ملیریا کے خلاف عالمی جنگ: بدلتے موسم اور بڑھتے خطرات

ہر سال 25 اپریل کو دنیا بھر میں عالمی یوم ملیریا (World Malaria Day) منایا جاتا ہے تاکہ اس مہلک بیماری کے خلاف آگاہی پیدا کی جائے، مؤثر حفاظتی اقدامات کو فروغ دیا جائے اور عالمی سطح پر اس کے خاتمے کی کوششوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

ملیریا دنیا کے قدیم ترین اور خطرناک متعدی امراض میں شمار ہوتا ہے، جو مچھر کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اگرچہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس بیماری پر قابو پانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ماہرین صحت کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، بڑھتا ہوا درجہ حرارت، سیلاب اور شہری آبادی میں اضافہ ملیریا کے پھیلاؤ کے نئے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔

ملیریا کیا ہے؟

ملیریا ایک متعدی بیماری ہے جو اینوفیلس (Anopheles) نسل کی مادہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ یہ مچھر پلازموڈیم (Plasmodium) نامی طفیلی جرثومہ انسان کے جسم میں منتقل کرتا ہے، جو خون کے سرخ خلیوں کو متاثر کرتا ہے۔

اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو ملیریا جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً بچوں، حاملہ خواتین اور کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے افراد کے لیے۔

علامات کیا ہیں؟

ملیریا کی عام علامات میں:

تیز بخار
شدید سردی لگنا
جسم میں درد
سر درد
متلی اور قے
شدید کمزوری
پسینہ آنا

شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی معائنہ اور تشخیص انتہائی ضروری ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور ملیریا

ماہرین صحت کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے ملیریا کے پھیلاؤ کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔

زیادہ بارشیں، سیلاب، پانی کا جمع ہونا اور درجہ حرارت میں اضافہ مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں، جس سے ایسے علاقوں میں بھی بیماری پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے جہاں پہلے اس کے کیسز نسبتاً کم تھے۔

پاکستان میں صورتحال

پاکستان میں ملیریا اب بھی ایک اہم عوامی صحت کا مسئلہ ہے، خصوصاً سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں ہر سال ہزاروں افراد اس بیماری سے متاثر ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد بعض علاقوں میں ملیریا کے کیسز میں اضافہ بھی دیکھا گیا، جس کے باعث حفاظتی اقدامات کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔

عالمی برادری کی کوششیں

عالمی ادارۂ صحت (WHO)، مختلف حکومتیں اور طبی ادارے ملیریا کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کر رہے ہیں۔

ان کوششوں میں:

مچھر دانیوں کی فراہمی
حفاظتی اسپرے
بروقت تشخیص
جدید ادویات
ویکسین پر تحقیق
عوامی آگاہی مہمات

شامل ہیں۔
احتیاطی تدابیر

ماہرین کے مطابق ملیریا سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اقدامات مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں:

مچھر دانی کا استعمال کریں۔
پانی جمع نہ ہونے دیں۔
گھروں اور اردگرد صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
مچھر مار اسپرے اور ریپیلنٹ استعمال کریں۔
بخار کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
متاثرہ علاقوں کا سفر کرتے وقت حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔
ملیریا کا خاتمہ کیوں ضروری ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملیریا صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی گہرے ہوتے ہیں۔ بیماری کے باعث علاج کے اخراجات، کام کے دنوں کا ضیاع اور صحت کے نظام پر اضافی دباؤ پیدا ہوتا ہے۔

اگر مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں تو مستقبل میں ملیریا کے کیسز میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے، جس سے لاکھوں انسانی جانیں محفوظ بنائی جا سکتی ہیں۔

تحریر: سلیم رمضان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں