ایران پر امریکی حملے کی اندرونی کہانی؛ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی وہ ‘خفیہ کال’ جس نے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ بدل دی

"Donald Trump and Benjamin Netanyahu sitting together during a strategic meeting regarding the Iran operation."

واشنگٹن/تہران:ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی اور تہران پر ہونے والے تباہ کن حملے کے حوالے سے سنسنی خیز تفصیلات منظرِ عام پر آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کا فیصلہ اچانک نہیں تھا بلکہ یہ مہینوں پر محیط فوجی منصوبہ بندی اور انتہائی حساس انٹیلیجنس کا نتیجہ تھا۔

خفیہ کال اور گولڈن انٹیلیجنس
امریکی جریدے ‘Axios’ کے مطابق اس پورے آپریشن کا اہم ترین موڑ 23 فروری کو ہونے والی وہ خفیہ کال تھی جو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہوئی۔ اس گفتگو میں نیتن یاہو نے ٹرمپ کو مطلع کیا کہ اسرائیلی انٹیلیجنس کے پاس ایسی معلومات ہیں جن کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ان کے قریبی مشیر 28 فروری کی صبح تہران میں ایک ہی مقام پر موجود ہوں گے۔ نیتن یاہو کا اصرار تھا کہ یہ ایران کی اعلیٰ قیادت کو ایک ہی وار میں ختم کرنے کا سنہری موقع ہے جسے ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔

ٹرمپ کی ہچکچاہٹ اور سی آئی اے کی تصدیق
اگرچہ صدر ٹرمپ پہلے ہی ایران کے خلاف سخت کارروائی کے حق میں تھے لیکن انہوں نے فوری طور پر اسرائیلی معلومات پر بھروسہ کرنے کے بجائے امریکی انٹیلیجنس ایجنسی (CIA) کو ان حقائق کی تصدیق کا حکم دیا۔ 26 فروری تک سی آئی اے نے تصدیق کر دی کہ اسرائیلی معلومات درست ہیں اور ایرانی قیادت واقعی ایک ہی جگہ جمع ہونے والی ہے۔

سفارت کاری کا آخری موقع اور اسٹیٹ آف دی یونین خطاب
آپریشن کو انتہائی خفیہ رکھنے کے لیے صدر ٹرمپ نے 25 فروری کو اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایران کا ذکر بہت محدود رکھا تاکہ تہران کو کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ ملے اور وہ اپنی نقل و حرکت تبدیل نہ کریں۔ اسی دوران جارڈ کوشنر اور اسٹیو وٹکوف جنیوا میں ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کی آخری کوشش کر رہے تھے تاہم 26 فروری کو انہوں نے رپورٹ دی کہ سفارت کاری کا راستہ مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔

فیصلہ کن گھڑی
خفیہ معلومات کی تصدیق اور سفارت کاری کی ناکامی کے بعد 27 فروری کو امریکی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 38 منٹ پر صدر ٹرمپ نے تہران پر حملے کا حتمی حکم جاری کیا۔ اس حکم کے ٹھیک 11 گھنٹے بعد تہران کے اس مقام پر بمباری کی گئی جہاں خامنہ ای موجود تھے، جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں اور خطے میں باقاعدہ جنگ کا آغاز ہو گیا۔

کس نے کس کو مجبور کیا؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں میڈیا اسے نیتن یاہو کا اثر و رسوخ قرار دے رہا ہے وہیں صدر ٹرمپ نے ان تاثرات کو مسترد کر دیا ہے۔ حال ہی میں اپنے ایک بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ “اگر کچھ ہوا بھی ہے تو شاید میں ہی تھا جس نے اسرائیل کو حرکت کرنے پر مجبور کیا۔” ان کا موقف تھا کہ ان کے پاس پہلے سے معلومات تھیں کہ ایران کسی بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں