اسرائیل کا ایران کے اہم ترین آئینی ادارے ’مجلسِ خبرگان‘ پر فضائی حملہ، سپریم لیڈر کے انتخاب کو روکنے کا دعویٰ

علی خامنہ ای

قم (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل نے ایران کے سب سے طاقتور آئینی ستون کو نشانہ بناتے ہوئے قم میں واقع ’مجلسِ خبرگان‘ (اسمبلی آف ایکسپرٹس) کے صدر دفتر پر بمباری کا اعلان کیا ہے۔ یہ وہ کلیدی ادارہ ہے جو ایران کے سپریم لیڈر کے انتخاب اور ان کی تقرری کا قانونی اختیار رکھتا ہے۔

اسرائیلی دفاعی حکام کے مطابق فضائیہ نے منگل کے روز قم میں اس عمارت کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہاں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری تھا۔ امریکی ویب سائٹ ’ایکسیس‘ نے اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس کارروائی کا اصل مقصد جانشینی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنا اور ایران کے نئے سربراہ کی تقرری کو روکنا تھا۔

اسرائیلی اہلکار کا کہنا تھا “ہمارا ہدف واضح تھا کہ انہیں نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے سے روکا جائے۔”تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حملے کے وقت کونسل کے 88 اراکین میں سے کتنے عمارت میں موجود تھے اور اس کارروائی کے نتیجے میں کتنا جانی یا مالی نقصان ہوا ہے۔

ایرانی سیاسی نظام میں مجلسِ خبرگان کو ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔ اس کونسل کے علما اراکین ایک خفیہ کمیٹی کی تیار کردہ مختصر فہرست میں سے نئے قائد کا انتخاب کرتے ہیں۔

حملے کے تناظر میں کونسل کے رکن علی معلمی نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ انہوں نے ’ایسنا‘ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ کونسل کے تمام اراکین نے عہد کر رکھا ہے کہ وہ اس مقدس فریضے میں کسی بھی قسم کی سیاسی دھڑے بندی یا ذاتی پسند و ناپسند کو آڑے نہیں آنے دیں گے۔

ایران میں اس وقت قیادت کی منتقلی کا حساس مرحلہ جاری ہے۔ علی خامنہ ای کی جگہ نئے ناموں پر غور کے دوران ملک کے انتظامی امورتین افرادصدر مسعود پزشکیان،چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی،شوریٰ نگہبان کے رکن علی رضا اعرافی پرمشتمل ایک عبوری باڈی سنبھالے ہوئے ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں