سیاسی لوگوں سے بات ہوسکتی ہے مگر عمران خان سے نہیں، آصف زرداری

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان مزید رہ جاتا تو مزید ادارے بیچ دیتا،

سیاسی لوگوں سے بات ہوسکتی ہے مگر عمران خان سے نہیں کیوں کہ وہ خود کہتا ہے کہ یوٹرن غلط نہیں۔

وہاڑی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ ہمیں معلوم تھا کہ معیشت تباہ ہونے والی ہے لیکن جو حکومت سے چلا گیا اسے نہیں معلوم تھا ملک تباہ ہورہا ہے،

ہمارے لیے بہت آسان تھا کہ مزید انتظار کرتے اور الیکشن کرالیتے مگر ایسا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کچھ کام ایسے کردیے تھے کہ انہیں روکنا تھا اگر نہ روکا جاتا تو وہ مزید ادارے بیچ دیتا کیوں کہ اس کی عادت ہے،

یہ ہماری دھرتی ہے جو ہم اسے نہ کسی کو دے سکتے ہیں اور نہ بیچ سکتے ہیں۔

بلاول کے وزارتیں چھوڑنے کے بیان پر آصف زرداری نے کہا کہ بلاول جوان آدمی ہے اسے غصہ بہت جلدی آجاتا ہے،

میں 67 سال کا ہوں غصہ پینے کا عادی ہوں، وہ آکسفورڈ سے پڑھ کر آیا ہے وہ کہتا ہے مجھے آپ لوگوں نے وعدہ کیا تھا پورا کیوں نہیں کی۔

آصف زرداری نے کہا کہ سیاسی لوگوں سے بات ہوسکتی ہے لیکن غیر جمہوری جماعتوں سے بات چیت نہیں ہوسکتی،

عمران خان خود کہتا ہے کہ میں یوٹرن کرتا ہوں یہ میری خصلت ہے حالاں کہ سیاست میں ہے کہ ایک بار زبان دے دی تو یوٹرن کیسا؟ مگر یہ کہتا ہے کہ یوٹرن درست ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان کو گرفتار کرنا وزارت داخلہ کا اپنا معاملہ ہے میں اس میں دخل اندازی نہیں کرتا، وزارت داخلہ مجھ سے کیوں پوچھے گی؟ انہیں جو کرنا ہے وہ کرگزرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹیل مردم شماری پر سندھ کو تحفظات ہیں، پی ڈی ایم کا موقف اپنا ہے ہمارا موقف اپنا، ہم ان سے ملتے ہیں بات کرتے ہیں، ان کے ساتھ چلتے ہیں،

ہم پی ڈی ایم کا حصہ نہیں حکومت کا حصہ ہیں اسی لیے فاروق نائیک نے سپریم کورٹ میں درخواست دی کہ ہمیں بھی سنا جائے انتخابات والے معاملے میں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح پوری قوم کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اسی طرح عدلیہ کو درست کرنے کی کوشش کی جائے گی،

راجن پور کا الیکشن پی ٹی آئی نے مقبولیت کی بنیاد پر نہیں جیتا بلکہ مہنگائی کے اثرات کی وجہ سے جیتا۔

لکھ لیں یہ نہ پنجاب اورنہ ہی کے پی اسمبلی سے استعفیٰ دیں گے، بلاول زرداری

کراچی: وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ لکھ لیں یہ نہ پنجاب اورنہ ہی کے پی اسمبلی سے استعفیٰ دیں گے،صرف شوشہ چھوڑا گیا ہے۔

55 ویں یوم تاسیس پر نشترپارک میں مرکزی جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ عمران خان استعفے دو ہم مقابلے کیلیے تیار ہیں، سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا اعلان ہوا تو سلیکٹڈ سیاست دان پریشان ہو گئے، اس سلیکٹڈ کو مسلط کیا گیا جو آئینی حقوق چھیننا چاہتا ہے، ہم ان سے مقابلہ کریں گے تو سیاسی مقابلہ کریں گے، الیکشن کے میدان میں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کہا جمہوریت ہمارا انتقام ہے، پاکستان کی ایک ہی وفاقی اور جمہوری جماعت کا حصہ بنیں، آج کل لوگ انگلی کٹوا کر شہادت کا منصب حاصل کرنا چاہتے ہیں، بینظیر بھٹو کو معلوم تھا دہشت گرد ان پر حملہ کریں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کراچی کے لیے اپنا میئر منتخب کراکے کراچی کے مسائل حل کرانا ہمارا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی میدان میں بیٹھا ہوا ایک جیالا اس شہر کا میئر منتخب ہوگا، ہم نے ہر طبقے کو معاشی انصاف دلایا ہے، پیپلز پارٹی نے ایک دو نہیں تین آمروں کو بھگایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے نفرت، انتشار کی سیاست پر یقین رکھتی، پیپلز پارٹی امید اور یکجہتی کی سیاست پر یقین رکھتی ہے، جنگ ہاری ہوئی قوم کو ذوالفقار علی بھٹو نے امید دی۔

وزیر خارجہ نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے جیالوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عمران خان نیازی کے ناک کے نیچے سے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بے نظیر بھٹو اگر چاہتیں تو پہلے دھماکے کے بعد گھر سے خطاب کر سکتی تھیں، بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اگر ہم جلاو، گھیراو کی سیاست کرتے کوئی منع نہ کرتا۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے والد، 2 بھائیوں کو شہید کیا گیا، آصف زرداری نے کبھی میڈیا پر پابندی نہیں لگائی، بندوق کی نوک پر ہماری پارٹی سے لوگ نکالے گئے، ہم ان کا مقابلہ کریں گے تو سیاسی میدان میں کریں گے۔

علاوہ ازیں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جنگ ہارنے کے بعد 5 ہزار مربع کلومیٹر اراضی ہمارے دشمنوں کے پاس تھی لیکن ذوالفقار علی بھٹو کی کاوش کے نتیجے میں وہ زمین پاکستان کو واپس ملی اور آج اسی زمین سے ’’کالا سونا‘‘ تھر کا کوئلہ نکل رہا ہے اور فیصل آباد کی جو صنعتیں ہیں وہ اسی سرزمین کے کوئلہ سے بجلی پیدا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس فوجی ناکامی کے بعد 90 ہزار جنگی قیدی ہمارے دشمن کے کیمپ میں تھے لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاست، دانش مندی، کامیاب خارجہ پالیسی سے وہ جنگی قیدی پاکستان واپس لے آئے۔

آرمی چیف تعیناتی پر صدر نے گڑبڑ کی تو بھگتنا پڑے گا، وزیر خارجہ

اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی تک عمران خان کو یہ تماشا بند کرنا چاہیے، اہم تقرری کے معاملے پر اگر صدر نے کوئی گڑ بڑ کی تو انہیں بھگتنا پڑے گا۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایک گھڑی چور حقیقی آزادی کی بات کررہاہے، ان کے لا نگ مارچ کا کوئی جمہوری مقصد نہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ سے غیر جمہوری قوتوں کے کندھوں پر سیاست کی ہے، آرمی چیف جنرل باجوہ نے عمران خان کی طرف سے تاحیات توسیع کی پیشکش کو مسترد کر دیا، آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا یہ اقدام خوش آئندہ ہے، عمران خان جیسے سیاست دان کا مستقبل اداروں کو متنازعہ کرنے سے جڑا ہے، یہ چاہتے تھے نئے انتخابات ہو جائیں یا پھر کسی طریقے سے مارشل لاء لگ جائے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سے کہتا ہوں یہ جو کھیل چل رہا ہے اسے اب بند کرے، اگر عمران خان حقیقی آزادی چاہتے ہیں تو پھر کیوں اسی ہفتے کاانتظار کیا، عمران خان آرمی چیف کی تقرری کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں، آرمی چیف کی تعیناتی تک عمران خان کو یہ تماشا بند کرنا چاہیے، خان صاحب یہ فیصلہ ہونے دیں ، اسی ہفتے یہ فیصلہ ہونے دیں۔

بلاول نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی ادارتی فیصلہ ہے، یہ عمل مکمل ہونے سے عمران خان جیسے کافی لوگوں کی سیاست ختم ہوجائے گی، جسے روکنے کےلیے وہ اپنی آخری کوشش کررہا ہے، عمران خان کو اپنا لانگ مارچ آرمی چیف کی تقرری تک ملتوی کرلینا چاہیے۔

صدر مملکت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بلاول نے کہا کہ ان کا پہلے بھی امتحان لیا گیا تھا، عدم اعتماد کے وقت انہوں نے غیر آئینی کام کرتے ہوئے اسمبلی کو تحلیل کروانے کی کوشش کی تھی، امید ہے اس مرتبہ آئین و قانون کے تحت ساری چیزیں چلیں گی، یہ صدر عارف علوی کے پاس آخری موقع ہے، اگر صدر عارف علوی نے کوئی گڑبڑ کرنے کی کوشش کی تو اسے نتیجہ بھگتنا پڑے گا، ان کا امتحان ہے وہ عمران خان کا ساتھ دیتے ہیں یا آئین کا۔

بلاول نے مزید کہا کہ میں نے سنا ہے عمران خان راولپنڈی آنے کا اعلان کریں گے، وہ پرانی دھمکی کو دہرانے کیلیے آ رہے ہیں، ان کی اس سازش کو بھی ناکام بنائیں گے، میں یہ تجویز نہیں دوں گا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کوروکا جائے، مگر عمران خان ہمیں وہ قدم اٹھانے پر مجبور نہ کریں جو ہم نہیں اٹھانا چاہتے، عمران خان تعیناتی کے عمل کو مکمل کرنے دیں پھر جلسہ کریں۔

سندھ حکومت میں شمولیت کے لیے پیپلز پارٹی اور متحدہ کی اہم بیٹھک

کراچی: وفاقی حکومت میں شمولیت کے بعد سندھ حکومت میں شمولیت کے حوالے سے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان اہم بیٹھک ہوئی۔

ایم کیو ایم کے وفد خواجہ اظہار الحسن سمیت دیگر رہنماؤں نے ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات کی۔ ایم کیو ایم رہنماؤں نے وفاق سے گورنر کا عہدہ جبکہ سندھ سے فوری طور پر ایڈمنسٹریٹر کراچی کے عہدے سمیت آئی ٹی، ٹرانسپورٹ، یونیورسٹی بورڈ کی وزارتوں، ایڈمنسٹریٹر حیدرآباد، سرکاری نوکریوں میں کوٹا عمل درآمد سمیت دیگر نکات پر گفتگو کی۔

ذرائع کے مطابق اس اہم ملاقات میں پیپلز پارٹی کے وفد نے ایم کیو ایم وفد کو بلاول بھٹوزرداری سے مشورہ کے بعد عمل درآمد کی یقینی دہانی کرادی۔

اپوزیشن عدم اعتماد کا ہتھیار استعمال کرکے حکومت ختم کرسکتی ہے، بلاول زرداری

اسلام آباد: بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں عدم اعتماد کا ہتھیار استعمال کرکے سلیکٹڈ کی حکومت ختم کرسکتی ہیں، دوست ساتھ مل جائیں تو اس حکومت کو فورا گھر بھیج دیں گے یا اتنا ہلا کر رکھ دیں گے کہ وہ اس طرح کے ظلم نہیں کرسکے گا۔

فواد چوہدری کی جانب سے یوم دفاع پر آرمی چیف کی تقریر میں ففتھ جنریشن وار فیئر کے تذکرے کو پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل سے منسلک کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں بلاول نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزرا کو ہماری فوج اور فوجی قیادت کو اس طرح سے سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے، کٹھ پتلی وزیراعظم ففتھ جنریشن وار فیئر کا مقابلہ کرنے اور جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا، حکومت نے کئی بار ادارے کو اپنا سیاسی سہارا سمجھ کر خود کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، ڈیفنس ڈے کی تقریر سے اس قانون کا کیا تعلق ہے؟ حکومت جان بوجھ کر آرمی چیف کی تقریر کو اس قانون سے ملا کر مخصوص تاثر دے رہی ہے، اس قسم کی بیان بازی اور کوششوں سے ہمارے ادارے متنازع ہو جاتے ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی آمر یا سلیکٹڈ آتا ہے وہ میڈیا کنٹرول کرنیکے لیے کالا قانون لاتے ہیں، ہم نے ملکر ایوب خان کے کالے قانون کو ختم کیا تھا، ہم نے مشرف کی پابندیوں کو ختم کیا اور آئین سے صاف کیا، تھا، پیپلز پارٹی پی ایم ڈی اے کو نہیں مانتی یہ جمہوریت پر ڈاکہ اور عدلیہ پر بھی حملہ ہے، صحافیوں سے اپیل کا حق بھی چھینا جا رہا ہے، ہم پارلیمان میں آپکی آواز اٹھائیں گے۔

غریب عوام اس حکومت کے نشانے پر تھے، بلاول

ٹنڈو الٰہیار: عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جب بھی غیرجمہوری اور سلیکٹڈ حکومت آتی ہے عوام سے ان کے حقوق چھینے جاتے ہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے تب سے بے روزگاری شروع ہوئی، مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہوا ہے، پہلے دن سے اس ملک کے غریب عوام اس حکومت کے نشانے پر تھے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ جو اس حکومت میں ہوا ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا ہے، سلیکٹڈ حکومت عوام پر ہر طرف سے حملہ آور ہے، عوام کے جمہوری حقوق اور روزگار پر ڈاکے مارے جا رہے ہیں، حکومت عوام کے معاشی قتل پر اتر آئی ہے، اسٹیل ملز کے دس ہزار خاندانوں کو بے روزگار کردیا گیا ہے، ایف آئی اے میں کام کرنے والے ہزاروں افراد کو نکال دیا گیا، نوجوان کو روزگار کا موقع نہیں مل رہا، اور جن لوگوں کے پاس روزگار ہے اسے ختم کیا جارہا ہے، پورے ملک میں پبلک سروس کمیشن چل رہے ہیں سندھ ایک ہی صوبہ ہے جہاں پبلک سروس کمیشن پر تالا لگا ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ماضی میں کبھی مہنگائی اورغربت میں اتنا اضافہ نہیں ہوا، مہنگائی کی شرح میں پاکستان بنگلہ دیش سے آگے نکل گیا ہے، جنگ زدہ افغانستان سے بھی پاکستان میں مہنگائی زیادہ ہے، یہ عمران خان کی تبدیلی ہے، ان کا تین سال میں کارنامہ تاریخی مہنگائی ہے، اگر تین سال میں کوئی کامیابی ہے تو وہ تاریخی غربت ہے، یہ عمران خان کی پہلی اور آخری حکومت ہے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ عوام جانتے ہیں کہ اپنے حقوق کا تحفظ کیسے کیا جاتا ہے اور کیسے حقوق چھینے جاتے ہیں، عوام نے ایک نہیں بلکہ کئی آمروں کے خلاف جدوجہد کی ہے، انہیں ایک بار پھر جدوجہد کیلئے تیار ہونا ہے، تاکہ ہم سیاسی میدان میں اتر کر اس نااہل، نالائق اور ناکام ترین حکومت کا مقابلہ کریں، کوئی جماعت سلیکٹڈ کا مقابلہ کرسکتی ہے تو وہ پیپلزپارٹی ہے، ہم نے مل کر انہیں بھگانا ہے، اور عوامی حکومت لانی ہے۔

بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام نے ان حکمرانوں کو نہ پہلے مانا اور نہ آج ان کو مانتے ہیں اور آنے والے کل میں ان کو بھگائیں گے، یہ عمران خان کی پہلی اور آخری حکومت ہے، ابھی انہیں جشن منانے دو، جب پاکستان کے عوام کے ہاتھ میں یہ فیصلہ آئے گا اور ووٹ کا موقع ملے گا تو وہ خود فیصلہ کریں گے، ہم ناکام، نالائق اور ناکام سلیکٹڈ کو بھگائیں گے۔

سیاسی حریف کٹھ پتلی کوگرانےمیں سنجیدہ نہیں، بلاول زرداری

عباس پور: بلاول بھٹو زرداری نے عباس پور آزاد کشمیر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کا رخ کریں گے، بنی گالا کی طرف آئیں اور کٹھ پتلی کو بھگائیں گے، منافق جھوٹ بولتاہے اور یوٹرن لیتاہے، پچاس لاکھ گھربنانےوالےنےلوگوں سے چھت چھین لی، کشمیریوں کی ذمہ داری ہےکٹھ پتلی سے خود کو بچائیں، کشمیرکےعوام نے سب کو بھگتاہے، کٹھ پتلی پورے ملک کا خون چوس رہاہے۔

ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ ہم تین سال سے اس کٹھ پتلی کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اپنے سیاسی مخالفین کوملنےجیل تک پہنچے، لیکن ہمارے سیاسی حلیف ساتھ مل کرکٹھ پتلی کوگرانےمیں سنجیدہ نہیں، ہم عمران کو ایک انچ کی بھی گنجائش نہیں دیں گے، ضمنی الیکشن میں ہم نے عمران خان کو شکست دی، جبکہ ہمارے دوست چاہتے تھے کہ ضمنی الیکشن عمران کو تحفے میں دیں، پاکستان پیپلز پارٹی کسی کے پاؤں نہیں پکڑےگی، آپ کہتے تھے آر یا پارہوگا، اب پاؤں پکڑ رہے ہو، نظریاتی سفرآرپارسے ہوتے ہوئے پاؤں پکڑنےتک پہنچ چکےہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیریوں کے فیصلےکودہلی اور اسلام آباد کو مانناپڑے گا، کشمیری حکم کریں کل جنگ کریں تو کل جنگ ہوگی، کشمیرکےعوام کےساتھ مل کر مقبوضہ وادی کا مقدمہ لڑیں گے، کشمیرکیلئےہزارسال جنگ کرناپڑےتوکرینگے، مقبوضہ کشمیرمیں جوظلم ہورہاہےوہ آزادکشمیرکےعوام کیلئےناقابل قبول ہے، اس طرف ظلم کے پہاڑتوڑےجارہےہیں،عمران کا جواب ہوتاہےمیں کیاکروں؟؟، مودی کےظلم پرعمران خان کا جواب سے کیا آپ مطمئن ہو، ہم مودی کیلئےدعامانگتےہیں نہ اسے شادیوں کی دعوت دیتےہیں۔

حکومت پیپلز پارٹی کے جیالوں سے خوفزدہ ہیں، بلاول زرداری

کراچی: کوٹلی میں انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکمران پیپلز پارٹی کے جیالوں سے خوفزدہ ہیں، پیپلز پارٹی کشمیر کے صدر پر دو مرتبہ حملہ ہوا، ہم مسلم کانفرنس کی عزت کرتے ہیں مگر یہ کیسی جماعت ہے جو پیپلز پارٹی کے صدر پر حملہ کرتی ہے، کیاووٹ کی عزت بندوق سے ہوتی ہے؟

جیالوں کو حکم دوں تو حکمران کہیں کے نہیں رہیں گے، آپ ووٹ کی طاقت سے ہمارا مقابلہ کریں ، ہم ایسی سیاست نہیں کرنے دیں گے،جہاں جیالوں کا پسینہ گرے وہاں ہمارا خون گرے گا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مودی نے کشمیرکی حیثیت تبدیل کی تو بزدل نے ہائی وے کا نام سری نگر ہائی وے رکھ دیا، مودی نے حملہ کیا تو بزدل نے اسمبلی فلور پر کہا کہ میں کیا کروں، کشمیر پر سودےبازی ہرگز قبول نہیں کریں گے، جب تک ایک بھی جیالا ہے ان کا ہر منصوبہ ناکام بنائیں گے، عوام نے (ن) لیگ کی ترقی اورعمران خان کی تبدیلی کو دیکھ لیا ہے، پیپلز پارٹی عوام کےساتھ کھڑی رہے گی، عمران خان کی طرح تنہا نہیں چھوڑیں گے، آزاد کشمیرکےعوام کومعاشی طورپرمضبوط بنائیں گے۔

آصف زرداری کی طبیعت ناساز، ہسپتال منتقل

کراچی: آصف علی زرداری کو طبیعت ناساز ہونے کے باعث ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری کی طبیعت ناساز ہونے کے باعث انہیں ڈاکٹروں کی ہدایت پر ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔ آصف علی زرداری کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ڈاکٹرز کے ان کے طبی معائنے کے لیے مختلف نمونے حاصل کر لیے ہیں۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اسلام آباد اور بختاور بھٹو خاوند محمود چوہدری کے ہمراہ دبئی سے کراچی پہنچ گئے ہیں۔

خان صاحب کو جلد پتا لگ جائیگا شاہ محمود کیا چیز ہیں، بلاول

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ابھی خان صاحب کو لگ پتا جائیگا شاہ محمود کیا چیز ہیں، ملتان کے فاضل ممبر نے بار بار میرا نام لیا لیکن میں نام نہیں لوں گا، میں ان کو اتنی اہمیت نہیں دیتا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ’جتنا ہم انہیں جانتے ہیں آپ نہیں جانتے، فاضل ممبر نے میرا نام لیا تو آپ مجھے موقع دیں یہ میرا حق ہے، اگر اسپیکر رولز کے مطابق بات کرنے دیتے ہیں تو وعدہ کرتا ہوں، میرے ممبران تمیز کے ساتھ بیٹھیں گے اور آپ کے وزیراعظم کی بات سنیں گے، رولز اپنانا پڑیں گے تو ہی ہاؤس چلے گا‘۔

بلاول بھٹو نے شاہ محمود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس پارٹی پر تنقید کی جس نے انہیں وزیر خزانہ اور پنجاب کا صدر بنایا، خان صاحب کو بتائیں اس شخص کو پہچانیں، میں تو بچپن سے دیکھتا آرہا ہوں، میں نے انہیں بچپن سے جئے بھٹو کا نعرہ لگاتے دیکھا، انہیں وزارت بچانے کے لیے اگلی باری پھر زرداری کا نعرہ لگاتے ہوئے دیکھا، آپ دیکھیں گے یہ آپ کے وزیراعظم کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ وزیر خارجہ ہیں جو کشمیر کے سودے میں ملوث ہیں، یہ وہ وزیر خارجہ ہیں جب افغانستان سے امریکا جارہا ہے، پاکستان کی اسٹریٹجک لوکیشن کی وجہ سے ہم پر اس کے بہت اہم اثرات ہیں، ہمارا کردار بہت اہم ہے۔

چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ ’درخواست کرتا ہوں کہ وزیراعظم کو آئی ایس آئی کو کہنا چاہیے کہ وہ شاہ محمود کے فون ٹیپ کریں، جب وہ ہمارے وزیر خارجہ تھے تو دنیا میں مہم چلائی کہ گیلانی کو نہیں مجھے وزیراعظم بنادیں، یہی وجہ ہے انہیں وزارت سے ہٹایا گیا تھا۔