پاکستان نے ایران کو دوٹوک انداز میں آگاہ کر دیا ہے کہ سعودی عرب اس کے لیے “سرخ لکیر” کی حیثیت رکھتا ہے اور سعودی عرب پر کسی بھی قسم کا حملہ پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے رواں ہفتے سعودی عرب پر کیے گئے میزائل حملوں کے بعد اسلام آباد میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے پیر کے روز اپنے زیرِ قبضہ ایک ہوائی اڈے پر سعودی فضائی حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے سعودی عرب کی جانب متعدد میزائل داغے، جس کے بعد پاکستان کو خدشہ پیدا ہوا کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کی صورت میں وہ بھی اس تنازع کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔
رائٹرز کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان مستقبل میں پاکستان کے ممکنہ ثالثی کردار کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
ایک پاکستانی اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے ایران کو اعلیٰ ترین سطح پر واضح پیغام دیا ہے کہ “سعودی عرب ہماری سرخ لکیر ہے، اس پر ہونے والا کوئی بھی حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا۔”
رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی تعاون کا معاہدہ بھی طے پایا تھا، جس کے تحت ہزاروں پاکستانی فوجی اور فضائیہ کا ایک دستہ سعودی عرب میں تعینات ہے۔
رائٹرز کے مطابق پاکستان اس سے قبل بھی سعودی عرب پر ایران سے منسلک حملوں پر اپنی تشویش کا اظہار کر چکا ہے، تاہم علاقائی امور کے ماہرین اور حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حوثی حملوں کے بعد اسلام آباد کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے، کیونکہ ان حملوں سے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان ایک نئی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔




