اسلام آباد / پشاور: پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی حالیہ بلااشتعال فائرنگ اور جارحیت کے جواب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے “آپریشن غضب للحق” کا آغاز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سرحد پار دہشت گردوں اور حملہ آوروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاکستانی فورسز نے سرحد کے مختلف سیکٹرز میں افغان طالبان کے حملوں کا دندان شکن جواب دیا۔ اس آپریشن کے دوران اب تک 133 افغان طالبان ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ کارروائی کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
ناوگئی سیکٹر (باجوڑ) اور وادی تیراہ (خیبر) میں سکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے طالبان کی متعدد چیک پوسٹیں اور 2 اہم چوکیاں تباہ کر دیں۔
کرم سیکٹر میں 8 جنگجو ہلاک کیے گئے جبکہ چترال سیکٹر میں افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو نشانہ بنا کر ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔جبکہ گرسال سیکٹر (مہمند) میں 3 طالبان ہلاک ہوئے، جبکہ انگور اڈہ میں بھی ایک اہم افغان پوسٹ کو تباہ کر دیا گیا۔
افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کے لیے کواڈ کاپٹرز کا سہارا لیا گیا، تاہم سکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام کواڈ کاپٹرز مار گرائے۔ جواب میں پاکستانی ڈرونز نے طالبان رجیم کی پوسٹوں کو چن چن کر نشانہ بنایا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ میدان جنگ میں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان سوشل میڈیا پر جھوٹے دعووں اور فیک ویڈیوز کے ذریعے پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ تاہم، زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور خوارج پسپائی اختیار کر رہے ہیں۔
پاکستانی سکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ وہ سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا فوری، سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔




