امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ انٹرویو میں ایران کی مستقبل کی قیادت کے حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تہران میں نئے رہنما کے انتخاب کے عمل کی نگرانی میں ذاتی دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں مرشدِ اعلیٰ کی جانشینی کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔
صدر ٹرمپ نے علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو بطور جانشین قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک “کمزور شخصیت” ہیں اور ان کی تقرری سے خطے میں امن قائم نہیں ہو سکے گا۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ واشنگٹن کسی ایسے رہنما کو تسلیم نہیں کرے گا جو سابقہ پالیسیوں کو برقرار رکھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پرانی روش برقرار رہی تو اگلے پانچ سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان نئی جنگ چھڑ سکتی ہے۔
انہوں نے ایران میں قیادت کے انتخاب کے عمل کا موازنہ وینزویلا کے معاملات میں اپنی سابقہ مداخلت سے کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایران میں ایک “امن پسند اور ہم آہنگی پیدا کرنے والا” چہرہ دیکھنا چاہتے ہیں۔
امریکی دفاعی حکام کا موقف
صدر ٹرمپ کے سخت بیانات کے برعکس امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے کہ حالیہ فوجی کارروائیوں کا مقصد “نظام کی تبدیلی” (Regime Change) تھا۔ پینٹاگون کے مطابق فوجی کارروائیوں کا محور ایران کی میزائل صلاحیتوں کو کم کرنا ہے۔جوہری پروگرام کی پیش رفت کو روکنا ترجیح ہےاور ایرانی بحری افواج کی طاقت کو محدود کرنا بنیادی مقصد ہے۔
ایران کی موجودہ صورتحال
ایران میں نئے مرشدِ اعلیٰ کے نام کا اعلان تاحال تاخیر کا شکار ہے، تاہم مقامی سیاست دانوں کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ فیصلہ کن مراحل قریب ہیں۔ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھے جاتے ہیں، اس وقت مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے ماضی میں کوئی باقاعدہ حکومتی عہدہ نہیں سنبھالا۔




