چین کا پاکستان کے فعال کردار کا اعتراف؛ ایران امریکا عارضی جنگ بندی اور اسلام آباد مذاکرات کا خیرمقدم

Chinese Ambassador to Iran, Kong Peiwu, wearing a suit and glasses, speaking during an interview with the Chinese national flag in the background.

تہران:چین نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی اور اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی میں پاکستان کے فعال کردار کی کھل کر تعریف کی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں تہران میں متعین چینی سفیر کانگ پیوو نے خطے کی صورتحال، پاک چین تعاون اور ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات پر تفصیلی گفتگو کی۔

امریکا اور اسرائیل کی جنگ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے’

چینی سفیر کانگ پیوو کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی حالیہ جنگ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام تر تنازعات اور اختلافات کا واحد حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

چین، ایران کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کے جائز حق کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ چینی سفیر

آبنائے ہرمز کی سلامتی عالمی مفاد میں ہے

چینی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں چین کا کوئی ذاتی یا پوشیدہ مفاد نہیں ہے، وہ صرف امن، ترقی اور استحکام کا خواہشمند ہے۔ مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکراتی عمل کو مسلسل جاری رکھنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس راستے کی سلامتی اور اسے ہر قسم کی تجارت کے لیے کھلا رکھنا پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔

پاک ایران چین تعلقات اور بیرونی دباؤ کا خاتمہ

انٹرویو کے دوران چینی سفیر نے عزم ظاہر کیا کہ ایران اور چین کے مابین معمول کی تجارتی و اقتصادی سرگرمیاں کسی بھی بیرونی دباؤ یا پابندیوں سے متاثر نہیں ہوں گی۔ چین کسی بھی بیرونی طاقت کو دونوں ممالک کے جائز اقتصادی تعاون کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ‘جنگل کے قانون’ کی طرف واپس نہیں دھکیلا جا سکتا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ دور میں بین الاقوامی قوانین اور کثیرالجہتی نظام (Multilateralism) کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں