سمندروں میں پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے فضلے نے وہیل، ڈولفن، کچھوؤں، مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کی بقا کو خطرے میں ڈال دیا، ماہرین فوری اقدامات پر زور دے رہے ہیں
تحریر: سلیم رمضان
پلاسٹک نے انسانی زندگی کو بلاشبہ آسان بنایا ہے، لیکن اس کی بے تحاشا پیداوار اور غیر ذمہ دارانہ استعمال اب زمین اور خصوصاً سمندری ماحول کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک کا فضلہ دریاؤں اور سمندروں میں پہنچتا ہے، جہاں یہ نہ صرف آبی حیات کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ بالآخر انسانی خوراک اور صحت کو بھی متاثر کرتا ہے۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں سمندروں میں پلاسٹک کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں کئی سمندری انواع معدومی کے خطرے سے دوچار ہو جائیں گی۔
سمندروں میں پلاسٹک کیسے پہنچتا ہے؟
پلاسٹک کا بیشتر فضلہ شہروں، صنعتی علاقوں، ندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعے سمندروں تک پہنچتا ہے۔ استعمال شدہ بوتلیں، شاپنگ بیگز، پیکنگ میٹریل، اسٹراؤ، مچھلی پکڑنے کے جال اور دیگر پلاسٹک اشیا برسوں تک ختم نہیں ہوتیں بلکہ پانی میں چھوٹے ذرات، یعنی مائیکرو پلاسٹکس میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
یہ ذرات سمندری جانوروں کی خوراک کا حصہ بن جاتے ہیں، جس سے پورا غذائی سلسلہ متاثر ہونے لگتا ہے۔
وہیل، ڈولفن اور کچھوے کیوں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں؟
سمندری ماہرین کے مطابق وہیل، ڈولفن، کچھوے اور سمندری پرندے اکثر پلاسٹک کو خوراک سمجھ کر نگل لیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کے معدے میں پلاسٹک جمع ہو جاتا ہے، جس سے وہ بھوک کے باوجود خوراک نہیں کھا پاتے اور بالآخر کمزوری یا بھوک سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح مچھلی پکڑنے والے پرانے جال، جنہیں “گھوسٹ نیٹس” کہا جاتا ہے، برسوں تک سمندر میں تیرتے رہتے ہیں۔ ان میں وہیل، ڈولفن، کچھوے اور دیگر آبی جانور پھنس کر زخمی یا ہلاک ہو جاتے ہیں۔
مائیکرو پلاسٹکس انسانی صحت کے لیے بھی خطرہ
پلاسٹک صرف سمندری حیات ہی نہیں بلکہ انسانوں کے لیے بھی ایک ابھرتا ہوا چیلنج ہے۔
ماہرین کے مطابق مائیکرو پلاسٹکس مچھلیوں اور دیگر سمندری خوراک میں شامل ہو کر انسانی جسم تک پہنچ سکتے ہیں۔ اگرچہ اس کے طویل مدتی اثرات پر تحقیق جاری ہے، تاہم سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ یہ ذرات انسانی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی سے بھی تعلق
پلاسٹک آلودگی کا تعلق صرف فضلے تک محدود نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی سے بھی جڑا ہوا ہے۔
پلاسٹک زیادہ تر خام تیل اور قدرتی گیس سے تیار کیا جاتا ہے، جبکہ اس کی تیاری، نقل و حمل اور تلفی کے دوران گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بھی ہوتا ہے، جو عالمی حدت میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
پاکستان کو کن چیلنجز کا سامنا ہے؟
پاکستان میں بھی پلاسٹک کے استعمال میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ فضلہ ٹھکانے لگانے کا مؤثر نظام ہر جگہ موجود نہیں۔ شہری علاقوں سے نکلنے والا کچرا اکثر دریاؤں اور ندی نالوں کے ذریعے سمندر تک پہنچ جاتا ہے، جس سے بحیرۂ عرب کی آبی حیات بھی متاثر ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور ری سائیکلنگ کو فروغ نہ دیا گیا تو مستقبل میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
دنیا کیا اقدامات کر رہی ہے؟
دنیا کے کئی ممالک سنگل یوز پلاسٹک (Single-use Plastic) پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں، جبکہ ری سائیکلنگ، متبادل ماحول دوست مصنوعات کے استعمال اور ساحلی صفائی کی مہمات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی پلاسٹک آلودگی کے خاتمے کے لیے مختلف معاہدوں اور پالیسیوں پر کام جاری ہے تاکہ سمندری ماحول کو محفوظ بنایا جا سکے۔
عام شہری کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق ہر فرد چند آسان اقدامات کے ذریعے ماحول کے تحفظ میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔
سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال سے گریز کریں۔
کپڑے یا کاغذ کے تھیلے استعمال کریں۔
پلاسٹک کی بوتلوں اور دیگر اشیا کو ری سائیکل کریں۔
ساحلوں، دریاؤں اور عوامی مقامات پر کچرا نہ پھینکیں۔
ماحول دوست مصنوعات کو ترجیح دیں۔
اختتامیہ
سمندر زمین کے ماحولیاتی نظام کا بنیادی ستون ہیں اور ان میں موجود وہیل، ڈولفن، کچھوے اور دیگر آبی حیات اس نظام کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پلاسٹک آلودگی نہ صرف ان کی بقا بلکہ انسانی مستقبل کے لیے بھی ایک سنجیدہ خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومتیں، صنعتیں اور عوام مشترکہ طور پر مؤثر اقدامات کریں تو سمندروں کو پلاسٹک آلودگی سے بچایا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر آنے والی نسلوں کو ایک ایسے ماحول کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں صاف سمندر اور محفوظ آبی حیات محض ماضی کی یاد بن کر رہ جائیں۔




