ایرانی فوجیوں کی شہادت کا بدلہ، ایران کا شام میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شام میں واقع امریکی اسپیشل آپریشنز کے کمانڈ سینٹر التنف کو نشانہ بنایا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی ایرانی شہر ایرانشہر میں ایرانی فوجیوں کی شہادت کے ردعمل میں کی گئی۔

آئی آر جی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کے التنف میں موجود امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹر کو ایرانشہر میں فوجیوں کی شہادت کا جواب دیتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔

تاہم رائٹرز کے مطابق اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ امریکی فوج اور شامی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

بعد ازاں شامی فوج کے ایک اہلکار نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی دعوے کی تردید کی۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اہلکار نے کہا کہ التنف کے علاقے پر کسی ایرانی حملے کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی فوج نے رواں سال فروری میں اعلان کیا تھا کہ اس نے شام، اردن اور عراق کی سرحدوں کے سنگم پر واقع التنف فوجی اڈے سے اپنی واپسی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ پر ایران کا مکمل کنٹرول برقرار ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ جب تک امریکا کے حملے جاری رہیں گے، اس وقت تک آبنائے ہرمز کے راستے تیل اور گیس کی برآمدات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تاہم امریکی حکام نے ایران کے ان دعوؤں پر تاحال نہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید جاری کی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان تناؤ بدستور برقرار ہے، جبکہ مختلف فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں