سوشل میڈیا کی بندش، اصل وجہ سامنے آگئی

کیلی فورنیا: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز دنیا بھر میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروس 6 گھنٹے تک معطل رہی تھی جس کے باعث ساڑھے تین ارب صارفین متاثر ہوئے تھے اور کمپنی کے اسٹاکس 4.9 فیصد گرگئے تھے۔

فیس بک انتظامیہ نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا تھا کہ سروس کی معطلی کی وجہ کنفیگریشن میں تبدیلی کی وجہ سے ہوئی تھی تاہم کنفیگریشن کی تبدیلی کی نوعیت سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ فیس بک کے کچھ ملازمین نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ سروس کی معطلی انٹرنیٹ ٹریفک کو سسٹم تک پہنچانے کی کوئی اندرونی غلطی ہے۔

فیس بک ملازمین نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے مزید بتایا کہ اندرونی روابط کے آلات کی ناکامی اور نیٹ ورک سے متعلق دیگر خرابیوں نے تینوں ایپس کی سروس کی معطلی کے دورانیے میں اضافہ کیا۔

واضح رہے کہ سیکیورٹی ماہرین نے بھی امکان ظاہر کیا تھا کہ کمپنی میں کام کرنے والے کسی شخص سے نادانستہ طور پر کوئی غلطی ہوئی ہوگی تاہم فیس بک کا اصرار تھا کہ معطلی کی وجہ ’کنفیگریشن کی تبدیلی‘ ہے۔

فیس بک کو 7 ارب ڈالرکا نقصان

نیو یارک: گزشتہ روزدنیا کے مختلف ممالک میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروس بند ہوگئی تھی جس کے باعث مارک زکربرگ کو 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

میڈیا کمپنی بلوم برگ کے مطابق گزشتہ روزتقریبا 6 گھنٹے کے لیے سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک، اورسوشل میڈیا ایپلیکیشن انسٹاگرام اورواٹس ایپ تکنیکی خرابی کے باعث بند ہوگئ تھیں جس کے باعث فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کے اسٹاکس 4.9 فیصد گرگئے اورکمپنی کو7 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑگیا۔ اس نقصان کی بڑی وجہ فیس بک کی بندش کے باعث صارفین کا دیگرایپلیکیشن اورویب سائٹس تک رسائی کرنا بھی شامل ہے۔

فیس بک کے حصص میں کمی گزشتہ سال نومبرکے بعد ایک دن میں سب سے بڑی کمی ہے تاہم سروسز بحال ہونے کے بعد اس میں 0.5 فیصد بہتری آگئی ہے۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: دنیا بھر میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر, فیس بک کی ٹوئٹ

فیس بک کی اس طرزکی سروس معطلی اپنی نوعیت کی سب سے طویل بندش ہے جسے آج تک ویب مانیٹرنگ گروپ ڈاؤن ڈیٹکٹر نے ٹریک نہیں کیا۔ فیس بک انتظامیہ کی جانب سے بندش کا الزام کنفیگریشن میں غلط تبدیلی پرلگایا ہے جس کے باعث فنی خرابی پیدا ہوئی اورمختلف ممالک سے ساڑھے تین ارب صارفین واٹس ایپ، انسٹاگرام اورفیس بک استعمال کرنے سے محروم ہوگئے۔

کمپنی کی انتظامیہ کی جانب سے واضع نہیں کیا گیا کہ کنفیگریشن پہلے سے طے شدہ تھی یا کس کی جانب سے کی گئی۔فیس بک کے چیف ٹیکنالوجی افسرمائیک شروفر نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ سروسز کی 100 فیصد بحالی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، ہم پر انحصار کرنے والے تما چھوٹے اور بڑے کاروبار، خاندانوں اورمنسلک افراد سے میں معذرت خواہ ہوں۔

دوسری جانب سکیورٹی ماہرین کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ کمپنی میں کام کرنے والے کسی شخص سے نادانستہ طورپرکوئی غلطی ہو گئی ہوتاہم تاحال کمپنی انتظایہ کی جانب سے کوئی واضح موقف نہیں اپنایا گیا ہے۔

دیگرماہرین کا کہنا ہے کہ فیس بک ویب نظام میں تبدیلی کی وجہ سے مسئلہ پید اہوا۔ فیس بک نے بارڈر گیٹ وے پر وٹوکول میں کئی تبدیلیاں کی تھیں جس کی وجہ سے فیس بک انٹرنیٹ سے غائب ہوگئی۔

فیس بک ایک بار پھر صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے تنقید کا نشانہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فیس بک ایک بار پھر صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے تنقید کی زد میں ہے اور اب کی بار ایک سیکیورٹی فیچر اس کی وجہ بنا ہے۔ فیس بک نے 2011 میں صارفین کے لیے ٹو فیکٹر آتھنٹیکشن فیچر متعارف کرایا تھا، یعنی ایسا عام سیکیورٹی فیچر جس میں لاگ ان کی کوشش پر ایک ایس ایم ایس صارف کو موصول ہوتا ہے۔ مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ یہ فیچر فیس بک دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال کررہی ہے۔

ٹیک کرنچ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سیکیورٹی فیچر کے لیے دیئے جانے والے صارفین کے فون نمبروں کو فیس بک دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ستمبر 2018 میں اس کی لینگوئج کو اپ ڈیٹ کرکے اس میں اینڈ مور کا اضافہ کیا گیا حالانکہ پہلے لکھا تھا Add your phone number to help secure your account۔

اب جو صارفین سیکیورٹی کے لیے اپنے فون نمبر کا اضافہ کرتے ہیں، انہیں ایک سیکیورٹی سیٹنگ کا سامنا ہوتا ہے جو ان سے پوچھتی ہے کہ اس نمبر کو کون کون دیکھ سکتا ہے اور اس کے لیے آپشنز ہوتے ہیں ایوری ون، فرینڈ آف فرینڈ یا فرینڈز، اپنی حد تک رکھنے کا کوئی آپشن نہیں۔ اسی طرح فیس بک انسٹاگرام سے معلومات شیئر کرتی ہے اور انہیں کہتی ہے کہ اگر مین فیس بک ایپ میں ان کا فون نمبر مختلف ہے تو انسٹاگرام پروفائل میں بھی اسے اپ ڈیٹ کریں۔

گزشتہ سال ستمبر میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ فیس بک اس سیکیورٹی معلومات کو ٹارگٹ اشتہارات کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اب ایک سائٹ ایموجی پیڈیا کے ایڈیٹر جرمی برگ نے اس حوالے سے نئی روشنی ڈالی ہے اور انکشاف کیا کہ اس حوالے سے صارفین کی پرائیویسی کا خیال نہیں رکھا جارہا۔ فیس بک نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا ‘ہم نے ٹو فیکٹر آتھنٹیکشن کے حوالے سے مختلف سوالات کو سنا ہے، یہ ایک اہم سیکیورٹی فیچر ہے اور گزشتہ سال ہم نے ایک آپشن کا اضافہ کیا تھا جس کے تحت صارف بغیر فون نمبر کے بھی رجسٹریشن کراسکتے ہیں’۔

بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ سال اپریل میں ہم نے فیس بک سرچ بار میں کسی فرد کے فون نمبر یا ای میل ایڈریس سے اسے تلاش کرنے کا فیچر ختم کردیا تھا تاکہ پرائیویسی محفوظ رہ سکے۔ اب لوگ ہو کین لک میں اپ سیٹنگز کنٹرولز سے اپنے فون نمبر یا ای میل ایڈریس کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔