گاؤں کو ریچھوں سے بچانے کیلئے بھیڑیا روبوٹ نصب

ٹوکیو: جاپان کے ایک دیہی علاقوں میں خونخوار ریچھوں سے فصلوں اور انسانوں کو خطرہ لاحق تھا۔ اس کےبعد وہاں خوفناک بھیڑیوں کے دو روبوٹ لگائے گئے جس کے بعد ریچھوں کی آمدورفت کم ہوگئی ہے۔

شہر کے نواح میں یہ علاقہ بہت حد تک دیہی ہے جہاں لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ ٹاکی کاوا نامی یہ گاؤں جاپان کے شمالی جزیرے ہوکائیڈو میں واقع ہے۔ ستمبر میں یہاں مختلف اوقات میں خونخوار بھالو دیکھے گئے جس کے بعد گاؤں والوں نے مل کر دو روبوٹ بھیڑیئے خریدے جس کی شکل بہت ہولناک ہے اور اس کی آنکھوں میں سرخ روشنیاں لگی ہیں۔

مختلف اشاعتی اداروں نے خبر دی ہے کہ گزشتہ پانچ برس میں یہاں ریچھوں کی آمدورفت بڑھ گئی ہے۔ صرف سال 2020 میں ہی ریچھوں کی جانب سے ایک درجن حملے ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ ان حملوں میں اب تک دو افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں۔ اس کے بعد حکومتی ادارے حرکت میں آئے اور ستمبر کے آخر میں ایک میٹنگ منعقد کی گئی۔

روبوٹ بھیڑیئے کی چار ٹانگیں ہیں اور یہ خوفناک آنکھوں سے روشنی خارج کرکے بھیڑیئے کی طرح آواز نکالتا ہے ۔ یہ روبوٹ خود انسانوں پر بھی رعب ڈال سکتا ہے اور اب جنگلی ریچھ بھی اس سے ڈرچکے ہیں۔ اسے ایک انجینیئر اوتا سائیکی نے تیار کیا ہے جودوسال میں 70 روبوٹ فروخت کرچکےہیں۔

واضح رہے کہ جاپان میں خاص نسل کے بھیڑیئے پائے جاتے تھے۔ ایک صدی قبل بہت سے علاقوں پر ان کا راج تھا۔ حیوانات کے ماہرین کے مطابق اس سال ریچھوں کی غذا میں کمی واقع ہوئی ہے جس کی تلاش میں وہ انسانی آبادی تک جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب بہت سے علاقوں میں یہ روبوٹ نصب کئے گئے ہیں۔

برطانیہ میں لاک ڈاؤن، شہری از خود ہیئرڈریسر بن گئے

ندن: برطانیہ میں کروناوائرس کے پیش نظر نافذ العمل لاک ڈاؤن کے باعث شہری از خود ہیئر ڈریسر بن گئے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سرکاری اور نجی دفاتر سمیت دیگر تمام کاروباری مراکز بند ہیں۔ حجام کی دکانیں بند ہونے کے باعث شہری اپنے بال خود سنوار رہے ہیں۔

لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سر کے بال کاٹے اور نائی کی طرح اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شہریوں نے از خود کس طرح بال بنائے۔ سیکڑوں صارفین نے دلچسپ تبصرے بھی کیے۔

اسپین،شہری نے لاک ڈاؤن کے دوران پولیس کو چکمہ دے دیا

اسپین: ایک شہری کرونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے دوران پولیس کو چکمہ دینے کے لیے کھلونے کتے کو لے کر باہر نکل گیا اور کتے کو ٹہلانے کا ڈرامہ کرنے لگا۔

اسپین میں کرونا وائرس کے تیز رفتار پھیلاؤ کے سبب ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کا کہا گیا ہے۔ شہریوں کو صرف کام یا اسپتال جانے کے لیے اور روزمرہ اشیا کی خریداری کے لیے باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ خلاف ورزی کرنے اور بلا ضرورت باہر گھومنے والوں پر 601 یوروز سے 30 ہزار یوروز کے درمیان جرمانہ ہوسکتا ہے۔

اس دوران ایک معمولی نرمی یہ کی گئی ہے کہ پالتو کتے رکھنے والے افراد کو مختصر وقت کے لیے کتے کو لے کر باہر نکلنے اور ہوا خوری کروانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس نرمی کا فائدہ اٹھا کر ایک شخص نے کھلونے کتے کے گلے میں پٹہ ڈالا اور اسے لے کر باہر نکل گیا، اس دوران وہ کتے کو ٹہلانے کا ڈرامہ کرتا رہا تاہم جلد ہی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پولیس اس تک پہنچ گئی۔

مقامی پولیس نے مذکورہ شخص کو بغیر جرمانے کے وارننگ دے کر چھوڑ دیا۔ بعد ازاں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے پولیس نے کہا کہ یہ ایمرجنسی لوگوں کی بھلائی کے لیے ہی لگائی گئی ہے، پولیس کو دھوکہ دینے سے پہلے کامن سینس کا استعمال کریں۔ خیال رہے کہ اسپین میں اب تک کرونا وائرس کے 14 ہزار 769 مریضوں کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ جان لیوا وائرس 638 افراد کی جانیں لے چکا ہے۔ وائرس سے اب تک 1 ہزار 81 افراد صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔

کتے کا ڈرون کے ساتھ گشت

ووہان: دنیا بھر میں کرونا وائرس قہر برسا رہا ہے جس کی وجہ سے کروڑوں شہری گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ چین کے شہر ووہان سے گزشتہ برس دسمبر میں پھیلنے والے مہلک وائرس کو عالمی ادارہ صحت نے کووڈ 19 کا نام دیا اور جب صورت حال گھمبیر ہوگئی تو اس وائرس کو وبا قرار دیا۔

آج تک کی اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے دس ہزار سے زائد مریض موت کے منہ میں جاچکے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد بھی بڑھ کر تقریباً 2 لاکھ 46 ہزار سے تجاوز کرچکی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے یورپ کو کرونا وائرس کا مرکز قرار دیا، جہاں عالمگیر وبا نے تباہی مچادی ہے اور صرف اٹلی میں ہی 3400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

اس سے قبل چین میں کرونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں البتہ گزشتہ پانچ روز سے اٹلی میں خوفناک صورت حال دیکھنے میں آرہی ہے۔ دنیا کے تقریبا تمام ہی ممالک نے اپنے عوام کو وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔ امریکا، برطانیہ، یورپ، خلیجی اور مشرقِ وسطیٰ سمیت تمام ہی ممالک کی حکومتوں نے مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن کیا ہے تاکہ عوام کرونا سے محفوظ رہ سکیں اور بیماری پر قابو پایا جاسکے۔

ترک اور فلسطین کے وسط میں واقع ملک قبرص میں بھی لاک ڈاؤن ہے اور وہاں کے شہری گھروں پر وقت گزار رہے ہیں ایسے میں پالتو جانوروں کو باہر بھیجنا بڑا چیلنج ہے۔ قبرص کے دارالحکومت نکوسیا کے شہری نے کرونا سے محفوظ رہنے کے لیے خود کو گھر تک محدود کرلیا جبکہ وہ اپنے کتے کو روزانہ باہر گلی میں بھیجتا ہے۔

کیچن میں رکھے انڈے سانپ کھا گیا، ویڈیو وائرل

نیویارک: زہریلے یا نقصان پہنچانے والے جانور دیکھ کر انسان کے اعصاب کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں تاہم ہمارے ارد گرد کچھ ایسے بہادر لوگ بھی موجود ہیں جو کسی بھی خطرے کا سامنا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

اگر کسی عقل مند شخص کو سانپ کی موجودگی کا علم ہوجائے تو وہ اُس مقام سے دور جانے میں ہی عافیت سمجھتا ہے کیونکہ اُسے یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر سانپ نے ڈس لیا تو جان جانے کا خدشہ ہے اور اگر کسی کو اژدھے کی موجودگی کا خدشہ بھی ہو تو پھر اُس جگہ سے کئی فٹ کا فاصلہ اختیار کرنا ہی بہتر سمجھا جاتا ہے۔

سانپ بڑا ہو یا معمولی اسے خوف کی علامت ہی سمجھا جاتا ہے تاہم سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیو وائرل ہوئی جس نے سب کے ہوش اڑا دیے۔

دی سن کی رپورٹ کے مطابق امریکی جوڑا جب گھر واپس آیا تو وہ خوف زدہ ہوگیا کیونکہ اُن کے باورچی خانے میں کئی فٹ لمبا خطرناک سانپ موجود تھا جو میز پر رکھے انڈے نگل رہا تھا۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کئی فٹ لمبا سیاہ سانپ انڈا نگلنے کی کوشش کررہا ہے۔

خاتون کے مطابق وہ یہ منظر دیکھ کر خوف زدہ ہوگئیں تھیں مگر پھر اُن کے شوہر نے ویڈیو ریکارڈ کرنا شروع کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ جب ہم گھر پہنچے تو سانپ کئی انڈے کھا چکا تھا۔

امریکی جوڑے نے سانپ کی موجودگی کی اطلاع پولیس کو دی جس کے بعد وہ وائلڈ لائف کے رضاکاروں کے ساتھ متعلقہ گھر پہنچے اور سانپ کو پکڑ کر چڑیا گھر منتقل کیا۔

کھلی فضا کے بجائے زیر زمین انوکھا واٹر پارک

نیوجرسی: دنیا بھر میں واٹرپارک کھلی فضا میں بنائے جاتے ہیں لیکن اب دنیا کا سب سے بڑا انڈور واٹر پارک اس ہفتے کھولا جارہا ہے جسے اینی میشن فلمیں بنانے والی کمپنی ’ڈریم ورکس‘ نے تیار کیا ہے۔

اس واٹر پارک میں رائیڈز، پھسلیاں اور دیگر تفریحی تعمیرات مشہور کرداروں کنگ فو پانڈا اور شریک سے متاثر ہوکر بنائی گئی ہیں جبکہ بچے اور بڑے ان فلموں کے کرداروں کو بھی جیتا جاگتا ہوا دیکھ سکیں گے۔

ڈریم ورکس کے مطابق یہ شمالی امریکا کا سب سے بڑا واٹر پارک ہے جسے ہر ممکن حد تک حقیقی بنایا گیا ہے۔ ڈریم ورکس واٹر پارک کی تعمیر میں ایک اور ادارہ امریکن ڈریم بھی ہے جو نیو جرسی کی ایک کمپنی ہے لیکن یہ واٹرپارک مرحلہ وار انداز میں کھولا جائے گا۔
واضح رہے کہ پورا پارک ہی شیشے سے بنی بہت بڑی عمارت کے اندر قائم کیا گیا ہے جس میں ایک دو نہیں بلکہ 40 سے زائد واٹر سلائیڈز اور رائیڈز تعمیر کی گئی ہیں۔ مڈغاسکر کا پورا بارانی جنگل یہاں تعمیر کیا گیا ہے اور شریک فلم کی مشہور دلدل بھی بنائی گئی ہے۔ اسی جگہ کنگ فو پانڈا کی مشہور جگہوں کو بھی دیکھا جاسکے گا۔

واٹر پارک کی ایک اور خاص بات پرفیکٹ سویل ہے جو ڈیڑھ ایکڑ پر پھیلا دنیا کا سب سے بڑا ایسا سوئمنگ پول ہے جہاں مشینوں کے ذریعے مصنوعی لہریں پیدا کی جاتی ہیں جبکہ ایک اور طویل ترین واٹر سلائیڈ بھی ہے جس کی اونچائی 142 فٹ کے لگ بھگ ہے۔

اسی پارک میں ’’نکلیوڈیون یونیورس‘‘ کے نام سے ایک تفریحی گوشہ بنایا گیا ہے جبکہ برف پر پھسلنے کی انڈور اسکینگ سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔

سائنسدانوں نے مصنوعی گوشت سبزیوں سے تیار کرلیا

میڈرڈ: اسپین کی اسٹارٹ اپ کمپنی ’’نووا میٹ‘‘ نے ’’اسٹیک 2.0‘‘ کے نام سے مصنوعی گوشت پیش کیا ہے جو سبزیوں سے تیار کیا گیا ہے لیکن ذائقے میں بالکل اصلی گوشت جیسا ہے جبکہ تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے اسے گوشت کے پارچوں کی شکل میں ’’چھاپا‘‘ گیا ہے۔

ترقی یافتہ مغربی ممالک میں سبزیجاتی (ویجیٹیبل) اجزاء پر مشتمل مصنوعی گوشت آج کل خاصا مقبول ہورہا ہے اور مختلف کمپنیاں اس میدان میں کام کررہی ہیں۔ نووا میٹ بھی اسی دوڑ میں شریک ہے۔

یہی کمپنی 2018 میں بھی سبزیجاتی اجزاء سے تیار کردہ مصنوعی گوشت پیش کرچکی ہے جسے مزید بہتر اور اصل گوشت سے قریب تر بنانے کےلیے تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی بھی استعمال کی گئی ہے۔

نووا میٹ کے بانی اور روحِ رواں ڈاکٹر گیوسپ اسکیونتی کہتے ہیں تھری ڈی پرنٹر سے منسلک کمپیوٹر میں پہلے ہی گوشت کے پارچوں کی درجنوں مختلف سہ جہتی ساختیں (تھری ڈی اسٹرکچرز) محفوظ کردی گئی ہیں جن کے مطابق ’’اسٹیک 2.0‘‘ چھاپا جاتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی کمپنی اس سال کے اختتام تک ’’اسٹیک 2.0‘‘ کو فروخت کےلیے پیش کردے گی جبکہ آئندہ سال سے یہ مصنوعی گوشت تیار کرنے والے تھری ڈی پرنٹروں کی تجارتی پیمانے پر تنصیب بھی شروع کردی جائے گی۔

پرنٹر سے گوشت کا ایک پارچہ 20 منٹ میں چھپ کر تیار ہوجاتا ہے جسے حقیقی گوشت کی طرح پکایا جاتا ہے۔ امید ہے کہ جب تھری ڈی پرنٹرز کی اگلی نسل دستیاب ہوگی تو ان سے صرف ایک گھنٹے میں 10 کلوگرام تک مصنوعی گوشت ’’چھاپا‘‘ جاسکے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گوشت کی ترکیب میں معمولی سی تبدیلی کرکے اس کا ذائقہ گائے، بھیڑ، بکری، مرغی اور مچھلی وغیرہ کے گوشت جیسا بھی بنایا جاسکے گا۔