نئے صوبوں پر عوام کا فیصلہ قبول ہوگا، زور زبردستی سے نہ کل مانے نہ کبھی مانیں گے: بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق عوام کا جو فیصلہ ہوگا، پیپلز پارٹی اس کے ساتھ کھڑی ہوگی، تاہم زور زبردستی سے کیے گئے کسی فیصلے کو نہ کل مانا ہے اور نہ آئندہ مانیں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صوبوں سے متعلق پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے، وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نئے صوبوں کی مخالف ہے۔ جب تک کوئی اسمبلی کسی تجویز کی مخالفت نہیں کرتی، اس پر اعتراض کیسے کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں اتفاق رائے موجود ہو وہاں فیصلہ اتفاق رائے سے ہونا چاہیے، جبکہ جہاں اتفاق رائے نہ ہو وہاں اگر کوئی سیاسی جماعت بات کرنا چاہتی ہے تو اس سے بات چیت کی جانی چاہیے۔

بلاول بھٹو نے حکومت سے تعاون کے حوالے سے کہا کہ اگر ان کے تحفظات دور نہیں کیے گئے تو پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کے ساتھ تعاون کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف قومی نوعیت کے معاملات پر تعاون ممکن ہے۔

آزاد کشمیر کے انتخابات پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کو انتخابات میں ہرایا گیا اور اگر مسلم لیگ ن کو ایسا متنازع الیکشن چاہیے تھا تو انہیں مبارک ہو۔

انہوں نے کہا کہ وہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ’’حق ملکیت، حق حکمرانی‘‘ کے منشور پر انتخابات لڑ کر آئے ہیں۔ ان کے بقول یہ ممکن نہیں کہ پیپلز پارٹی حکومتی بینچوں پر بیٹھے اور اسے اپنے کارکنوں کی لاشیں اٹھانا پڑیں۔

بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ کیا اتحادیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسا آزاد کشمیر کے انتخابات میں ہوا؟ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے انتخابات سے قبل اپنے تحفظات اور سکیورٹی سے متعلق خدشات سے آگاہ کیا تھا، تاہم مسلم لیگ ن نے اعتراضات کے معاملے پر پارٹی یا پارلیمانی کمیٹی سے رابطے کی کوشش نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کا الیکشن انتہائی حساس معاملہ ہے اور اگر انتخابی عمل غیر متنازع ہوتا تو بہتر ہوتا۔ ان کے مطابق متنازع حکومت کشمیر کے مسائل حل نہیں کرسکتی اور ان مسائل کے حل کے لیے عوامی مینڈیٹ کی حامل حکومت ضروری ہے۔

26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کے سامنے فی الحال کسی ترمیم کا کوئی نکتہ نہیں آیا۔ اگر کوئی تجویز سامنے آتی ہے تو وہ اس پر بات کریں گے۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کا علاج ہو اور وہ صحت یاب ہوں۔

اپوزیشن سے رابطوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا اپوزیشن سے رابطہ ہوا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر بات کریں۔ ان کے مطابق ان کی اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پارلیمان کو عزت دی ہے اور خواہش ہے کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آئیں۔ پارلیمان کو فعال بنانے کے لیے قائمہ کمیٹیوں کو فعال کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹیوں میں اپوزیشن کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اپوزیشن جماعتیں انتخابی عمل میں اپنا کردار ادا کریں اور اگر وہ انتخابی نظام میں بہتری چاہتی ہیں تو انتخابی اصلاحات کے لیے مل کر کام کیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں