برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کو بھیجی جانے والی رقوم اور مالی لین دین پر اضافی ریگولیٹری نگرانی شروع کردی ہے، جس کے باعث بعض کمپنیوں کی ٹرانزیکشنز تاخیر کا شکار ہونے یا واپس کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق تین باخبر ذرائع نے بتایا کہ سعودی مرکزی بینک نے رواں سال ملک کے بڑے بینکوں کو متحدہ عرب امارات سے متعلق مالی لین دین کی مزید سخت جانچ پڑتال کی ہدایت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق سعودی بینکوں کو یو اے ای سے منسلک ٹرانزیکشنز کی نگرانی بڑھانے اور بعض معاملات میں اضافی جانچ کے اقدامات کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں متعدد کمپنیوں کو رقوم کی منتقلی میں تاخیر یا ٹرانزیکشنز واپس ہونے کا سامنا کرنا پڑا۔
خبر ایجنسی کے ایک سعودی ذریعے نے ان اقدامات کو متحدہ عرب امارات کے لیے ایک محتاط پیغام قرار دیا ہے۔
تاہم سعودی مرکزی بینک نے کسی مخصوص ملک کے خلاف براہ راست پابندی یا کارروائی کی تردید کی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق بینک منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دیگر مالی خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے داخلی جائزوں کی بنیاد پر ضروری احتیاطی اقدامات کرتے ہیں۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے حکام نے بھی دونوں ممالک کے درمیان بینک ٹرانسفرز میں غیر معمولی تاخیر کی شکایات موصول ہونے کی تردید کی ہے۔
رائٹرز کے مطابق مالی لین دین پر اضافی نگرانی کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی ایک اور علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تجارتی اور سرمایہ کاری روابط موجود ہیں، اس لیے مکمل معاشی تعلقات میں بڑے پیمانے پر بگاڑ کا امکان فی الحال کم ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خطے کی اہم معاشی طاقتیں ہیں اور دونوں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں وسیع روابط ہیں۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے منی لانڈرنگ کے خلاف اپنے مالیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے تھے، جس کے بعد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) نے 2024 میں متحدہ عرب امارات کو اپنی گرے لسٹ سے خارج کردیا تھا۔




