اسلام آباد دھماکے کے ملزمان اور سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا، وزیر داخلہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر آئی 10 فور میں ہونے والے دھماکے میں ملوث ملزمان اور سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ اسلام آباد دہشت گرد حملے کے ملزمان گرفتار کرلیے جبکہ سہولت کاروں کو بھی پکڑ لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور کرم ایجنسی سے چلے اور راولپنڈی میں قیام کیا اور پھر وہ ہائی پروفائل ٹارگٹ کے لیے اسلام آباد میں داخل ہوئے جسے پولیس نے ناکام بنا دیا، واقعے کی تحقیقات میں ٹیکسی ڈرائیور کا کوئی قصور نہیں نکلا وہ بے گناہ تھا۔

سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم نے چار پانچ لوگوں کو ’راؤنڈ اپ کیا ہے جبکہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزمان نے ٹیکسی ڈرائیور سمیت کرائے پر حاصل کی تھی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر آئی ٹین فور میں 23 دسمبر کو پولیس اہلکاروں کے روکنے پر دہشت گردوں نے ٹیکسi کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا تھا۔ جس میں پولیس اہلکار سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ 10 زخمی جن میں ڈرائیور بھی شامل تھا۔

بعد ازاں تحقیقات میں ڈرائیور بے قصور پایا گیا تھا جس کے بعد وزیراعظم نے مقتول کے لئے مالی پیکج کی منظوری دے دی، جس پر لواحقین کو 1 کروڑ روپے مالیت کا چیک دے دیا گیا۔

دھماکے کے بعد اسلام آباد میں پندرہ روز کیلیے دفعہ 144 نافذ جبکہ سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے، جس کے لیے مختلف مقامات پر چیک پوسٹیں قائم کی گئیں ہیں اور شہریوں کو شناختی دستاویزات کے بعد ہی آمد و رفت کی اجازت دی جارہی ہے۔

را کے گروپس پاکستان میں دہشتگردی چاہتے ہیں، شیخ رشید احمد

اسلام آباد: شیخ رشید احمد نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ افواج نے ہزاروں جانوں کی قربانی دیکر دہشتگردوں کو شکست دی، طالبان کیخلاف کامیابی حاصل ہوئی تو کچھ گروپ اکا دکا وارداتیں کر رہے ہیں۔

اسلام آباد میں دو دہشتگرد مارے گئے جس کا ٹی ٹی پی نے اعتراف بھی کیا، 11 فروری کو بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی (یو بی اے) کے گروپس اکٹھے ہوئے اور بلوچ نیشنلسٹ آرمی (بی این اے) بنائی، بی این اے چھوٹا سا گروپ ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ یہ حملے ہماری قوم کو اور مورال کو شکست نہیں دے سکتے، ٹی ٹی پی ہمارے ساتھ لڑےگی تو جواب دینگے، داعش سے مذاکرات نہیں ہوئے، ٹی ٹی پی کی شرائط ایسی سخت تھیں جو قبول نہیں کی جاسکتی تھیں، اس طرح بات چیت آگے نہ بڑھی، انہوں نے خود سیزفائر توڑا، اگر وہ قانون اور آئین کے جھنڈے تلے آنا چاہتے ہیں تو دروازے کھلے ہیں، لیکن اگر وہ لڑیں گے تو ان سےلڑا جائیگا، آج افغانستان میں پہلے جیسا پاکستان مخالف ماحول نہیں ہے، طالبان نے 42 عالمی فورسز سمیت بھارتی خفیہ ایجنسی را اور این ڈی ایس کو شکست دی اس کے بعد بعض ان کے چھوٹے گروپس پاکستان میں دہشتگردی کی فضا بنانا چاہتے ہیں، انہیں شکست فاش ہوگی۔

شیخ رشید نے کہا کہ اپوزیشن اسلام آباد آناچاہتی ہےتوآجائے اور شوق پورا کرلے،یہ منہ اورمسورکی دال، عمران خان کی خوش نصیبی ہے کہ اسکو ایسی نالائق اپوزیشن ملی، عمران خان کی حکومت کہیں نہیں جارہی ، عمران خان کی حکومت اپوزیشن کی جڑوں میں بیٹھ گئی ہے، اگر آپ قانون کو ہاتھ میں لیں گے تو ہم آپ کو ہاتھ میں لیں گے، عمران خان کہیں نہیں جا رہے، اپوزیشن نے ٹریکٹر ٹرالی نہیں ریڑھا ریڑھی نکالی ہے، فنانس میں ان کے 12 لوگ کم تھے، عدم اعتماد میں 25 ووٹ کم ہوں گے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں ہم جا رہے ہیں انکی عقل کام چھوڑ چکی ہے، نہ ہم جا رہے ہیں نہ آپ آرہے ہیں، اگر اپوزیشن نے کوئی ایسی غلطی کی کہ جس سے جمہوریت کا نقصان ہوا تو یہ انکا اپنا نقصان ہوگا، ان کے گلے میں ڈھول ڈال کر پیٹا جائے گا، اسی لیے انہیں چاہیے کہ 23 کی بجائے 24 یا 27 مارچ کرلیں، بلاول کے ساتھ مل کر آجائیں کوئی فرق نہیں پڑتا، او آئی سی کانفرنس ہورہی ہے آپ تھوڑاآگے یا پیچھے اپنی ریلی کرلیں۔

سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاہور دھماکے میں ہم ایک آدمی کے پیچھے ہیں، بہت قریب تو نہیں لیکن قدموں کی چاپ کے پیچھے چل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایمرجنسی اور صدارتی نظام کا بہت شور ہے ابھی تک یہ کابینہ میں زیر بحث نہیں آیا۔

نواز شریف کے 24 گھنٹے میں کاغذات جاری کرسکتے ہیں، شیخ رشید

اسلام آباد: میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ ہم مزاحمت کے نہیں مفاہمت کے داعی ہیں، کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا کوئی علم نہیں، کالعدم ٹی ٹی پی میں مزید کچھ گروپ شامل ہوگئے ہیں، ہمیں تمام معاملات کی خبر ہے جو پاکستان کے لئے بہتر ہو گا وہ ہی کریں گے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پنڈورا لیکس کی تحقیقات ہوں گی، جو جواب نہیں دیں گے ان کو اداروں کے حوالے کریں گے، میں نے کہا تھا اکتوبر اہم تبدیلیاں ہوں گی اور ہوئیں، جب میں نے کہا کہ (ن) سے (ش) نکلے گی تو لوگوں نے میرا مذاق اڑایا، (ن) لیگ صرف کمپنی کی مشہوری کے لیے اداروں کو بدنام کر رہی ہے، اداروں کو نشانہ بنانے سے ان کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ نواز شریف کی سیاست کو مرتے ہوئے دیکھ رہاہوں، اگر نواز شریف واپس آنا چاہتے ہیں تو 24 گھنٹے میں کاغذات جاری کرسکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی ای سی ایل سے متعلق عدالت یا وزارت داخلہ سے رجوع کرسکتے ہیں ، وہ ہمیں درخواست دیں وزارت داخلہ یوسف رضا کے ای سی ایل میں نام ہونے کا معاملہ دیکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کئی ہزار ویزا ہولڈر لوگ لاپتہ ہیں ان کے خلاف گھیرا تنگ کر رہے ہیں، ہم انہیں مہلت دے رہے ہیں کہ اگلے مہینے تک ہمارے ملک سے نکل جائیں، اس کام کے لئے اداروں سے لوگ لئے گئے ہیں ابھی اس حوالے کوئی نئی بھرتی نہیں کی گئی۔

اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی سربراہی میں نیشنل ایکشن پلان سیکریٹریٹ فاٹا ہاؤس اسلام آباد میں اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، چاروں صوبوں سمیت آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز سمیت متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی، اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا اور چاروں صوبوں، جموں و کشمیر ، گلگت بلتستان اور اسلام آباد انتظامیہ کے درمیان روابط بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔