رنگین الیکٹرانک کاغذ تیار

سویڈن: چامرز یونیورسٹی نے ایسا ہی ایک نہایت باریک برقی کاغذ بنایا ہے جو اسکرین میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ یہ ایک طرح کا انعکاسی اسکرین ہے جو بھرپور انداز میں سارے رنگ دکھاتا ہے لیکن بہت کم بجلی استعمال کرتا ہے۔

روایتی اسکرین کی پشت سے روشنی خارج ہوتی ہے جس کی بدولت ہم ڈسپلے پر تصویر اور الفاظ دیکھتے ہیں۔ یہ کمرے کےاندر تو ٹھیک کام کرتے ہیں لیکن دن کی روشنی میں باہر گویا روشنی کھودیتے ہیں اور ہمیں دیکھنے میں دقت ہوتی ہے۔ اسی لیے اب ایک انعکاسی کاغذ بنایا گیا ہے جو بھرپور دھوپ میں بھی آپ کو ہر تصویر اور لفظ واضح دکھاسکتا ہے۔

انعکاسی کیفیت کی بنا پر برقی کاغذ کو بجلی کی بہت زیادہ مقدار درکار نہیں ہوتی کیونکہ آج کے اسمارٹ فون کو روشن کرنے میں بیٹریاں ہانپ جاتی ہیں۔ یہ ایک انقلابی ایجاد ہے جو ڈسپلے اور نئے عہد کے اسکرین کو نئے زاویے عطا کرے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مزید تحقیق سے اسے کمرشل استعمال کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔

فی الحال یہ عام اسمارٹ فون کے دسویں حصے کے برابر توانائی لیتا ہے لیکن اس کے معیار میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اس کا دل و دماغ وہ نینو ساختیں ہیں جنہیں ٹنگسٹن ٹرائی آکسائیڈ، سونے اور پلاٹینم سے بنایا گیا ہے۔ ان کی بدولت اسکرین ہرطرح کے شوخ رنگ کو بہت اچھی طرح ظاہر کرتا ہے۔

اس طرح برقی کاغذ کو مستقبل کے فون اسکرین کا بہترین متبادل قرار دے سکتےہیں۔

چین 2033 تک انسانوں کو مریخ پر بھیجے گا

سینٹ پیٹرزبرگ: چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی پہلی انسان بردار پرواز 2033 تک مریخ کےلیے روانہ کردے گا۔

اپنی پہلی ہی کوشش میں مریخ پر کامیابی سے لینڈر اتارنے کے بعد، خلائی تسخیر کے میدان میں یہ چین کی جانب سے اہم ترین اعلان تصور کیا جارہا ہے۔

گزشتہ دنوں ’’چائنا اکیڈمی آف لانچ وہیکل ٹیکنالوجی‘‘ (CALT) کے سربراہ وانگ ژیاؤجن نے سینٹ پیٹرسبرگ، روس میں خلائی تحقیق کے حوالے سے منعقدہ عالمی کانفرنس (GLEX 2021) سے اپنے خطاب میں چین کی حالیہ کامیابیوں اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

انہوں نے مریخ پر بھیجے گئے چینی خلائی مشن ’’تیانوین اوّل‘‘ کی تیاری سے لے کر ژورونگ روور کی کامیاب لینڈنگ تک، تمام پہلوؤں کا تجزیہ شرکاء کے سامنے پیش کیا۔ مریخ سے متعلق آئندہ چینی منصوبہ تین مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا:

پہلے مرحلے میں مریخ کےلیے رہائشی کےلیے ٹیکنالوجی پختہ تاکہ سرخ سیارے پر دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے وہاں رہ سکیں اور انہیں اپنی بقاء کےلیے کوئی سامان بھی زمین سے منگوانے کی ضرورت نہ پڑے۔

اس مرحلے کے تحت روبوٹ اور خودکار آلات مریخ پر بھیجے جائیں گے جو وہاں کی مٹی اور آب و ہوا کا جائزہ لے کر ایسے مقامات تلاش کریں گے جہاں خصوصی انتظامات کرکے انسانی رہائش کو ممکن بنایا جاسکے گا۔ کچھ آلات مریخ سے مٹی کے نمونے بھی زمین پر واپس لائیں گے۔

توقع ہے کہ مریخ پر عارضی انسانی رہائش کی تمام تیاریاں 2030 تک مکمل ہوجائیں گی۔ اس کے بعد، دوسرے مرحلے میں مریخ کےلیے انسان بردار پروازوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ وانگ ژیاؤجن کا کہنا تھا کہ یہ پروازیں 2033 سے شروع ہوگی جو 2035، 2037، 2041 اور اس کے بعد بھی جاری رہیں گی۔

مکڑیاں سانپوں کو کھا جاتی ہے؟

جنیوا : کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی مکڑی اپنی جسامت سے کہیں بڑے سانپ کا شکار کرکے اسے کھا سکے؟ جدید سائنسی تحقیق نے اس سوال کا جواب ’’ہاں‘‘ میں دیا ۔

’’جرنل آف اراکنالوجی‘‘ میں شائع ہونے والے ایک دلچسپ مطالعے میں امریکا اور سوئٹزرلینڈ کے ماہرین نے مکڑیوں کے ہاتھوں سانپوں کے شکار سے متعلق 319 واقعات بیان کیے ہیں جو تقریباً تین سو سالہ ریکارڈ پر موجود ہیں۔

ان میں سے 297 واقعات قدرتی ماحول میں، جبکہ صرف 22 واقعات چڑیا گھروں یا تجربہ گاہوں میں پیش آئے۔ مکڑیوں کے سانپوں پر حملہ کرکے انہیں ہڑپ کرنے کے واقعات براعظم قطب جنوبی (انٹارکٹیکا) کے سوا باقی تمام براعظموں سے رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ان کی سب سے زیادہ شرح امریکا اور آسٹریلیا سے تعلق رکھتی ہے جو بالترتیب 51 فیصد اور 29 فیصد ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مکڑیوں کا نوالہ بننے والے سانپوں کی زیادہ تر اقسام اوسط یا چھوٹی جسامت والی تھیں جن کی اوسط لمبائی 27 سینٹی میٹر تھی۔ البتہ ان میں ایسے سانپ بھی شامل تھے جو 100 سینٹی میٹر (ایک میٹر) جتنے طویل تھے۔ یہ سانپوں کی 90 سے زیادہ انواع بنتی ہیں جن کا تعلق سات خاندانوں سے ہے۔

دوسری جانب سانپوں کا شکار کرنے والی مکڑیوں کی 40 انواع نوٹ کی گئیں جو 11 خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ علاوہ ازیں ’’تھیرائیڈائیس‘‘ (Theridiis) خاندان سے تعلق رکھنے والی مکڑیاں، سانپوں کو شکار کرنے کے 60 فیصد واقعات میں ذمہ دار ثابت ہوئیں۔ اگرچہ ان کی جسامت صرف 0.6 سینٹی میٹر سے 1.1 سینٹی میٹر ہوتی ہے لیکن پھر بھی یہ مکڑیاں مضبوط اور الجھا ہوا جالا بنا کر سانپوں کا شکار کرتی ہیں اور ان کی دعوت اُڑاتی ہیں۔

ان کے علاوہ، مکڑیوں کی سات اقسام ایک خاص طرح کے اعصابی زہر سے سانپوں کو بے حس و حرکت کردیتی ہیں اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے کھا جاتی ہیں، البتہ ان تمام صورتوں میں کئی مکڑیاں مل کر ایک سانپ کا صفایا کرتی ہیں۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگرچہ مکڑیوں کا شکار بننے والے سانپوں کے واقعات خاصے کم ہیں لیکن پھر بھی ان کی تعداد اس قدر ضرور ہے کہ اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

گوگل اسمارٹ فونز کے نئے فیچرز

سلیکان و یلی: ٹیکنالوجی جائنٹ گوگل نے دو نئے فیچرز اسمارٹ فون صارفین کے لیے جاری کر دیے ہیں۔

گوگل نے حال ہی میں اپنے دو مقبول فیچرز کو انٹرپرائز ایپ کے ساتھ مربوط کردیا ہے، جس میں گوگل چیٹ اور رومز شامل ہیں۔، گوگل چیٹ کی بدولت آپ ساتھیوں، دوستوں اور عزیز و اقارب سے کمیونیکیشن کر سکتے ہیں، یہ رومز فیچر سے قدرے مختلف ہے، گوگل چیٹ میں دو لوگوں کے درمیان بات ہوسکتی ہے، جب کہ رومز میں ایک وقت میں مختلف لوگوں سے بات کی جاسکتی ہے، اب یہ دونوں فیچر جی میل موبائل اپ پر دست یاب ہیں۔

موبائل فون پر گوگل چیٹ کو فعال کرنے کے لیے درج ذیل ہدایات پر عمل کریں۔

1۔ جی میل کھولیں

2۔ الٹی طرف موجود تین لائن کے آئکون پر ٹیپ ( ٹچ) کریں، نیچے آئیں اور سیٹنگز پر ٹچ کریں

3۔ اپنا اکاؤنٹ منتخب کریں

4۔ جنرل ( General) منتخب کریں

5۔ اگر آپ اینڈروئیڈ استعمال کر رہے ہیں تو پھر ’Show the Chat and Rooms tabs‘ پر چیک لگائیں۔ اگر آپ آئی او ایس ڈیوائس استعمال کر رہے ہیں تو ’Show the Chat and Rooms tabs‘ پر ٹوگل آن کردیں۔

انانیمس کے اعلانِ جنگ کا مطلب کیا ہے؟

ہیکروں کی تنظیم ’انانیمس‘ نے جمعے کو پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد انتہا پسندوں کے خلاف ’اعلانِ جنگ‘ کر دیا ہے۔

ایک یو ٹیوب ویڈیو میں تنظیم کا مخصوص ماسک پہنے ہوئے ایک ترجمان نے پیغام دیا کہ وہ اپنے علم کو ’انسانیت کو متحد‘ کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔

فرانسیسی زبان میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ ان سے مقابلے کے لیے تیار ہو جائے اور کہا کہ ’انانیمس تمھیں دنیا کے ہر کونے سے تلاش کر لے گی۔‘

اس تنظیم نے سال کے شروع میں فرانسیسی اخبار چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملے کے بعد بھی اسی طرح خبردار کیا تھا۔

تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد سے اب تک وہ دولت اسلامیہ کے ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ناکارہ بنا چکی ہے۔

بی بی سی کلک کے ٹیکنالوجی ماہر ڈین سمنز اور دولت اسلامیہ پر گہری نظر رکھنے والے سکیورٹی تجزیہ کار چارلی ونٹر نے اس صورتحال پر روشنی ڈالی ہے ۔

اعلان جنگ سے کیا مراد ہے؟

’ماحولیاتی تبدیلی کا نتیجہ بھگتنے کے لیے تیار رہیں‘

ایک معروف ماہر معاشیات نے متنبہ کیا ہے کہ انسان کو جلد ہی اپنے ہاتھوں کی جانے والی ماحولی تبدیلی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

پروفیسر رچرڈ ٹال نے پیش گوئی کی ہے کہ عالمی درجۂ حرارت میں 1.1 سینٹی گریڈ اضافے سے فائدے سے زیادہ نقصان ہے۔

تاہم ماحولیات کے بہت سے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ پروفیسر پول ماحولیات کے بارے میں تشکیک کا شکار بتاتے ہیں۔

اس سے قبل انھوں نے فصل اور جنگلات کی فرٹیلازنگ کے لیے CO2 کے مثبت اثرات کی نشاندہی کی تھی۔

ماحولیات یا آب و ہوا یا موسمیات کی مخالفت کرنے والے عام طور پر ان کے نظریات کا حوالہ دیتے ہیں۔

151114173808_chennai_marina_beach_pollution_640x360_bbc_nocredit
اس سے قبل پروفیسر پول نے فصل اور جنگلات کی فرٹیلازنگ کے لیے CO2 کے مثبت اثرات کی نشاندہی کی تھی

پروفیسر پول نے بی بی سی کے پروگرام بدلتی آب و ہوا میں بات کرتے ہوئے کہا: ’بہت سے لوگ شاید یہ کہیں گے کہ درجۂ حرارت میں خفیف اضافہ انسانوں کے لیے مجموعی طور پر مفید ہوگا لیکن اگر اسے ڈالر میں دیکھیں تو اس کا مجموعی اثر منفی آئے گا۔‘

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا انسان اس نکتے پر پہنچ گیا ہے جہاں سے اسے اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا تو انھوں نے کہا: ’جی ہاں۔ تعلیمی میدان میں کم از کم اس پر اتفاق رائے ہے۔‘

لیکن ماحولی تبدیلی کی مخالفت کرنے والوں کے لیے یہ متنازع ہے کیونکہ وہ اکثر پروفیسر ٹول کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ہمیں درجۂ حرارت میں اضافے کے بارے میں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

اس کے برعکس ایک دوسرے سائنسدان میٹ رڈلی کہتے ہیں کہ درجۂ حرارت میں دو ڈگری تک اضافے سے دنیا کو فائدہ پہنچتا رہے گا۔

نیند میں خلل سے بچنے کے لیے ’بیڈ ٹائم موڈ‘ کی ضرورت

برطانیہ کے معروف معالج پروفیسر پال گرینگرز کہتے ہیں کہ سمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس میں خود کار ’بیڈ ٹائم موڈ‘ ہونا چاہیے تاکہ انھیں استعمال کرنے والوں کی نیند میں خلل نہ پڑے۔

پروفیسر پال گرینگرز کہتے ہیں کہ اس میں موجود نیلی روشنی کو فلٹر ہونا چاہیے کیونکہ اس کی وجہ سے لوگوں کو رات دیر سے نیند آتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ فون اور ٹیبلیٹس کا ہر نیا ماڈل پہلے سے زیادہ بلیو ریز کا حامل ہوتا ہے اور مزید روشن ہوتا ہے۔

ایشیا میں سمارٹ فون کی ’لت‘

پروفیسر پال گرینگرز سمجھتے ہیں ان مصنوعات کو تیار کرنے والوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب رات ہونے لگتی ہے تو جسم میں نیند کے ہارمونز میلاٹونن کا اخراج ہونے ہے لگتا جس سے انسان کو نیند آنے لگتی ہے تاہم موبائل فونز اور ٹیبلٹس کی سکرینز سے نکلنے کی روشنی کے خاص رنگوں کی طول موج نیند کے نظام میں خلل ڈال سکتی ہے۔

پروفیسر پال گرینگرز ان آلات سے نکلنے والی روشنی پر تحقیق کرنے والی ٹیم میں شامل تھے۔اس تحقیق کے نتائج کے مطابق بڑی اور روشن ڈیوائسز سے نیلی روشنی زیادہ نکلتی ہے۔

پروفیسر پال گرینگرز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان ڈیوائسز کو دن میں استعمال کرنا اچھا ہے مگر رات میں ان کا استعمال مہلک ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر اپ رات میں فون اور ٹیبلیٹ وغیر استعمال کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اپ کو نیند دیر سے آئے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ نیند سے متعلق چند ایپس پہلے ہی تیار ہوچکی ہیں جن کا مقصد نیلی اور سبز روشنی کا اخراج روکنا ہے۔

رنگ بدلنے والی پٹی، ’اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی ممکن‘

برطانیہ کی باتھ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کے لیے رنگ بدلنے والی ایک بینڈج یعنی طبی پٹی کار آمد ہو سکتی ہے۔

یہ پٹی انفیکشن کا پتہ چلتے ہی اپنے رنگ بدلتی ہے اور یہ زخم پر بیکٹیریا کے ذریعے زہریلے مواد خارج کرنے کے نتیجے میں چمکیلے رنگ بکھیرتی ہے۔

اس سے ڈاکٹر کو بیکٹیریا کے انفیکشن کا آسانی سے پتہ چل سکتا ہے اور اس کا جلد علاج ہو سکتا ہے۔ یہ بطور خاص بچوں کے جلنے کے زخم پر موثر ہے۔

کہا جاتا ہے کہ بچوں میں جلنے کے زخم میں بہت جلد انفیکشن ہو جاتا ہے کیونکہ بچوں کی قوت مدافعت کا نظام زیادہ طاقتور نہیں ہوتا۔

ان انفیکشن سے زخم کے بھرنے میں تاخیر ہو سکتی ہے جس سے انھیں ہسپتال میں زیادہ رہنا پڑ سکتا ہے اور بعض اوقات زخم کے نشان ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں۔ شدید صورت حال میں ان انفیکشن سے جان بھی جا سکتی ہے۔

151029121313_laser_treatment_of_burn_skin_patient_640x360_thinkstock_nocredit

ڈاکٹروں کو بغیر عام پٹی ہٹائے بہت آسانی سے اور بہت جلدی انفیکشن کا پتہ نہیں چل پاتا اور پٹی کا ہٹانا درد کا باعث اور مزید زخم کا باعث ہو سکتا ہے۔

ایسی صورت حال سے ٹمٹنے کے لیے احتیاط کے طور پر انفیکشن کی تصدیق ہونے سے قبل ہی اینٹی بایوٹکس ادویات دے دی جاتی ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بغیر انفیکشن کے اینٹی بایوٹکس دینے سے بیکٹیریا اینٹی بایوٹکس کے خلاف مدافعت پیدا کر سکتا ہے اور ایسے بیکٹیریا صحت کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

باتھ میں بائیو فزیکل کیمسٹری کے شعبے میں ریڈر کے عہدے پر فائز ڈاکٹر ٹوبی جینکنس جو اس پروجیکٹ کے نگران ہیں انھوں نے کہا کہ ’اس سے واقعی جان بچ سکتی ہے۔‘

اس ٹیم کو اس ریسرچ کے نتائج کو جانچنے کے لیے میڈیکل ریسرچ کونسل کی جانب سے دس لاکھ پاؤنڈ دیے گئے تھے۔

’2015 کا ال نینیو 50 سالوں میں شدید موسمی تغیرات میں سے ایک‘

موسمیات کے بین الاقوامی ادارے ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ موجودہ سال کے ختم ہونے سے قبل ال نینیو کے موسمی اثرات مزید طاقتور ہوجائیں گے۔

ڈبلیو ایم او کے تازہ اپ ڈیٹ کے مطابق سنہ 2015 کا ال نینیو گذشتہ 50 سالوں میں رونما ہونے والے تین شدید موسمی تغیرات میں سے ایک ہو گا۔

دنیا کے مختلف حصوں میں شدید قحط اور تباہ کن سیلابوں کی وجوہات ال نینیو کے اثرات کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔

ڈبلیو ایم او نے خبردار کیا ہے کہ یہ اثرات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں اور یہ موسمی کیفیت اس وقت نامعلوم حصے میں داخل ہو چکی ہے۔

ال نینیو ایک قدرتی موسمی تبدیلی ہے جو وسطی بحرالکاہل کے گرم پانیوں کے مشرق کی جانب شمالی اور جنوبی امریکہ کی طرف بڑھنے سے پیدا ہوتی ہے۔

یہ تبدیلی ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتی ہے اور عموماً سال کے آخر میں شدت اختیار کر جاتی ہے، جب کہ اس کے اثرات آنے والے موسم بہار تک موجود رہتے ہیں۔

اس سال ال نینیو کے اثرات کا رحجان یہی رہے گا۔

ڈبلیو ایم او کے مطابق شروع کے تین مہینوں میں بحرالکاہل کے گرم حصے میں پانی کی سطح کا اوسط درجہ حرارت دو ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرجائے گا۔

یہ کیفیت 1988 کے بعد سب سے شدید ہو گی اور یہ پچھلے 50 سالوں میں ریکارڈ کی جانے والی تین شدید ترین کیفیات میں سے ایک ہو گی۔

ال نینیو کے مختلف اثرات

ال نینیو کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت معمول سے بڑھ جائے گا لیکن اس کے علاقائی اثرات زیادہ تغیر پذیر ہوں گے۔

یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ال نینیو اگلے سال بھارت میں مون سون کے موسمی اثرات کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

مشرقی افریقہ میں اکتوبر سے دسمبر کے دوران زیادہ بارش کی توقع ہے۔ جنوبی افریقہ ایک طویل خشک موسم سے گزر رہا ہے جس نے وہاں جانوروں اور فصلوں کی بقا کے بارے میں خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

کیلیفورنیا میں حکام کو خدشہ ہے کہ ریاست ال نینیو کی وجہ سے 2016 کے اوائل میں شدید بارشوں کی زد میں آ سکتی ہے۔ ریاست میں ریت کے تھیلوں اور سیلابی نالوں کی صفائی کا انتظام کر لیا گیا ہے جبکہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اضافی عملے کی تعیناتی بھی جاری ہے۔

کوئلے اور لکڑی کے ایندھن سے پناہ گزینوں کی صحت کو خطرہ

ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پناہ گزینوں کی جانب سے لکڑی اور کوئلے کے بطور ایندھن استعمال پر ’بہت زیادہ انحصار‘ سے ان کی صحت پر خوفناک اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

زہریلی کھمبیاں کھانے سے درجنوں پناہ گزین بیمار

رپورٹ کے مصنفین کے مطابق نقل مکانی کرنے والے افراد کے جانب سے لکڑیوں پر کھانا پکانا ہر سال 20 ہزار اموات کا سبب بنتا ہے۔

ان کے مطابق ایندھن کے دیگر ذرائع مثلاً کھانا پکانے کے چولھے اور شمسی توانائی سے پیسے اور زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔

یہ نتائج برطانوی تھینک ٹینک چیٹہیم ہاؤس نے ’موونگ انرجی انیشی ایٹیو‘ کے تحت شائع کیے ہیں۔

یہ پروگرام ان تنظیموں کے ایک بین الاقوامی کنسورشیم کے تحت شروع کیا گیا ہے جن کی توجہ اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے والے تقریباً چھ کروڑ افراد کے لیے محفوظ اور کم قیمت توانائی کے حصول کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 90 لاکھ کے قریب پناہ گزین جو اپنے گھروں کو چھوڑ کر کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں انھیں ایندھن کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے معاون مصنف اور چیٹہیم ہاؤس کی سینیئر ریسرچ فیلو گلیڈا لان کہتی ہیں: ’ہم دنیا بھر میں نقل مکانی کا بحران اور تارکین وطن کا بحران دیکھ رہے ہیں اس لیے اس مسئلے کے حوالے سے یہ وقت اہم ہے۔

’ان افراد کی تعداد چھ کروڑ تک پہنچ رہی ہے اور یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔ یہ تعداد آسٹریلیا اور کینیڈا کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔

151117142953_refugee_camps_migrants__624x351_ap

دنیا بھر میں نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافے کے بارے میں گلیڈا لان نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ امداد کی کمی ہے۔

’اس حوالے سے حقیقی بحران ہے کہ کس طرح ان لوگوں کی حفاظت کی جائے، جو اکثر پرخطر صورت حال کا شکار ہوتے ہیں، تاکہ وہ کسی حد تک انسانی وقار برقرار رکھنے کے قابل ہو سکیں۔‘

رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ نقل مکانی کرنے والے افراد جس ایندھن کا استعمال کرتے ہیں وہ معاشی، ماحولیاتی اور معاشرتی لحاظ سے ناقابل برداشت ہے، جس سے خواتین اور بچوں کی سب سے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔

گلیڈا لان کے مطابق اس تحقیق سے یہ امر سامنے آیا ہے کہ پناہ گزیں کیمپوں میں رہنے والے 90 فیصد افراد بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’ان میں سے بیشتر رات کے وقت اندھیرے میں رہتے ہیں کیونکہ گلیوں میں روشنیاں نہیں ہیں۔ کھانا پکانے کے لیے لکڑی اور کوئلے پر بہت زیادہ انحصار ہے۔ تقریباً 77 فیصد توانائی لکڑی اور لکڑی کے کوئلے سے حاصل کی جاتی ہے۔‘

’اس ایندھن پر انحصار غیرمتناسب طور پر خواتین اور لڑکیوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ایسا اس وجہ سے ہے کہ تقریباً ہمیشہ خواتین اور لڑکیاں ہی کیمپوں سے باہر لکڑیاں جمع کرنے جاتی ہیں۔ ان پر جنسی حملوں اور ریپ کے بہت سارے واقعات پیش آ چکے ہیں۔‘

رپورٹ میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعدد حل بھی پیش کیے گیے ہیں۔

اس میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ کھانا پکانے والے چولھے اور شمسی توانائی کے لیمپ متعارف کروائے جائیں جس سے ایندھن پر آنے والے اخراجات میں تقریباً 32 کروڑ ڈالر سالانہ بچت کی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ متعدد نجی کمپنیوں نے توانائی کے حصول کے لیے ماحول دوست نظام بھی تیار کیے ہیں جیسا کہ چھوٹے پیمانے پر شمسی گرڈ جو کم آمدن والوں کے لیے مناسب ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پناہ گزینوں کے کیمپوں کے لیے ایسے حل میزبان ممالک کو پیش کیے جا سکتے ہیں تاکہ علاقے کی آبادی کے لیے توانائی کا حصول اور توانائی کے تحفظ ممکن ہو سکے۔