افغانستان میں فضائی کارروائی: 100 دہشت گرد ہلاک، ملکی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، حکومتِ پاکستان

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سینیٹ کے اہم اجلاس میں افغانستان میں حالیہ فوجی کارروائی سے متعلق حکومت کا دوٹوک موقف پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان اب دہشت گردی کے خلاف خاموش تماشائی نہیں رہے گا بلکہ ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے تصدیق کی کہ پاکستان ایئر فورس نے افغانستان کے تین صوبوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ ان حملوں میں تقریباً 100 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں “انٹیلی جنس بیسڈ” تھیں اور ان کا ہدف بالکل درست تھا۔

وفاقی وزیر نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ افغان حکام نے طالبان (دہشت گردوں) کو سرحد سے دور دھکیلنے کے لیے پاکستان سے 10 ارب روپے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا “ہم یہ رقم دینے کو تیار ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ افغانستان ہمیں اس بات کی مکمل گارنٹی دے کہ پاکستان کی سرزمین میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوگی۔”

حکومتی موقف کو سخت الفاظ میں بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امن کی خاطر بہت صبر کیا ہے لیکن اب ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم صرف لاشیں اٹھانے کے لیے نہیں ہیں، ہمیں ردعمل دینا آتا ہے۔ پاکستان امن کا خواہشمند ہے لیکن ملکی سلامتی اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔”

"سینیٹ اجلاس میں وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا خطاب - پاکستان کی افغانستان میں کارروائی پر پالیسی بیان"
“وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری سینیٹ اجلاس کے دوران افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف ہونے والی فضائی کارروائی پر حکومتی پالیسی بیان کر رہے ہیں۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں