واشنگٹن / فینکس امریکہ میں 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج پر اٹھنے والے تنازعات کے تناظر میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے اپنی تحقیقات کا دائرہ ریاست اریزونا تک پھیلا دیا ہے۔ یہ پیش رفت جارجیا میں بیلٹ باکس قبضے میں لینے کے چھ ہفتے بعد سامنے آئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکام انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
ریاست اریزونا کے ریپبلکن سینیٹ صدر وارن پیٹرسن نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے وفاقی گرینڈ جیوری کی جانب سے طلب کردہ دستاویزات فراہم کر دی ہیں۔ یہ دستاویزات اریزونا کی سب سے بڑی کاؤنٹی ‘ماریکوپا’ میں 2020 کے انتخابی آڈٹ اور نظرثانی سے متعلق ہیں۔ پیٹرسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر بتایا کہ مطلوبہ ریکارڈ اب ایف بی آئی کی تحویل میں ہے۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو مسلسل ان انتخابات میں اپنی کامیابی کے دعوے کرتے رہے ہیں، نے اس تازہ پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اس خبر کو شیئر کرتے ہوئے اسے ایک “شان دار خبر” قرار دیا۔ یاد رہے کہ 2020 میں اریزونا اور جارجیا دونوں ریاستوں میں جو بائیڈن نے کامیابی حاصل کی تھی۔
دوسری جانب، اریزونا کی ڈیموکریٹک اٹارنی جنرل کرس مائز نے اس نئی تحقیقات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست میں انتخابات پہلے ہی متعدد جامع آڈٹس اور آزادانہ تحقیقات سے گزر چکے ہیں۔ریپبلکن ارکان کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں بھی دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔موجودہ کارروائی وفاقی حکام کا غلط استعمال اور “سازشی نظریات” کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔
جنوری کے آخر میں ایف بی آئی نے جارجیا میں بھی ایک انتخابی مرکز پر چھاپہ مارا تھا۔ واضح رہے کہ 2023 میں ڈونلڈ ٹرمپ پر ریاست جارجیا اور وفاقی سطح پر انتخابی نتائج کو غیر قانونی طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔




