بجلی کے جھٹکوں سے کمر کے درد کا خاتمہ ممکن

لندن: برطانوی اور امریکی سائنسدانوں نے بہت کم فریکوینسی والی بجلی کے معمولی جھٹکوں سے کمر کا شدید درد ختم کرنے میں اتنی غیرمعمولی کامیابی حاصل کی ہے کہ جس پر خود انہیں یقین نہیں آرہا۔

کنگز کالج لندن کے ماہرین کی نگرانی میں یہ تجربات ایسے 20 مریضوں پر کیے گئے جن کی کمر کے نچلے حصے میں پچھلے کئی سال سے شدید درد تھا، جو بعض مریضوں میں کمر سے شروع ہو کر کولہوں اور ٹانگوں تک پہنچ رہا تھا۔ مستقل دوائیں کھانے اور کمر کی سرجری کروانے کے بعد بھی ان مریضوں کے درد میں کچھ خاص افاقہ نہیں ہورہا تھا۔

یہی تجربات اس سے پہلے چوہوں کیے گئے تھے جن سے انکشاف ہوا تھا کہ اگر کمر کے نچلے حصے میں، ریڑھ کی ہڈی کے ارد گرد برقیرے (الیکٹروڈز) لگا کر ان میں سے بہت کم تعدد والی بجلی (الٹرا لو فریکوینسی الیکٹرک کرنٹ) گزاری جائے تو کمر کے درد میں بہت کمی کی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ الٹرا لو فریکوینسی میں 300 ہرٹز سے 3,000 ہرٹز والی برقی مقناطیسی لہریں شامل ہوتی ہیں۔

انسانی آزمائشوں کے دوران مریضوں کی کمر میں، معمولی آپریشن کے بعد، ریڑھ کی ہڈی کے قریب دو چھوٹے چھوٹے برقیرے نصب کردیئے گئے جن میں سے روزانہ تھوڑی دیر تک بہت کم فریکوینسی پر معمولی سی بجلی گزاری گئی۔ بجلی گزرنے پر ریڑھ کی ہڈی میں موجود اعصاب سے درد کے سگنل دماغ تک پہنچنے میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور یوں ان مریضوں میں کمر کا درد بہت کم ہوگیا۔

تقریباً دو ماہ تک جاری رہنے والے ان تجربات میں 90 فیصد مریضوں کی کمر کا درد اوسطاً 80 فیصد کم ہوگیا جبکہ ان میں سے بھی چند مریضوں کا کہنا تھا کہ انہیں کمر کا درد بالکل بھی محسوس نہیں ہوا۔ پندرہ دنوں تک یہ عمل روزانہ دوہرا کر روک دیا گیا، جس کے بعد تمام مریضوں میں کمر کا درد بھی بتدریج بڑھنے لگا؛ اور بالآخر 23 ویں روز تک ان کی کیفیت ویسی ہی ہوگئی کہ جیسی علاج شروع ہونے سے پہلے تھی۔

تجربات کے نتائج نے انہیں انجام دینے والے سائنسدانوں تک کو حیران کردیا ہے۔ اب وہ اپنے ابتدائی مشاہدات کی مزید تصدیق کےلیے زیادہ بڑا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔

سیب اور ناشپاتی کھانے سے بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے، تحقیق

آئرلینڈ: پھلوں اور سبزیوں کے صحت پر اثرات سے تو ہم سب واقف ہیں لیکن بعض اقسام کے پھل جن میں سیب، بیریاں، ناشپاتی اور دیگر پھل شامل ہیں وہ بلڈ پریشر قابو میں رکھنے میں بہت مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ پھل اینٹی آکسیڈنٹس اور فلے وینوئڈز سے بھرپور ہوتے ہیں جن کی بدولت وہ امراضِ قبل سرطان اور ذیابیطس سے بھی بچاتے ہیں۔

اگرچہ ان پھلوں کی افادیت بھی سامنے آتی رہی ہے لیکن ایک نئی تحقیق نے اس حقیقت کو مزید تقویت بخشی ہے۔ اب یہ تحقیق بتاتی ہے کہ ہمارے معدے اور آنتوں میں رہنے والے خردنامیے اور مختلف اقسام کے بیکٹیریا فلے وینوئڈز سے عمل کرکے بلڈ پریشر قابو میں رکھتے ہیں۔ اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ بعض فلے وینوئڈز دل کے لیے مفید کیوں ہوتے ہیں؟

شمالی آئرلینڈ میں واقع کوئنزیونیورسٹی کے سائنسدانوں کی تحقیق بتاتی ہے کہ فلے وینوئڈز کے انجذاب اور بلڈ پریشر قابو میں رکھنے میں معدے کے خردنامئے اہم کردار ادا کرتےہیں۔ اس طرح فلے وینوئڈز کا باقاعدہ استعمال بلڈ پریشر کو کم کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

بلیوبیری، اسٹرابری اور دیگر اقسام کی بیریوں کی روزانہ 80 گرام مقدار کھائی جائے تو اس سے چار درجے بلڈ بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ نارمل بلڈ پریشر کی پیمائش 120 اور 80 ہوتی ہے اور 140 سے 90 ایم ایم کو بلڈ پریشر کی بلند مقدار قرار دیا جاسکتا ہے۔

کوئنز یونیورسٹی میں غذائیت کی ماہر پروفیسر ایڈن کیسیڈی کہتی ہیں کہ ’اینتھوسیانِنس‘ ایک قسم کے فلے وینوئڈز ہوتے ہیں جو بلڈ پریشر کو معمول پر رکھتے ہیں۔ کئی پھلوں کے نیلے اور سرخ رنگوں میں یہ خاص فلے وینوئڈز پائے جاتے ہیں، جن میں بلیک بیری، بلیو بیری، سرخ انگور اور دیگر پھل شامل ہیں۔

معدے کے بیکٹیریا انہیں سادہ اجزا میں تقسیم کرتے ہیں اوریہ دل کے لیے بہت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک جانب تو یہ خود آنتوں کے بیکٹیریا پرمثبت اثر ڈالتے ہیں تو دوسری جانب انہی بیکٹیریا کی بدولت بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے۔

اس مطالعے میں 904 افراد کو شامل کیا گیا ہے جن کی عمریں 25 سے 82 برس تھی جن کا طبی ڈیٹا بیس جرمنی کے بایوبینک میں تھا۔ ان تمام افراد سے 112 اقسام کے کھانوں کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔

شریک افراد سے ان کے کھانے پینے ، سونے اور دیگرمعلومات کی بابت پوچھا گیا اور دن میں کئی مرتبہ ان کے بلڈپریشر ٹیسٹ کئے گئے۔ ان میں سے جن افراد نے سیب، ناشپاتی اور بیریاں کھائی تھیں ان میں بلڈ پریشر کی سطح معمول پر دیکھی گئی۔

چربی اور امراضِ قلب کے درمیان تعلق دریافت

اسپین: اسپین کی غرناطہ (گریناڈا) یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ اگر کسی صحتمند شخص کی گردن کے مختلف حصوں میں چربی جمع ہورہی ہے تو اس کا تعلق امراضِ قلب سے ہوسکتا ہے یا پھر اسے امراضِ قلب کا پیش خیمہ کہا جاسکتا ہے۔

جامعہ کی تحقیق بتاتی ہے بظاہر صحت مند بالغ افراد کی گردن میں لحمیات کی بڑی ہوئی مقدار یا تو اندرونی سوزش کی وجہ بنتی ہے یا پھراس کا تعلق انفلیمیشن سے ہوتا ہے۔ اسی طرح چربی کی زائد مقدار کو دیکھ کر ہم اسے امراضِ قلب کے ایک پیمانے کے طور پر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

طب کی زبان میں جسم میں ایک خاص قسم کی بافت (ٹشوز) وسکیرل ایڈیپوز ہوتے ہیں اور وہ دل کی کیفیات میں خرابی کی وجہ بن سکت ہیں۔ اس کے علاوہ اندرونی جسمانی سوزش سے بھی ان کا تعلق ہوتا ہے۔ لیکن اب عام قسم کی چربی کے اجتماع کو بھی طبی لحاظ سے دیکھا گیا ہے۔

غرناطہ یونیورسٹی کی ڈاکٹر ماریہ ہوزے اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ ہم ٹھوڑی اور گردن کے گہرے گوشوں میں جمع غیرمعمولی چربی کا تعلق دل کے امراض سے جوڑ سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ تحقیق گردن کے سرطانی پھوڑوں پر تحقیق کے بعد سامنے آئی ہے لیکن ڈاکٹر ماریہ نے اسے بطورِ خاص ایک نئے زاویے سے دل کے امراض کے حوالے سے دیکھا ہے۔

اس پر تحقیق کرنے والے ایک اور ماہر ڈاکٹر جوناتھن روئز نے کمپیوٹرٹوموگرافی سے کئی افراد کی گردن کا جائزہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ گردن کے مختلف مقامات پر جمع چربی کا جائزہ لیا ہے۔ بالخصوص مردوں کی گردن میں جمع چربی کا تعلق دل کے افعال سے جوڑا گیا ہے اور اس ضمن میں واضح شواہد ملے ہیں۔

گردن کی چربی سے بالغان میں ایسے بایومارکر بھی دیکھے گئے ہیں جو دل کی متوقع یا مستقبل میں ممکنہ بیماری کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

ہائی بلڈپریشر دماغ کو متاثر کرسکتا ہے

برازیل: خواہ آپ درمیانی عمر کے ہوں یا پھر بزرگوں میں شامل ہیں، اگر کم دورانئے کا ہائی بلڈ پریشر بھی لاحق ہوجائے تو اس سے دماغی اور اکتسابی صلاحیت میں کمی کا عمل تیز تر ہوسکتا ہے

ہائپرٹینشن نامی جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بلند فشارِخون (ہائی بلڈ پریشر) سے دماغٰی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں لیکن اگرعمر کے کسی بھی حصے میں یہ عارضہ کم وقفے کے لیے لاحق ہوجائے تو اس سے سے دماغ اور اس کے افعال متاثر ہونے کا سلسلہ تیز ہوجاتا ہے۔

خواہ بلڈ پریشر کا رحجان درمیانی عمر سے شروع ہو یا پھر بڑھاپے میں حملہ آور ہو اس سے اکتسابی نقصان یکساں ہوتا ہے۔ اس بات کا انکشاف سینڈی بریٹو نے کیا ہے جو برازیل میں واقع فیڈرل میناس گریس یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ ان کی تحقیق مزید بتاتی ہے کہ اگر بلڈ پریشر کو کسی طرح قابو کرلیا جائے تو اس نقصان کو بچایا جاسکتا ہے۔ اس سے بلڈ پریشر کی بروقت تشخیص اور علاج کی ضرورت مزید واضح ہوتی ہے۔

ڈاکٹر بریٹو اور ان کے ساتھیوں نے پورے برازیل میں سات ہزار ایسے افراد کا جائزہ لیا جن کی اوسط عمر 59 سال تھی۔ یہ سروے چار برس تک جاری رہا۔ اس مطالعے میں ایک جانب تو بلڈ پریشر نوٹ کیا گیا تو دیگر افراد کو توجہ ، ارتکاز، سوچنے اور منطق کے بعض ٹیسٹ سے گزارا گیا۔

سروے کے مطابق اوپر کے 121 سے 139 بلڈ پریشر اور نچلی سطح کے 81 سے 89 بلڈ پریشر کی شرح اگرچہ بہت ذیادہ نہیں ہوتی لیکن اس کیفیت میں مبتلا افراد کوئی دوا نہیں لے رہے تھے۔ اس صورتحال میں بھی درمیانی عمر اور بڑھاپے میں موجود شرکا کا یکساں دماغی اور اکتسابی نقصان دیکھا گیا۔

اس طرح معلوم ہوا کہ اگر بلڈ پریشر کچھ دیر کے لیے بھی بلند ہوجائے تو اس سے ذہنی اور دماغی صلاحیت متاثر ہونے کا عمل تیز تر ہوسکتا ہے۔ ان میں سے جن افراد نے اپنے بلڈ پریشر کو قابو رکھنے کی دوا کھائی ان کے مقابلے میں کوئی دوا نہ لینے والے افراد میں دماغی انحطاط تیزدیکھا گیا۔ اس تحقیق کے بعد ماہرین نے کہا ہے کہ بلڈ پریشر ہر طرح سے بہت مضر ہے اور اسے قابو کرنے کا ہر طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

سماجی علیحدگی سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، طبی ماہرین

کولمبیا: کینیڈا میں 28 ہزار سے زائد بالغ افراد پر کیے گئے ایک مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ اکیلے پن سے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہونے کا خطرہ، مردوں کی نسبت خواتین میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ بلند فشارِ خون یعنی ہائی بلڈ پریشر میں رگوں کے اندر خون کا دباؤ معمول سے بہت بڑھ جاتا ہے جو آگے چل کر فالج اور ہارٹ اٹیک سمیت کئی طرح کے امراضِ قلب اور اچانک موت کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا میں زینب حسینی کی قیادت میں کی گئی اس تحقیق میں عوامی صحت سے متعلق ایک وسیع طبّی سروے کے دوران جمع کیے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔

مطالعے میں 45 سے 85 سال کے 28,238 افراد کا ڈیٹا کھنگالا گیا جن میں مردوں اور عورتوں کی تعداد مساوی تھی۔ ڈیٹا کے تجزیئے سے معلوم ہوا کہ غیر شادی شدہ، طلاق یافتہ یا کسی بھی دوسری صورت میں اکیلی رہنے والی ایسی خواتین جن کے سماجی رابطے 85 سے کم تھے، اور جو مہینے میں دو یا دو سے کم مرتبہ تقریبات یا میل ملاقات میں شریک ہوتی تھیں، ان میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ ایسی خواتین سے زیادہ تھا جو زیادہ میل ملاپ رکھنے والی، شادی شدہ اور مختلف تقریبات میں زیادہ شریک رہنے والی تھیں۔

سماجی علیحدگی اور اکیلے پن کے ساتھ ساتھ ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بھی واضح طور پر بڑھتا دیکھا گیا۔ خواتین میں سماجی علیحدگی کے باعث موت کا امکان تقریباً سگریٹ نوشی جتنا ہی جان لیوا تھا۔ مردوں کا معاملہ اس کے برعکس رہا: شادی شدہ اور زیادہ سماجی رابطے رکھنے والے مردوں میں تنہائی پسند مردوں کے مقابلے میں ہائی بلڈ پریشر کا امکان زیادہ تھا۔

قبل ازیں ایک اور مطالعے میں یہ معلوم ہوا تھا کہ اکیلی اور کم سماجی رابطے رکھنے والی خواتین میں موٹاپے کا امکان، سماجی طور پر سرگرم عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ تازہ تحقیق بھی اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے جو ریسرچ جرنل ’’ہائپرٹینشن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔

دماغ کوصحت مند رکھنے والے مشروبات

لاہور: ہم اپنی روز مرہ کی مصروف روٹین میں سے اپنے لیے وقت نہیں نکال پاتے اور اسی میں کب ہماری صحت متاثر خراب ہوئی ہمیں اس بات کا علم بھی نہیں ہوتا۔

انار کا جوس

صحت مند رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایسی غذا کا استعمال کریں جس سے ہم جسمانی اور دماغی اعتبار سے توانا رہیں، اسی لیے آج ہم آپ کو ایسے مشروب بتانے والے ہیں جس کا استعمال کر کے آپ کی دماغی صحت بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ حافظہ بھی اچھا ہو جائیگا۔ انار اینٹی آکسیڈینٹس سے مالامال پھل ہے اور یہ آپ کے جسم میں خون کی روانی کو بہتر بناتا ہے جس کی وجہ سے دماغ میں آکسیجن کی مقدار مکمل پہنچتی ہے اور ہمارا دماغ بہتر طریقے سے کام سر انجام دیتا ہے۔

چقندر کا رس

عام طور پر ہم سلاد میں چقندر کو بلکل نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن اگر آپ اس کے فوائد جان جائیں تو اسے روز ہی استعمال کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ چقندر ایک ایسی سبزی ہے جس میں نمکیات، وٹامنز، اینٹی آکسیڈینٹس اور فائبر وافر مقدار میں پایا جاتا ہے اور اس کے جوس کو غذا میں شامل کرنے سے آپ کا مدافعتی نظام مضبوط ہو جائیگا۔ چقندر میں موجود نائٹرک ایسڈ خون کی روانی کو بہتر کرتا ہے جس سے دماغ کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔

سبز چائے

سبز چائے حافظے کو مضبوط کرنے میں بے حد معاون ثابت ہوتی ہے، اس میں موجود اینٹی آکسیڈینٹس اور امائنو ایسڈ بے چینی اور دباؤ کی کیفیت کو کم کرتے ہیں اور حافظے کی طاقت کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

طبی ماہرین کورونا ویکسین کے حصول کے قریب پہنچ گئی

لندن: برطانوی ادویہ ساز کمپنی کورونا ویکسین کی تیاری میں حتمی مراحل کے تجربات کی طرف بڑھ چکی ہے جس کے لیے دنیا بھر سے 50 ہزار اور امریکا سے 30 ہزار رضاکاروں کو شامل کیا جارہا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانوی آکسفورڈ یونیورسٹی کے تعاون سے ادویہ ساز کمپنی ‘اسٹرا زینکا’ تیسرے ٹرائل کے آخری مراحل عبور کرنے جارہی ہے، حتمی آزمائش امریکا میں ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق فائنل ٹرائل منصوبے کے لیے امریکا بھر سے 30 ہزار جبکہ دنیا بھر سے 50 ہزار رضاکاروں کو شامل کیا جارہا ہے، جن پر ممکنہ کورونا ویکسین کی آزمائش کی جائے گی، کمپنی نے امید ظاہر کی ہے کہ رواں سال کے اختتام تک حتمی طور پر تیار ویکسین دنیا کے سامنے ہوگی۔

اسٹرا زینکا ویکسین کے دیگر ٹرائلز برطانیہ، برازیل اور جنوبی افریقہ میں کرچکی ہے جبکہ اب تیسرے مرحلے کا حتمی اور اختتامی ٹرائل امریکا میں ہورہا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں رضاکار رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ ویکسین پراجیکٹ کی نگران اور آکفسورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر سارہ گل برٹ کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں ٹرائلز ہوچکے ہیں ان کے نتائج آئندہ ہفتے سامنے آجائیں گے۔ امریکا کے بعد دیگر ممالک میں بھی کورونا ویکسین کے ٹرائلز کا منصوبہ ہے جن میں جاپان اور روس شامل ہیں، مذکورہ ممالک میں بھی مہلک وائرس نے بڑی تباہی مچائی ہے۔

روس کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کے لیے کوشاں

ماسکو: روس کورونا وائرس کی پہلی ویکسین کے مضر اثرات سامنے آنے کے بعد اب دوسری ویکسین کی تیاری پر کام کر رہا ہے یہ ویکسین سائبیریا میں واقع سابق سوویت دور کے خفیہ حیاتیاتی ہتھیاروں کے ریسرچ پلانٹ میں تیار کی جارہی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق روس کا کہنا ہے کہ وہ کرونا وائرس کی پہلی ویکسین کے مضر اثرات (سائیڈ افیکٹس) سے بچاؤ کے لیے کووڈ 19 کے لیے دوسری ویکسین بنانے جارہا ہے۔ روس نے اسپوٹنک 5 نامی ویکسین لانچ کی تھی تاہم اس ویکسین کے مضر اثرات سامنے آنے پر اس پر تنقید کی جارہی تھی، اب دوسری ویکسین کا نام ایپی ویک کرونا رکھا گیا ہے۔

روسی سائنسدانوں کی ایک بڑی تعداد نے پہلی ویکسین کو انتہائی خطرناک قرار دیا تھا۔ مذکورہ ویکسین کی رجسٹریشن نہ روک پانے پر سینئر روسی سائنسداں پروفیسر الیگزنڈر چچیلن وزارت صحت کی ایتھکس کونسل سے مستعفی بھی ہوگئے تھے۔ بعد ازاں عالمی ادارہ صحت نے ویکسین پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

روس سائبیریا میں واقع سابق سوویت دور کے خفیہ حیاتیاتی ہتھیاروں کے ریسرچ پلانٹ میں ایپی ویک کرونا نامی ویکسین تیار کر رہا ہے، یہ مرکز اب دنیا کا بڑا وائرولوجی انسٹی ٹیوٹ ہے۔

برطانوی کمپنی نے دس دن میں جدید وینٹی لیٹر ایجاد کرلیا

لندن: ویکیوم کلینر بنانے والی برطانوی کمپنی نے صرف دس دن میں ایک نیا وینٹی لیٹر ایجاد کرلیا ہے جو کورونا وائرس سے شدید متاثرہ مریضوں کو طبّی امداد پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

خبروں کے مطابق، ویکیوم کلینر اور ایسی دوسری گھریلو مصنوعات بنانے والی برطانوی کمپنی ’’ڈائسن‘‘ نے دس دنوں میں ’’کووینٹ‘‘ (CoVent) کے نام سے ایک نیا وینٹی لیٹر نہ صرف ایجاد کرلیا ہے بلکہ تجارتی پیمانے پر اس کی فوری تیاری کا منصوبہ بھی بنا لیا ہے۔

یہ وینٹی لیٹر بہت ہلکا پھلکا اور مختصر ہے جسے بستر کے ساتھ رکھ کر وہ سارے کام لیے جاسکتے ہیں جو اسپتالوں میں بھاری بھرکم وینٹی لیٹرز سے لیے جاتے ہیں۔

کمپنی کے بانی اور سربراہ جیمس ڈائسن کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ ہفتہ پہلے انہیں برطانوی وزیرِاعظم بورس جونسن نے فون کرکے پوچھا کہ کیا وہ وینٹی لیٹرز فراہم کرکے وہاں کی ’’نیشنل ہیلتھ سروس‘‘ کی مدد کرسکتے ہیں؟ جس پر انہوں نے اپنی ٹیم کو نیا وینٹی لیٹر ڈیزائن کرنے میں لگا دیا، جو دس دنوں میں پیداوار کے مرحلے میں جانے کےلیے تیار ہے۔

ڈائسن کمپنی نے فوری طور پر ایسے 15,000 وینٹی لیٹرز تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جن میں سے 10 ہزار برطانوی اداروں کے سپرد کیے جائیں گے جبکہ باقی 5000 وینٹی لیٹرز دوسرے ممالک کو عطیہ کردیئے جائیں گے۔

اس وینٹی لیٹر کی فی یونٹ قیمت کیا ہوگی؟ اس کے جواب میں جیمس ڈائسن کہتے ہیں کہ فی الحال قیمت متعین کرنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ دنیا کی ہنگامی ضرورت کم سے کم وقت میں پوری کی جائے۔

واضح رہے کہ ناول کورونا وائرس ’’کووِڈ 19‘‘ کے شدید متاثرین کو سانس لینے میں انتہائی مشکل کا سامنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کےلیے وینٹی لیٹر (مصنوعی تنفس دینے والی مشین) کی ضرورت پڑتی ہے لیکن امریکا اور برطانیہ سمیت، دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں وینٹی لیٹرز کی تعداد، حالیہ ضرورت سے کہیں کم ہے۔

امید ہے کہ ڈائسن کمپنی کا یہ وینٹی لیٹر اس وائرس کے خلاف جنگ میں ہمارے لیے نئی کمک ثابت ہوگا۔

دہی کا روزانہ استعمال قوتِ مدافعت بڑھائیں

کراچی: متعدد پھل اور سبزیوں میں وٹامن سی پایا جاتا ہے جن کا استعمال کرکے قوتِ مدافعت کے نظام کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ لیکن آج ہم آپ کو دہی کا استعمال کرکے نظامِ قوتِ مدافعت کو مضبوط کرنے کے حوالے سے بتانے والے ہیں۔ دہی کا استعمال نظامِ ہاضمہ کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے لیکن اگر آپ اپنے نظامِ قوت مدافعت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے دہی بے حد مفید ثابت ہوگا۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دہی کھانے سے نظامِ قوتِ مدافعت پر مثبت نتائج مرتب ہوتے ہیں اور روزانہ دہی کھانے سے نزلا، زکام اور دیگر انفیکشنز سے بھی بچا جاسکتا ہے۔ دہی میں موجود پرو بائیوٹک مدافعت کو مضبوط کرتے ہیں جس کی وجہ جسم میں کوئی بھی بیکٹیریا آسانی سے داخل نہیں ہوسکتا۔ ماہرینِ صحت کی جانب سے تجویز کی گئی ہے کہ اپنی روزمرہ کی خوراک میں دہی کا ضرور استعمال کریں، یہ نہ صرف نظامِ قوت مدافعت کے لیے بہترین ہے بلکہ اس میں موجود کیلشیم ہڈیوں کی صحت کے لیے بھی بے حد فائدے مند سمجھا جاتا ہے۔