تہران: اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں بشمول دارالحکومت تہران، اصفہان اور جنوبی حصوں پر مسلسل چوتھے روز بھی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی انتہائی بلندی پر پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال کے دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحیرہ ہند میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہاز “ابراہم لنکن” کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی “ارنا” کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان میجر جنرل علی محمد نائینی نے منگل کے روز میڈیا کو بتایا کہ ایرانی فورسز نے امریکی بحری جہاز پر چار کروز میزائل داغے ہیں۔
حملے کے وقت یہ بحری جہاز ایران کے جنوب مشرقی ساحلی شہر چابہار سے تقریباً 250 سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود تھا۔ترجمان کا دعویٰ ہے کہ میزائلوں کا نشانہ بننے کے بعد امریکی طیارہ بردار جہاز اپنے مقام سے پیچھے ہٹ گیا اور بحر ہند کے جنوب مشرقی رخ کی جانب فرار ہونے پر مجبور ہو گیا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران اور اصفہان کے اہم مقامات اسرائیل کی مسلسل بمباری کی زد میں ہیں۔ ایران کی جانب سے امریکی اثاثوں کو براہِ راست نشانہ بنانے کا دعویٰ اس تنازع کے مزید پھیلنے کے خدشات کو جنم دے رہا ہے۔




