا نہیں چاہتے وہ نہ کرنا کیوں اہم ہے؟ اس کے لئے درخواست دہندگان 15 ستمبر تک درخواستیں دے سکتے ہیں۔

اس پروجیکٹ کو ڈیزائن کرنے والے پروفیسر فریڈرک وان بورس کے مطابق معاشی سماجی تبدیلی لانے میں مدد کرنے کے لئے سستی، کاہلی کا باریکی سے مطالعہ کرنا اہم ہے۔ یہ تجربہ زندگی میں مسلسل کامیابی حاصل کرنے کی دوڑ سے باہر نکالنے اور اپنے دائرے میں گھومتے جا رہے زندگی کے پہیے سے الگ ہٹنے سے وابستہ ہے۔ پورے جرمنی کے درخواست دہندگان کو 15 ستمبر سے پہلے فعال غیر فعالیت نامی اپنے پروجیکٹ سے متعلق خیالات کو جمع کرنا ہوگا۔

لوگوں پر ماسک پھینکنے والی گن تیار

نیویارک: کورونا وائرس کے دوران سب سے تکلیف دہ لوگوں کا وہ ڈھیٹ رویہ ہے جس کے تحت وہ ماسک لگانے سے انکار کرتے ہیں۔ اب اس کے علاج کے لیے ایک امریکی نے ماسک پھینکنے والی گن بنالی ہے جسے کئی طرح سے آزمایا بھی گیا ہے۔

یوٹیوب چینل چلانے والے اور ایک موجد پال ایلن نے ماسک نہ پہننے والے ضدی افراد کا ایک منفرد حل پیش کیا۔ اس کے لیے انہوں نے ایک عجیب و غریب دستی گن بنائی جو براہِ راست لوگوں کے چہرے پر میڈیکل ماسک پھینکتی ہے اور اگر درست انداز سے ماسک فائر کیا جائے تو ماسک چہرے پر جابیٹھتا ہے۔

ایلن نے سب سے پہلےماسک گن کو اپنے آپ پر آزمایا ہے جو سائنس فکشن فلموں جیسی کوئی شے لگتی ہے۔ ایک ویڈیو میں ایلن پال کہہ رہےہیں کہ لوگوں کو کورونا وبا میں ماسک پہننا چاہئے لیکن وہ نہیں پہن رہے۔ اس لیے میں نے ایک دلچسپ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک مؤثر اور محفوظ طریقے سے لوگوں پر ماسک پھینکے جاسکتے ہیں۔

پال کے یوٹیوب چینل پر ان کے لاکھوں صارفین نے ان سے ماسک نہ پہننے والے ہٹ دھرم افراد کی شکایت کرتے ہوئے کوئی حل نکالنے کا مشورہ دیا تو انہوں ںے خود یہ گن تیار کرلی جس پر ماسک کو تنی ہوئی حالت میں رکھا جاتا ہے اور وہ سیدھا چہرے پرپہنچتا ہے اور اطراف کی ڈوریں گھوم کر ماسک کو چہرے پر چپکادیتی ہیں۔ ماسک کے سرے پر مقناطیسی وزن ہیں جو گھوم کر آپس میں چپک جاتے ہیں۔

ایلن پال یہ چاہتے ہیں کہ ماسک گن سے کوئی زخمی نہ ہو اسی لیے وہ نشانہ لیتے وقت لیزر سے مدد لیتے ہیں اور اس گن کو بعض افراد نے آزمایا بھی ہے۔

برطانیہ میں لاک ڈاؤن، شہری از خود ہیئرڈریسر بن گئے

ندن: برطانیہ میں کروناوائرس کے پیش نظر نافذ العمل لاک ڈاؤن کے باعث شہری از خود ہیئر ڈریسر بن گئے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سرکاری اور نجی دفاتر سمیت دیگر تمام کاروباری مراکز بند ہیں۔ حجام کی دکانیں بند ہونے کے باعث شہری اپنے بال خود سنوار رہے ہیں۔

لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سر کے بال کاٹے اور نائی کی طرح اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شہریوں نے از خود کس طرح بال بنائے۔ سیکڑوں صارفین نے دلچسپ تبصرے بھی کیے۔

اسپین،شہری نے لاک ڈاؤن کے دوران پولیس کو چکمہ دے دیا

اسپین: ایک شہری کرونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے دوران پولیس کو چکمہ دینے کے لیے کھلونے کتے کو لے کر باہر نکل گیا اور کتے کو ٹہلانے کا ڈرامہ کرنے لگا۔

اسپین میں کرونا وائرس کے تیز رفتار پھیلاؤ کے سبب ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کا کہا گیا ہے۔ شہریوں کو صرف کام یا اسپتال جانے کے لیے اور روزمرہ اشیا کی خریداری کے لیے باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ خلاف ورزی کرنے اور بلا ضرورت باہر گھومنے والوں پر 601 یوروز سے 30 ہزار یوروز کے درمیان جرمانہ ہوسکتا ہے۔

اس دوران ایک معمولی نرمی یہ کی گئی ہے کہ پالتو کتے رکھنے والے افراد کو مختصر وقت کے لیے کتے کو لے کر باہر نکلنے اور ہوا خوری کروانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس نرمی کا فائدہ اٹھا کر ایک شخص نے کھلونے کتے کے گلے میں پٹہ ڈالا اور اسے لے کر باہر نکل گیا، اس دوران وہ کتے کو ٹہلانے کا ڈرامہ کرتا رہا تاہم جلد ہی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پولیس اس تک پہنچ گئی۔

مقامی پولیس نے مذکورہ شخص کو بغیر جرمانے کے وارننگ دے کر چھوڑ دیا۔ بعد ازاں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے پولیس نے کہا کہ یہ ایمرجنسی لوگوں کی بھلائی کے لیے ہی لگائی گئی ہے، پولیس کو دھوکہ دینے سے پہلے کامن سینس کا استعمال کریں۔ خیال رہے کہ اسپین میں اب تک کرونا وائرس کے 14 ہزار 769 مریضوں کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ جان لیوا وائرس 638 افراد کی جانیں لے چکا ہے۔ وائرس سے اب تک 1 ہزار 81 افراد صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔

کتے کا ڈرون کے ساتھ گشت

ووہان: دنیا بھر میں کرونا وائرس قہر برسا رہا ہے جس کی وجہ سے کروڑوں شہری گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ چین کے شہر ووہان سے گزشتہ برس دسمبر میں پھیلنے والے مہلک وائرس کو عالمی ادارہ صحت نے کووڈ 19 کا نام دیا اور جب صورت حال گھمبیر ہوگئی تو اس وائرس کو وبا قرار دیا۔

آج تک کی اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے دس ہزار سے زائد مریض موت کے منہ میں جاچکے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد بھی بڑھ کر تقریباً 2 لاکھ 46 ہزار سے تجاوز کرچکی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے یورپ کو کرونا وائرس کا مرکز قرار دیا، جہاں عالمگیر وبا نے تباہی مچادی ہے اور صرف اٹلی میں ہی 3400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

اس سے قبل چین میں کرونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں البتہ گزشتہ پانچ روز سے اٹلی میں خوفناک صورت حال دیکھنے میں آرہی ہے۔ دنیا کے تقریبا تمام ہی ممالک نے اپنے عوام کو وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔ امریکا، برطانیہ، یورپ، خلیجی اور مشرقِ وسطیٰ سمیت تمام ہی ممالک کی حکومتوں نے مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن کیا ہے تاکہ عوام کرونا سے محفوظ رہ سکیں اور بیماری پر قابو پایا جاسکے۔

ترک اور فلسطین کے وسط میں واقع ملک قبرص میں بھی لاک ڈاؤن ہے اور وہاں کے شہری گھروں پر وقت گزار رہے ہیں ایسے میں پالتو جانوروں کو باہر بھیجنا بڑا چیلنج ہے۔ قبرص کے دارالحکومت نکوسیا کے شہری نے کرونا سے محفوظ رہنے کے لیے خود کو گھر تک محدود کرلیا جبکہ وہ اپنے کتے کو روزانہ باہر گلی میں بھیجتا ہے۔

کیچن میں رکھے انڈے سانپ کھا گیا، ویڈیو وائرل

نیویارک: زہریلے یا نقصان پہنچانے والے جانور دیکھ کر انسان کے اعصاب کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں تاہم ہمارے ارد گرد کچھ ایسے بہادر لوگ بھی موجود ہیں جو کسی بھی خطرے کا سامنا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

اگر کسی عقل مند شخص کو سانپ کی موجودگی کا علم ہوجائے تو وہ اُس مقام سے دور جانے میں ہی عافیت سمجھتا ہے کیونکہ اُسے یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر سانپ نے ڈس لیا تو جان جانے کا خدشہ ہے اور اگر کسی کو اژدھے کی موجودگی کا خدشہ بھی ہو تو پھر اُس جگہ سے کئی فٹ کا فاصلہ اختیار کرنا ہی بہتر سمجھا جاتا ہے۔

سانپ بڑا ہو یا معمولی اسے خوف کی علامت ہی سمجھا جاتا ہے تاہم سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیو وائرل ہوئی جس نے سب کے ہوش اڑا دیے۔

دی سن کی رپورٹ کے مطابق امریکی جوڑا جب گھر واپس آیا تو وہ خوف زدہ ہوگیا کیونکہ اُن کے باورچی خانے میں کئی فٹ لمبا خطرناک سانپ موجود تھا جو میز پر رکھے انڈے نگل رہا تھا۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کئی فٹ لمبا سیاہ سانپ انڈا نگلنے کی کوشش کررہا ہے۔

خاتون کے مطابق وہ یہ منظر دیکھ کر خوف زدہ ہوگئیں تھیں مگر پھر اُن کے شوہر نے ویڈیو ریکارڈ کرنا شروع کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ جب ہم گھر پہنچے تو سانپ کئی انڈے کھا چکا تھا۔

امریکی جوڑے نے سانپ کی موجودگی کی اطلاع پولیس کو دی جس کے بعد وہ وائلڈ لائف کے رضاکاروں کے ساتھ متعلقہ گھر پہنچے اور سانپ کو پکڑ کر چڑیا گھر منتقل کیا۔

کورونا کا خوف؛ لوگوں نے حفاظتی لباس پہن کر راشن خریدنا شروع کردیا

کرائسٹ چرچ: کورونا وائرس کے خوف نے جہاں دنیا بھر کی معیشت پر پنجے گاڑ لیے ہیں اور افواہوں کے نہ رکنے والے طوفان کو جنم دیا ہے، وہیں گھبراہٹ اور افراتفری کی وجہ سے کچھ دلچسپ مناظر دیکھنے میں بھی آرہے ہیں۔ کچھ لوگ کورونا وائرس سے اتنے خوف زدہ ہیں کہ وہ نہ صرف کئی مہینوں کا راشن ایک ساتھ خریدنے سپر اسٹورز پہنچ گئے ہیں بلکہ انہوں نے اسی طرح کا حفاظتی لباس پہنا ہوا ہے جیسا آگ بجھانے والے یا خطرناک کیمیکلز کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے پہنتے ہیں۔

اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ایسے لوگوں کا تعلق کسی پسماندہ یا غریب ممالک سے ہے تو یہ غلط فہمی بھی دُور کر لیجیے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ تصویریں امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے سپر اسٹورز کی ہیں۔

واضح رہے کہ ناول کورونا وائرس کی عالمی وبا ایک بھیانک خوف کی طرح ساری دنیا پر مسلط ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ کورونا وائرس کی ہلاکت خیزی، ماضی کی دوسری عالمی وباؤں کے مقابلے میں بہت کم (تقریباً 3 فیصد) ہے جبکہ اس سے متاثرہ افراد میں صحت یاب ہونے کا تناسب بھی بہت زیادہ ہے، خوف زدہ کرنے والی افواہیں زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہیں جن کے باعث افراتفری کی کیفیت شدید سے شدید تر ہوتی جارہی ہے۔

اس کیفیت کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مشہور برطانوی ماڈل ناؤمی کیمبل تک نے اپنے لیے ایک حفاظتی لباس خرید لیا ہے جسے وہ گھر سے نکلتے وقت لازماً پہنتی ہیں۔

کروناوائرس کا ٹیلی ویژن پر انٹرویو

قاہرہ: مصر میں ایک نجی ٹیلی ویژن نے ’’کروناوائرس‘‘ کو انٹرویو کے لیے بلا لیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق نامعلوم شخص کروناوائرس کا روپ دھار کر مقامی ٹی وی کو انٹرویو دینے پہنچ گیا جس پر سوشل میڈیا صارفین شدید تنقید بھی کررہے ہیں۔ ’’جابر القرموتی‘‘ نے اپنے پروگرام میں ایک ایسے شخص کو انٹرویو کے لیے بلایا جس نے کروناوائرس کا روپ دھار رکھا تھا اس دوران مہمان سے مہلک وائرس سے متعلق کئی سوالات پوچھے گئے۔

مذکورہ پروگرام کے ٹی پر نشر ہوتے ہی سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑچکی ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ یہ صحافتی اقدار کے خلاف ہے جبکہ متعدد افراد نے جان لیوا وائرس سے کھلواڑ قرار دیا۔ مہلک کروناوائرس سے دنیا بھر میں اب تک 5 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 1 لاکھ کے قریب افراد متاثر ہیں۔

متعدد افراد نے مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں جہاں سیکڑوں لوگ مارے جارہے ہیں وہیں ایسے بھی ٹی وی شوز ہیں جہاں کروناوائرس پر مزاحیہ مواد تیار کیا جارہا ہے۔ مذکورہ ہوسٹ نے نشر ہونے والے اپنے پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پیشہ ورانہ خدمات انجام دیتے ہوئے ایک طرح سے شہریوں کو آگاہی فراہم کی جس میں ’’کروناوائرس‘‘ سے متعلق متعدد سوال پوچھے جو حقیقت پر مبنی تھے۔

کھلی فضا کے بجائے زیر زمین انوکھا واٹر پارک

نیوجرسی: دنیا بھر میں واٹرپارک کھلی فضا میں بنائے جاتے ہیں لیکن اب دنیا کا سب سے بڑا انڈور واٹر پارک اس ہفتے کھولا جارہا ہے جسے اینی میشن فلمیں بنانے والی کمپنی ’ڈریم ورکس‘ نے تیار کیا ہے۔

اس واٹر پارک میں رائیڈز، پھسلیاں اور دیگر تفریحی تعمیرات مشہور کرداروں کنگ فو پانڈا اور شریک سے متاثر ہوکر بنائی گئی ہیں جبکہ بچے اور بڑے ان فلموں کے کرداروں کو بھی جیتا جاگتا ہوا دیکھ سکیں گے۔

ڈریم ورکس کے مطابق یہ شمالی امریکا کا سب سے بڑا واٹر پارک ہے جسے ہر ممکن حد تک حقیقی بنایا گیا ہے۔ ڈریم ورکس واٹر پارک کی تعمیر میں ایک اور ادارہ امریکن ڈریم بھی ہے جو نیو جرسی کی ایک کمپنی ہے لیکن یہ واٹرپارک مرحلہ وار انداز میں کھولا جائے گا۔
واضح رہے کہ پورا پارک ہی شیشے سے بنی بہت بڑی عمارت کے اندر قائم کیا گیا ہے جس میں ایک دو نہیں بلکہ 40 سے زائد واٹر سلائیڈز اور رائیڈز تعمیر کی گئی ہیں۔ مڈغاسکر کا پورا بارانی جنگل یہاں تعمیر کیا گیا ہے اور شریک فلم کی مشہور دلدل بھی بنائی گئی ہے۔ اسی جگہ کنگ فو پانڈا کی مشہور جگہوں کو بھی دیکھا جاسکے گا۔

واٹر پارک کی ایک اور خاص بات پرفیکٹ سویل ہے جو ڈیڑھ ایکڑ پر پھیلا دنیا کا سب سے بڑا ایسا سوئمنگ پول ہے جہاں مشینوں کے ذریعے مصنوعی لہریں پیدا کی جاتی ہیں جبکہ ایک اور طویل ترین واٹر سلائیڈ بھی ہے جس کی اونچائی 142 فٹ کے لگ بھگ ہے۔

اسی پارک میں ’’نکلیوڈیون یونیورس‘‘ کے نام سے ایک تفریحی گوشہ بنایا گیا ہے جبکہ برف پر پھسلنے کی انڈور اسکینگ سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔