ایشیاکپ کی میزبانی کےلئے انگلینڈ کا نام سامنے آ گیا

کراچی: ایشیا کپ کی میزبانی کیلیے انگلینڈ کا نام سامنے آگیا تاہم ایشین کرکٹ کونسل کی جانب سے آج فیصلہ متوقع ہے۔

ایشیا کپ کے پاکستان میں انعقاد کے حوالے سے حتمی فیصلہ آج متوقع ہے، اس ایونٹ کی میزبانی کافی پہلے پاکستان کو دی گئی تھی تاہم جب ایونٹ کا وقت قریب آیا تو بھارت نے نہ صرف اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا بلکہ خود ہی ایشیائی ایونٹ کو کسی دوسرے ملک میں منعقد کرنے کا اعلان بھی کردیا۔

پی سی بی انتظامی کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی نے میزبانی بچانے کیلیے ہائبرڈ ماڈل پیش کیا جس کے تحت باقی تمام ٹیموں کے مقابلے پاکستان جبکہ بھارت کے میچز یواے ای میں منعقد کیے جانے تھے، بی سی سی آئی نے اس تجویز کو رد کردیا، جس پر ایک اور تجویز دی گئی جس میں ابتدائی چند میچز پاکستان اور باقی یو اے ای منتقل کرنے کی تجویز دی گئی۔

اب نجم سیٹھی نے ایشیا کپ کو انگلینڈ میں منعقد کرنے کی تجویز دے دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایشیا کپ کا انعقاد انگلینڈ میں بھی ہوسکتا ہے، ہم چونکہ اس ٹورنامنٹ کے میزبان ہیں، اس لیے متبادل کے طور پر کسی بھی وینیو کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

ادھر ایشین کرکٹ کونسل کی جانب سے پاکستان میں ایشیائی شوپیس ایونٹ کے انعقاد کے حوالے سے فیصلہ پیر کو متوقع ہے، بھارت پہلے ہی سری لنکا کو ایونٹ کی میزبانی کے خواب دکھا چکا اور اس کی جانب سے بھی واضح کیا جاچکا ہے کہ اگر پاکستان نہیں کھیلا تو اس کے بغیر ہی سری لنکا میں 5 ملکی ٹورنامنٹ منعقد کریں گے۔

پی سی بی کا 2014 والا آئین بحال، 14رکنی کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی ہوں گے

لاہور: وزیراعظم اورپاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ان چیف شہبازشریف نے کرکٹ بورڈ کے معاملات چلانے کیلیے 14 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی۔

وزیراعظم کی طرف سے پی سی بی کے معاملات چلانے کیلیے تشکیل دیدی گئی کمیٹی سے متعلق وزارت بین الصوبائی رابطہ کو خط لکھا گیا تھا۔ جس کو متعلقہ وزارت نے کابینہ اراکین میں سرکولیٹ کیا۔

دوسری جانب وفاقی کابینہ نے پی سی بی کے 2014 والے آئین کو بحال کر کے 2019 کا آئین منسوخ کردیا۔ وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے سمری 2014 کے آئین کو بحال کرنے اور 2019 کے آئین کو منسوخ کرنے کی منظوری دے دی۔

کابینہ کی منظوری کے بعد 14 رکنی کمیٹی پی سی بی کے معاملات چلائے گی جبکہ وزیراعظم پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن انچیف ہوں گے۔

کمیٹی کے ارکان میں شاہد آفریدی شکیل شیخ، گل زادہ، نعمان بٹ، ہارون رشید، ثنا میر،ایزد سید، تنویر احمد، گل محمد کاکڑ، ایاز بٹ، شفقت رانا، مصطفٰی رمدے اور عارف سعید شامل ہیں۔

کمیٹی پی سی بی کا 2014کا آئین بحال کرنے کیلئے کام کرے گی اور 120روز میں اپنا کام مکمل کرے گی۔

رمیز راجا پی سی بی کے نئے چئیرمین منتخب

لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجا پی سی بی کے نئے چئیرمین منتخب ہوگئے ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر رمیز راجا بلامقابلہ پی سی بی کے 36 ویں چئیرمین منتخب ہوگئے، عبدالحفیظ کاردار، جاوید برکی اور اعجاز بٹ کے بعد وہ چوتھے کرکٹرز اور تیسرے سابق کپتان ہیں، جنہوں نے بطور سربراہ کرکٹ بورڈ کا چارج سنبھالا ہے۔

نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ عظمت شیخ کی جانب سے گورننگ بورڈ کے خصوصی اجلاس میں رمیز راجا کے مقابلے میں کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے رمیز راجا کے کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ بننے کا باقاعدہ اعلان کردیا۔

گورننگ بورڈ کے اس اجلاس میں اسد علی خان، جواد قریشی، عاصم واجد جواد،عارف سعید اوعالیہ ظفر نے شرکت کی۔ پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان بھی اس اہم اجلاس کا حصہ تھے۔ اجلاس کے شرکا نے رمیز راجا پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا جس کے بعد انہوں نے چئیرمین کی کرسی پر بیٹھ کرچیف الیکشن کمشنر اور بورڈ ممبران کا شکریہ اداکیا۔ رمیزراجا نے کرکٹ کی بہتری کے لیے مستقبل کے پلانز پر روشنی ڈالی۔

یونس خان قومی ٹیم کے عہدے سے مستعفی

لاہور: پااکستان کرکٹ بورڈ اورقومی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ یونس خان نے باہمی اتفاق رائے سے راہیں جدا کرلی ہیں۔

یونس خان کو نومبر میں 2 سال کے لیے بیٹنگ کوچ مقرر کیا گیا تھا ۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کہناہے کہ یونس خان جیسی قدآور اور تجربہ کار شخصیت کو کھونا افسوسناک ہے۔ دونوں فریقین نے طویل مشاورت کے بعد باہمی اتفاق رائے سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ مختصر دورانیہ کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے یونس خان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں ، پرامید ہیں کہ وہ اپنے تجربے اورقابلیت کے تبادلے کے لیےمستقبل میں بھی پی سی بی کو دستیاب ہوں گے۔

پی سی بی اور یونس خان نے اس معاملے پر مزید کسی بھی تبصرے سے گریز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ لہٰذا دورہ انگلینڈ میں قومی کرکٹ ٹیم کو بیٹنگ کوچ کی خدمات میسر نہیں ہوں گی تاہم دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے یونس خان کے متبادل کا فیصلہ مناسب وقت پر کیا جائے گا۔ قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ 25 جون سے 20 جولائی تک شیڈول ہے۔ اس دورے میں 3 ون ڈے اور 3 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز شامل ہیں۔ قومی کرکٹ ٹیم 21 جولائی کو ویسٹ انڈیز روانہ ہو گی، جہاں اسے 24 اگست تک 5 ٹی ٹونٹی اور 2 ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے۔

میچ فکسنگ کی پیشکش کرنے والا سٹے باز گرفتار

لاہور: نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں میچ فکسنگ کی پیشکش کرنیوالا سٹے باز کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں کھلاڑی کو اپروچ کرنے والامبینہ بکی گرفتارہوگیا ہے، اسے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے گرفتار کیا۔ مبینہ بکی کے فون کا فرانزک کیا جارہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹر اس کا دوست ہے اور اس نے مذاق میں اپنے دوست سے فکسنگ کی بات کی تھی۔

خیال رہے کہ نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے کھلاڑی نے بکی کے رابطے کا فوری طور پر اینٹی کرپشن یونٹ کو بتایا تھا جس کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔ پی سی بی نے رپورٹ کرنے والے کھلاڑی کا نام راز میں رکھا ہے۔

پاکستان اور زمبابوے سیریز کے تمام میچز دن میں کرانے کا فیصلہ

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے 30 اکتوبر سے شروع ہونے والی زمبابوے کے خلاف سیریز میں شامل ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کو جلد شروع کروانے کا اعلان کیا ہے۔

پی سی بی کے مطابق یہ فیصلہ موسم کی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے دونوں ٹیموں کو کھیلنے کے مناسب مواقع دینے کی غرض سے کیا گیا۔ راولپنڈی میں شیڈول تین ون ڈے میچز دوپہر 12 بجے شروع ہوں گے جب کہ لاہور میں شیڈول 3 ٹی ٹوئنٹی میچز سہ پہر ساڑھے تین بجے شروع ہوں گے۔

دونوں ٹیموں کے مابین تین ایک روزہ میچز 30 اکتوبر، یکم اور 3 نومبر کوپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے جب کہ تین ٹی ٹوئنٹی میچز 7،8 اور 10 نومبر کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے۔ سیریز میں شامل تمام میچوں کو جلد شروع کروانے کا فیصلہ دن میں اسموگ اور رات میں شبنم کی متوقع صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

پی سی بی کی طرف سے میڈیا رائٹس کی فروخت کیلیے ٹینڈرطلب

لاہور: پی سی بی نے گلوبل میڈیا رائٹس کی فروخت کیلیے اظہاردلچسپی کی درخواستیں طلب کرلیں ہے

پی سی بی نے گلوبل میڈیا رائس کی فروخت کیلیے اظہار دلچسپی کی درخواستیں طلب کرلیں۔ وسیع تجربہ اوراچھی ساکھ رکھنے والی کمپنیز کو ٹینڈرز کے لیے دستاویزات اورمزید تفصیلات ارسال کی جائیں گی۔

پی سی بی نے رواں سال نومبرسے مارچ 2023 تک کے ٹی وی، ڈیجیٹل، ویب، موبائل اور آڈیو رائٹس فروخت کرنا ہیں،آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انگلینڈ، بھارت، بنگلہ دیش، یو اے ای، سری لنکا، یورپی، امریکی اور افریقی ممالک میں پاکستان کرکٹ کی نشریات کے حقوق شامل ہیں، خواہشمند کمپنیز 16 ستمبر تک بذریعہ ای میل اظہاردلچسپی کی درخواستیں جمع کروا سکتی ہیں۔

سلیم ملک کی پی سی بی پر شدید گولا باری

لاہور: سلیم ملک نے پی سی بی پر تنقید کے گولے برسا دیئے اور جواب جمع کرانے کے لیے آنے والے سابق کپتان پر کئی سوالات داغ کر چلے گئے۔

سلیم ملک ملکی کرکٹ کے دھارے میں شامل ہونے کے خواہاں ہیں، پی سی بی کا مطالبہ تھا کہ بحالی کا عمل شروع کرنے سے قبل انھیں آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے فراہم کردہ اس ٹرانسکرپٹ سے متعلق جوابات دینا ہوں گے جس میں میچ فکسنگ کے بارے میں گفتگو ہوئی تھی۔

سابق کپتان نے جواب جمع کرایا لیکن PCB نے غیر تسلی بخش جواب قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے 2014میں خود اعتراف جرم کیا، اب جواب دینے سے گریزاں ہیں، سلیم ملک کا موقف تھا کہ معاملے کو ختم کرنے اور آئی سی سی کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے بورڈ نے خود لیٹر کا ڈرافٹ تیار کیا، ان کے کہنے پر ہی میں نے دستخط کیے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ عدالت مجھے تمام الزامات سے بری کر چکی ہے۔

گزشتہ روز سلیم ملک قذافی اسٹیڈیم آئے اور نیا جواب داخل کرایا، اس موقع پر ان کو مرکزی گیٹ پر 12منٹ انتظار کرنا پڑا جس پرسابق کپتان نے کہا کہ پی سی بی کا رویہ افسوس ناک ہے،2،2 ٹیسٹ کھیلنے والے اندر بیٹھے ہوئے ہیں،100 میچز میں حصہ لینے والا باہر انتظار کررہا ہے،بورڈ حکام کا رویہ بتا رہا ہے کہ ان کے دل میں میرے لیے بغض ہے،انھیں معلوم تھا کہ مجھے آج جواب جمع کرانے آنا ہے،اس کے باوجود انتظار کرایا گیا۔

سلیم ملک نے کہا کہ آئی سی سی نے کبھی مجھے کوئی تحریر نہیں بھجوائی، ٹرانسکرپٹ کوئی ہے ہی نہیں تو جواب کیا ہوگا، اظہرالدین کا کیس بھارتی کرکٹ بورڈ نے لڑا، پی سی بی کے لوگوں نے میراکیس حل کرنے کے بجائے خراب کیا،میرے پاس تمام آپشنز اب بھی موجود ہیں، وزیر اعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ کرکٹ کی طرف بھی توجہ دیں۔

پی سی بی نے بنگلادیش کا دورہ پاکستان ملتوی کر دیا

لاہور: پی سی بی نے پاکستان اور بنگلا دیش کرکٹ کے درمیان ون ڈے اورٹیسٹ میچ ملتوی کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے۔

پی سی بی نے پاکستان اوربنگلا دیش کرکٹ کے درمیان ون ڈے اورٹیسٹ میچ ملتوی کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا۔ بورڈز نے سیریز میں شامل دونوں ٹیموں کے مابین سیریز میں شامل ایک روزہ میچ اور دوسرا ٹیسٹ میچ ملتوی کردئیے گئے ہیں۔ دونوں بورڈز اب مستقبل میں آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل سیریز کو مکمل کرنے کیلئے کے لیے باہمی مشاورت سے فیصلہ کریں گے۔

سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 7 تا 10 فروری تک راولپنڈی میں کھیلا گیا تھا، جس میں پاکستان نے ایک اننگز اور 44 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔

پاکستان کے خلاف سیریز کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے لیے بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کو 29 مارچ کو کراچی پہنچنا تھا۔ دونوں ٹیموں کے مابین واحد ایک روزہ میچ یکم اپریل کو کھیلا جانا تھا جبکہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل دوسرا ٹیسٹ میچ 5 تا 9 اپریل تک جاری رہنا تھا۔

اس دوران پاکستان کرکٹ بورڈ نے 25 مارچ سے شروع ہونے والاپاکستان ایک روزہ کپ بھی غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا ہے۔

پاکستان سپر لیگ میں عمدہ کھیل پیش کرنے والوں پرنظر رکھی ہوئی ہے،بابراعظم

کراچی: بابر اعظم پی ایس ایل کے ساتھ ٹی 20 ورلڈ کپ کی منصوبہ بندی میں بھی مصروف ہیں۔

بابر اعظم پی ایس ایل میں جہاں اپنی ٹیم کراچی کنگز کی فتوحات کیلیے کوشاں ہیں وہیں بطور قومی ٹی 20 کپتان اپنی ذمہ داری کو بھی نہیں بھولے ہیں، وہ ایسے پلیئرز پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو اسی سال آسٹریلیا میں شیڈول ٹی 20 ورلڈ کپ میں کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔

ایک انٹرویو میں انھوں نے کہاکہ پی ایس ایل اور ورلڈ کپ دو یکسر مختلف چیزیں ہیں ، میں سپر لیگ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہوں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ورلڈ کپ کے بارے میں نہیں سوچ رہا، میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ کون اچھی بیٹنگ یا بولنگ کررہا ہے، میں اس پر نظر رکھے ہوئے ہوں کہ کون آسٹریلوی کنڈیشنز میں موزوں ثابت ہوسکتا ہے، قیادت نے مجھے بہت سی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں، پہلے میں اپنی بیٹنگ کی فکر کرتا تھا اب پوری ٹیم کے بارے میں سوچتا ہوں۔

ایک سوال پر بابر نے کہاکہ کپتانی قدرے مشکل کام ہے مگر میں انڈر 19 لیول پر قیادت کرچکا، اگرچہ اس میں اور انٹرنیشنل کرکٹ میں فرق موجود مگر مجھے بہتری کی امید ہے۔

اپنی ٹیسٹ پرفارمنس میں بہتری کے سوال پر انھوں نے کہا کہ میں نے دورئہ جنوبی افریقہ کے دوران خود کو کافی بہتر کیا، وہیں یہ جانا کہ سیشن در سیشن کیسے آگے بڑھتے اور رنز بناتے ہیں، آسٹریلیا کا ٹور بھی کافی اچھا رہا، پہلے جب میں وہاں گیا تھا تو مشکلات کا شکار رہا مگر اس بار کافی بہتر کھی پیش کیا، میرے لیے یہ غیرمعمولی کامیابی ہے۔