ماہرین نے 15 کروڑ سال پرانے لمبی گردن والے سبزی خور ڈائنوسار کی نئی نسل کی شناخت کرلی
تھائی لینڈ کے شمال مشرقی صوبے کالاسین میں ماہرینِ حیاتیات نے ایک نایاب نسل کے ڈائنوسار کی باقیات دریافت کرلی ہیں، جسے سائنسی تحقیق میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دریافت ہونے والا ڈائنوسار لمبی گردن رکھنے والا سبزی خور جانور تھا، جو درختوں کے پتے کھاتا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی جسمانی ساخت میں ایسی منفرد خصوصیات پائی گئی ہیں جو اس سے قبل کسی دوسرے ڈائنوسار میں نہیں دیکھی گئیں۔
سائنس دانوں نے اس نئی نسل کا نام Uragasaurus kalasinensis رکھا ہے۔ محققین کے مطابق یہ ڈائنوسار تقریباً 15 کروڑ سال قبل جوراسک دور کے آخری حصے میں زمین پر موجود تھا، جبکہ اس کی لمبائی تقریباً 20 میٹر تھی، جو ایک کرکٹ پچ کے برابر سمجھی جاتی ہے۔
تھائی لینڈ کی مہاسراکھم یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے محقق ڈاکٹر اپیروت نیلپناپن کے مطابق باقیات Phu Noi کے مقام سے ملی ہیں، جہاں 2008 میں پہلی بار ڈائنوسار کی ہڈی کا ایک ٹکڑا دریافت ہونے کے بعد باقاعدہ کھدائی کا آغاز کیا گیا تھا۔
تحقیقی ٹیم کو کھدائی کے دوران دانت، ہڈیاں اور دیگر فوسلز بھی ملے، جن کی مدد سے نئی نسل کی شناخت ممکن ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ Phu Noi کا علاقہ جوراسک دور کے فوسلز کے حوالے سے دنیا کے اہم مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس تحقیق کے نتائج رواں ہفتے معروف سائنسی جریدے Nature میں شائع کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ رواں سال مئی میں بھی تھائی لینڈ سے لمبی گردن والے ایک اور سبزی خور ڈائنوسار Nagatitan کی دریافت سامنے آئی تھی، جسے جنوب مشرقی ایشیا کا اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا ڈائنوسار قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی 27 میٹر جبکہ وزن تقریباً 27 ٹن بتایا گیا تھا۔




