بجلی مزید 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ مہنگی

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے سی سی پی اے کی درخواست پر بجلی 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔

نیپرا کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق سینٹرل پاور پرچیز ایجنسی کی درخواست پر ‏بجلی کی قیمت میں ستمبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 2 روپے 52 پیسے اضافی کیا گیا ہے، ‏بجلی کی قیمت میں اضافہ نومبر کے بلوں میں وصول کیا جائے گا۔

نوٹی فکیشن کے مطابق ‏اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک اور لائف لائن صارفین پر نہیں ہوگا۔

گھی کی قیمت میں مزید 38 روپے کا اضافہ

اسلام آباد: ایکسپری سنیوز کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز پر مہنگائی کا نیا طوفان برپا کردیا گیا ہے، اور یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور آئل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا گیا ہے، اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے تحت برانڈڈ گھی کی فی کلو قیمت میں 38 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد 354 روپے والا فی کلوبرانڈڈ گھی کا پیکٹ 392 روپے میں دستیاب ہوگا، اسی طرح تیل کے فی کلو پیکٹ کی قیمت 33 روپے بڑھا دی گئی ہے، جس کے بعد برانڈڈ آئل کی فی کلوقیمت 355 سے بڑھا کر388 کر دی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق 5 کلو والے برانڈڈ گھی کے ڈبے کی قیمت میں187 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، اور پانچ کلو والے گھی کی قیمت 1795 سے بڑھا کر1982 روپے مقرر کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے صرف 17 روز قبل ہی 15 اکتوبر کو مختلف برانڈز کے گھی کی قیمتوں میں 40 سے 1090 روپے تک کا اضافہ کیا تھا، اور یوٹیلیٹی اسٹورز پر ملنے والے ڈالڈا گھی کی فی کلو قیمت میں 109 روپے اور 10 لیٹر کین میں 1090 روپے بڑھائے گئے تھے، جس کے بعد ڈالڈا گھی کا 10 لیٹر کا کین 2500 روپے سے بڑھ کر 3590 روپے کا ہوگیا تھا، اسی طرح میزان گھی کے 10 لیٹر ٹن کی قیمت میں 475 روپے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد میزان گھی کے 10 لیٹر ٹن کی قیمت 2885 سے بڑھا کر 3360 روپے مقرر کی گئی تھی۔

یوٹیلیٹی اسٹورز پر 5 لیٹر پلانٹا کوکنگ آئل کی قیمت میں 463 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا، جب کہ من پسند کوکنگ آئل کی قیمت 465 روپے تک بڑھا دی گئی تھی، جس کے بعد من پسند 5 لیٹر کوکنگ آئل ٹن کی قیمت 1245 سے بڑھ کر 1710 روپے ہوگئی تھی۔

بجلی 1 روپے 68 پیسے فی یونٹ اضافے پر سماعت مکمل

اسلام آباد: چئرمین نیپرا کی زیر صدارت حکومت کی جانب سے بجلی کی بنیادی قیمت میں ایک روپے اڑسٹھ پیسے تک اضافے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

پاور ڈویژن کے حکام نے کہا کہ اس وقت بجلی کا اوسط ٹیرف 13 روپے 97 پیسے فی یونٹ ہے، اس اضافے کے بعد بجلی کا اوسط ٹیرف 15 روپے 36 پیسے ہوجائے گا، حکومت ٹیوب ویل والوں کو 57 ارب روپے سبسڈی دے رہی ہے، 45 فیصد چھوٹے صارفین کو 6 روپے 53 پیسے فی یونٹ سبسڈی دے جارہی ہے، حکومت اب بھی صارفین کو 168 ارب روپے کی سبسڈٰی دے رہی ہے۔

ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن نے دوران سماعت کہا کہ بجلی کی پیداواری لاگت صارفین سے وصول کرنی ہے، دوسرے مرحلے میں سبسڈی میں مزید کمی کرکے اسے ٹارگٹڈ کرنا ہے، بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے سے حکومت کو 185 ارب روپ کی سبسڈی دینی پڑرہی ہے، ہمیں پہلے دو سو یونٹ والے صارفین کو تحفظ دینا ہے،اس وجہ سے گھریلو صارفین کے لیے ایک روپے اڑسٹھ پیسے اضافے کی درخواست کی گئی ہے۔

انڈسٹری پراتنا زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے تاکہ وہ غیر مسابقتی نہ ہوجاٰئیں، ٹیرف میں اوسط اضافہ ایک روپے 39 پیسے فی یونٹ بنتاہے اس وجہ سے انڈسٹری کے لیے ایک روپے 39 پیسے فی یونٹ اضافہ مانگا ہے۔

چیئرمین نیپرا نے کہا کہ حکومت نے کہا تھا کہ احساس پروگرام کے تحت غریب صارفین کو سبسڈی دیں گے، آپ کو 300 یونٹ والے صارفین کا تحفظ کرنا چاہیے تھا، ہمیں صارفین کا تحفظ کرنا ہے اور بحیثیت چیئرمین میرے تحفظات ہیں، غریب لوگوں پر اس کا زیادہ بوجھ پڑے گا، صارفین پر بوجھ ڈالا جارہا ہے اس لئے وہ تو بولیں گے، اس لئے بہتر ہے حکومت نظر ثانی کرلے۔

نیپرا میں بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 1 روپے 68 پیسے فی یونٹ اضافے پر سماعت مکمل کرلی، نیپرا اعدادوشمار کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ جاری کرے گا۔

بجلی کےٹیرف میں اضافے کی تیاری مکمل

اسلام آباد: رواں ماہ بجلی کی قیمت میں پے در پے اضافے کے بعد اب حکومت نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں بھی اضافے کی تیاری کرلی ہے، اور وفاقی حکومت نے نیپرا کو درخواست جمع کرا دی ہے جس میں نیپرا سے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 1 روپے 39 پیسے فی یونٹ تک اضافے کی درخواست کی گئی ہے، جب کہ نیپرا نے متعلقہ فریقین کو نوٹسز بھی جاری کر دیئے ہیں۔

دستاویز کے مطابق نیپرا سے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 1 روپے 39 پیسے فی یونٹ تک اضافے کی درخواست کی گئی ہے اور یہ اضافے کی درخواست کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے صارفین کے لیے کی گئی ہے، بنیادی ٹیرف میں اضافے سے صارفین پر مستقل بوجھ پڑے گا۔

ذرائع کے مطابق نیپرا وفاقی حکومت کی درخواست پر 2 نومبر کو سماعت کرے گی، ٹیرف میں اضافے سے صارفین پر کتنا اضافی بوجھ پڑے گا اس حوالے سے سماعت میں جائزہ لیا جائے گا، تاہم بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق لائف لائن صارفین پر نہیں ہوگا، جب کہ 200 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین بھی اضافے سے مستثنی ہوں گے۔

پیٹرولیم مصنوعات 9 روپے لیٹر مہنگی ہونے کا امکان

اسلام آباد: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی تاریخی بے قدری کے باعث یکم نومبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

اوگرا ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم نومبر سے پیٹرول 8 روپے، ہائی اسپیڈ ڈیزل ساڑھے 9 روپے، مٹی کا تیل 7 روپے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت ساڑھے 6 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔ اوگرا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کی حتمی سمری 30 اکتوبر کو پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کرے گا۔

واضح رہے کہ ملک میں اس وقت پیٹرول کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو شدید عوامی اور سیاسی تنقید کا سامنا ہے۔

ایف بی آر نے کسٹمز رولز میں ترامیم کا مسودہ تیار کر لیا

اسلام آباد: درآمدی و برآمدی اشیاء کی مقامی سطح پر ویلیو ایشن مقرر کرنیکا اختیار متعلقہ کلکٹر کسٹمز اپریزمنٹ کو دیاجائے گا۔ متعلقہ ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز کی سربراہی میں لوکل ویلیو ایشن کمیٹی قائم ہونگی جس کیلیے لوکل ویلیو ایشن کمیٹی رولز متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ایف بی آر نے لوکل ویلیو ایشن کمیٹی رولز کیلیے کسٹمز رولز میں ترامیم کا مسودہ تیار کرلیا ۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے مجوزہ رولز کے مسودے سے متعلق متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے 15دن میں آراء طلب کرلی ہیں اور کہا گیا ہے اسکے بعد موصول آراء و تجاویز کو قبول نہیں کیا جائیگا اور گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ان ترمیمی رولز کو لاگو کردیا جائیگا۔

ایف بی آر مجوزہ رولز میں کہا گیا ہے کہ کسٹمز ایکٹ 1969 کی سیکشن 25 اے کے تحت لوکل ویلیو ایشن کمیٹی قائم کی جائے گی، یہ کمیٹی ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز کی سربراہی میں قائم ہونگی، ممبران میں دو ڈپٹی کلکٹرز یا اسسٹنٹ کلکٹرز شامل ہونگے۔

ضرورت کے مطابق پرنسپل آپریزر،سپرنٹنڈنٹس اور انسپکٹرز،متعلقہ چیمبرز آف کامرس کے نمائندے،کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے نمائندے،آل پاکستان ڈرائی اور فروٹس امپورٹرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کے علاوہ متعلقہ کلکٹر کی جانب سے نامزد کردہ افسر شامل ہونگے۔

ڈالر کی قدر میں کمی آنا شروع

کراچی: حکومتی اقدامات کے سبب انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی آگئی۔

حکومت کی جانب سے ایکس چینج کمپنیوں کے لیے ڈالر سمیت دیگر غیرملکی کرنسیوں کی فروخت کے نئے ضوابط کے اجراء، 500 ڈالر یا اس کے مساوی بیرونی کرنسی کی خریداری کو بائیو میٹرک سے مشروط کرنے اور افغانستان کا سفر کرنے والوں کے لیے غیرملکی کرنسی لے جانے کی حد گھٹانے جیسے اقدامات کے باعث اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 172 روپے سے نیچے آگئی، اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر یک دم 90 پیسے کمی سے 171.30 روپے پر بند ہوئی۔

انٹربینک مارکیٹ میں پورے دن ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ کا رحجان غالب رہا۔ کاروبار کے ابتدائی دورانیے میں ڈالر کے انٹربینک ریٹ 18 پیسے کے اضافے سے 171.14 روپے کی سطح تک پہنچ گئے تھے تاہم بعد ازاں دوپہر تک ڈالر کی رسد بڑھنے سے اسک ی قدر میں تنزلی ہوئی اور نتیجے میں انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 6 پیسے کی کمی سے 170.87 روپے پر بند ہوئی۔

ملکی تجارتی خسارہ 100 فیصد بڑھ گیا

اسلام آباد: پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا ستمبر برآمدات اور درآمدات کا درمیانی فرق 11.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں تجارتی خسارہ 5.9 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح تجارتی خسارے میں سو فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

تجارتی خسارے میں رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال کے اختتام تک تجارتی خسارہ مقررہ ہدف 28.4 ارب ڈالر سے بہت اوپر چلاجائے گا۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ کا تجارتی خسارہ ہی سالانہ ہدف کے 41 فیصد سے زائد ہے۔

جولائی تا ستمبر کے دوران ملکی برآمدات 27.3 فیصد اضافے سے لگ بھگ 7 ارب ڈالر رہیں۔ گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں برآمداتی حجم 5.4 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح جولائی تا ستمبر برآمدات میں 1.5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق جولائی تا ستمبر درآمدات 65 فیصد اضافے سے 18.6 ارب ڈالر رہیں۔ اس مدت میں درآمداتی حجم میں 7.3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔

ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

کراچی: حکومت کی جانب سے تمام تر اقدامات کے باوجود روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

حکومتی پالیسیوں کے باوجود کرنسی مارکیٹ میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی جارہی ہے، منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستان روپے کی قدر ملکی تاریخ کی نئی کم ترین سطح پر جاپہنچی ہے۔

منگل کے روز انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قدر میں 40 پیسے اضافہ دیکھا گیااور ایک امریکی ڈالر 170 روپے کی بلند ترین سطح پر دیکھا گیا، دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی ایک وقت میں قیمت خرید 171 روپے 50 پیسے جب کہ قیمت فروخت 172 روپے 20 پیسے بھی دیکھی گئی ہے۔

ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کے باعث ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ڈالر کی قیمت بڑھنے سے درآمدی اشیا مزید مہنگی ہوجائیں گی، جس سے مہنگائی کا طوفان آئے گا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل اسٹیٹ بینک درآمد شدہ گاڑیوں کے لیے بینکوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے قرضوں پر پابندی عائد کر چکا ہے۔ گاڑیوں پر قرضے کی زیادہ سے زیادہ مدت کو سات سال سے پانچ سال کر دیا گیا ہے اور گاڑی کے لیے دیے جانے والے قرضے کے لیے ڈاؤن پیمنٹ 15 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کر دی گئی ہے۔

تاجروں اور ایف بی آر حکام کے درمیان مذاکرات کامیاب

اسلام آباد: اسلام آباد میں تاجر نمائندوں اور ایف بی آر حکام کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے۔

ایف بی آر کی جانب سے پوائنٹ آف سیل، سیل ٹیکس اور ٹیکس ترمیمی آرڈیننس پر تحفظات دور کئے جانے کے بعد تاجروں نے اپنا احتجاجی پروگرام موخر کردیا۔ وی او ایف بی آر میں مذاکرات کے بعد ممبر ایف بی آر قیصر اقبال نے تاجر رہنماؤں کاشف چوہدری اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سیلز ٹیکس سے متعلق نئے ترمیمی بل پرتمام تر وضاحتوں کے باوجود ابہام اور غلط فہمیاں پھیلائی جارہی تھی، چھوٹے تاجروں کے بجائے ٹیکس نیٹ میں رجسٹریشن نہ کرانے والوں پر بل کا اطلاق ہوگا، سیلز ٹیکس چھوٹے تاجروں کا مسئلہ ہی نہیں ہے، ایف بی آر گھروں میں بیٹھ کر پیسہ کمانے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لائے گا۔

کاشف چوہدری نے کہا کہ ملک بھر میں ایف بی آر افسران کو تاجروں کے ساتھ مل بیٹھ کر تحفظات دور کرنے کی ہدایت کریں گے، اس کے علاوہ پوائنٹ آف سیل، سیلز ٹیکس اور ٹیکس ترمیمی آرڈیننس کے حوالے سے تحفظات دور کر دیے گئے ہیں، چھوٹے تاجر پر پوائنٹ آف سیل کا اطلاق نہیں ہوگا جب کہ بجلی کے بل سے چھوٹے تاجروں پر اضافی ٹیکس بھی نہیں لگے، تحفظات دور ہونے پر27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاجی پروگرام موخر کرتے ہیں۔

تاجر رہنماخواجہ سلمان صدیقی نے کہا کہ ایف بی آر کی یقین دہانیوں سے مطمئن ہیں لہذا احتجاج کی کال واپس لے لی ہے۔ توقع ہے کہ حکومت اور ایف بی آر تاجروں کے مسائل حل کرنے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گی۔