آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ٹرمپ کی ’آگ اور قہر‘ کی دھمکی، پاک بحریہ کا ’محافظ البحر‘ آپریشن شروع

"مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ جس میں ایران، متحدہ عرب امارات اور عمان کے درمیان واقع 'آبنائے ہرمز' (Strait of Hormuz) کو سرخ دائرے سے نمایاں کیا گیا ہے۔"

اسلام آباد/دبئی: عالمی سطح پر تیل کی اہم ترین گزرگاہ آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر پاکستان نے اپنی توانائی کی سپلائی لائنز کو محفوظ بنانے کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔ پاک بحریہ نے بحیرہ عرب اور متعلقہ سمندری راستوں پر ’محافظ البحر‘ نامی خصوصی سکیورٹی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

پاکستان کا ردِعمل:
پاک فوج کے ترجمان کے مطابق، ‘محافظ البحر’ آپریشن کا مقصد سمندری تجارتی راستوں (شپنگ لینز) کی حفاظت اور ملک کو ایندھن کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اپنی ایندھن کی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

امریکہ کی وارننگ:
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ٹینکرز کی آمد و رفت روکنے کی کوشش کی گئی تو ایران کو ’آگ اور قہر‘ (Fire and Fury) کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایران کا موقف:
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جوابی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہیں گے، وہ اس آبی گزرگاہ سے تیل کا ایک قطرہ بھی گزرنے نہیں دیں گے۔

عالمی منڈی پر اثرات:
دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی ’سعودی آرامکو‘ کے سربراہ امین ناصر نے اسے توانائی کی صنعت کا ’سب سے بڑا بحران‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے کے عالمی منڈی پر ’تباہ کن نتائج‘ برآمد ہوں گے۔

بحران کی سنگینی
آبنائے ہرمز عالمی تجارت بالخصوص خام تیل کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس وقت کئی ممالک ممکنہ بندش کے پیشِ نظر ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ تنازع طول پکڑتا ہے تو عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر پاکستان جیسی ترقی پذیر معیشتوں پر پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں