ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو امریکا، اسرائیل، یورپی ممالک اور ان کے مغربی اتحادیوں کے جہازوں کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے سخت وارننگ جاری کی ہے کہ اگر ان ممالک کا کوئی بھی تجارتی یا جنگی جہاز اس علاقے میں دیکھا گیا تو اسے فوری طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں آبنائے ہرمز کا مکمل کنٹرول ایران کے ہاتھ میں ہے۔ جنگی صورتحال کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز میں خصوصی سیکیورٹی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔
دشمن ممالک کے نہ صرف جنگی بلکہ تجارتی جہازوں کو بھی گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔یہ بندش ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے مکمل خاتمے تک برقرار رہے گی۔
خطے میں صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب دونوں جانب سے ایک دوسرے کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں. ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے خلیج کے شمالی حصے میں ایک امریکی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی۔
دوسری جانب سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب ایک امریکی آبدوز نے ایرانی جنگی جہاز (فرگیٹ) پر حملہ کر کے اسے ڈبو دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا (ایکس) پر اپنے بیان میں امریکی حملے کو “سنگین جرم” قرار دیتے ہوئے کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہاکہ”امریکا نے ایرانی ساحل سے 2000 میل دور بین الاقوامی پانیوں میں ہمارے جہاز کو نشانہ بنایا جس پر 130 ملاح سوار تھے۔ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کیا گیا یہ حملہ ایک جنگی جرم ہے اور واشنگٹن کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔”




