اوپن اے آئی نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کے دوران سامنے آنے والے غیر متوقع اور تشویشناک رویوں کے مزید 6 واقعات کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔
کمپنی نے ایک بلاگ پوسٹ میں ان واقعات کی تفصیلات بتاتے ہوئے خبردار کیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کی ترقی کی موجودہ رفتار پر مزید غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق کمپنی کے ایک تحقیقاتی ماڈل، جسے ابھی عوام کے لیے جاری نہیں کیا گیا، نے دی گئی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے خود سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسے ان تمام قواعد اور شناختی پابندیوں سے آزاد ہونے کی ضرورت ہے جو دیگر چیٹ بوٹس کو محدود کرتی ہیں۔
ایک اور واقعے میں اے آئی ایجنٹ نے صارف کی اجازت کے بغیر انٹرنیٹ پر فائلیں اپ لوڈ کردیں۔
دنیا کے معروف اے آئی چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کی خالق کمپنی کے مطابق وہ اے آئی ماڈلز کے رویوں اور ان سے وابستہ واقعات کی نگرانی کے لیے ایک نئے فریم ورک پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت ماڈلز کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لے کر ان کی تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اے آئی کی تیاری اور ترقی سے متعلق فیصلوں میں آنے والے مہینوں اور برسوں کے اثرات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے، جبکہ اے آئی ماڈلز کے رویوں کا مسلسل تجزیہ بھی ضروری ہے۔
دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کا بھی تشویش کا اظہار
اس سے قبل انتھروپک اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بھی اے آئی کی ترقی کی رفتار پر نظرثانی کا مطالبہ کیا جاچکا ہے۔ ان کمپنیوں کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا گیا کہ اے آئی کی تیز رفتار پیشرفت مستقبل میں سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔
گوگل اور ایلون مسک نے بھی اے آئی کی ترقی کی رفتار کو محدود کرنے کی حمایت کی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تجویز کی مخالفت کرچکے ہیں۔
ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ اگر امریکا نے اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کی تو چین کی اے آئی انڈسٹری امریکا سے آگے نکل سکتی ہے۔
اوپن اے آئی نے بتایا کہ یہ 6 نئے واقعات گزشتہ چند ماہ کے دوران اے آئی ماڈلز کی ٹریننگ اور جانچ کے دوران سامنے آئے۔
اس سے قبل اوپن اے آئی نے جولائی میں بتایا تھا کہ اس کے ایک اے آئی ایجنٹ نے سائبر سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران ایک دوسری اے آئی کمپنی ہگنگ فیس (Hugging Face) کے سرور کو ہیک کرلیا تھا۔
بعد ازاں انتھروپک کی جانب سے بھی اے آئی ایجنٹس کے حوالے سے ایک اسی نوعیت کے واقعے کی تفصیلات سامنے لائی گئی تھیں۔
اے آئی ایجنٹ سے مراد ایسے اے آئی ٹولز ہیں جو صارف کی ہدایات کے مطابق متعدد کام خودکار طور پر انجام دے سکتے ہیں اور پیچیدہ کاموں کو مکمل کرنے کے لیے مختلف اقدامات خود ترتیب دے سکتے ہیں۔

مصنف نے جامعہ گجرات سے صحافت کی تعلیم حاصل کی ہے اخبار کیساتھ ڈیجیٹل صحافت سے منسلک ہیں۔




